بقیہ ترکے میں مورث کی طرف سے کلالہ رشتہ داروں میں سے کسی ایک کے لیے وصیت کر دی جائے تو اس کے بہن بھائیوں کو بھی وراثت میں شامل کیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو منفعت نامزد کلالہ سے متوقع ہے، وہ اسی رشتے کے دیگر افراد سے بھی متوقع ہوتی ہے۔کلالہ کے بہن بھائیوں کو شریک وراثت کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان کے دلوں میں اپنے نامزد بہن یا بھائی کے لیے کوئی رقابت یا ناگواری پیدا نہ ہو، جس سے ان کے دل آلودہ ہو جائیں۔ نیز،وصیت کرنے والے کو خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کلالہ رشتہ دار کو نامزد کرتے ہوئے کسی نا انصافی یا ضرر رسانی کا رادہ نہ کرے۔ اس کا پروردگار اس کے ہر عمل سے باخبر ہے۔ البتہ بے جانے بوجھے کوتاہی ہو جائے تو اُس کا خالق بردبار ہے، اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے ۔وہ نرم خو ہے، بندوں پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اُس کے حکموں میں اُن کے لیے سہولت ہے، تنگی اور مشقت نہیں ہے۔
کلالہ کے بہن بھائیوں کو حصہ دیتے ہوئے مردو عورت کا فرق نہیں کیا گیا، چنانچہ اگر نامزد کلالہ کا ایک بہن یا بھائی بھی ہو تو وہ ترکے کے چھٹے حصے کا وارث ہے اور اگر اس کے بہن بھائی ایک سے زائد ہوں تو وہ سب ترکے کے ایک تہائی میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔ بقیہ ترکہ نامزد کلالہ رشتہ دار کو دیا جائے گا۔
ورثا کی مضرت
تقسیم وراثت میں ورثا کی منفعت کی بنیاد ہی سے یہ جواز دستیاب ہو جاتا ہے کہ مضر یا غیر نافع ورثا کو وراثت سے محروم کر دیا جائے۔ چنانچہ مورث کا قاتل وارثت سے محروم قرار پاتا ہے۔ اس طرح مورث کو ورثا کی مضرت سے بچانے کا حکم اسی قانون کے اندر سے برآمد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مورث کو اختیار ہے وہ کسی مضر یا غیر نافع وارث کو ترکے سے عاق کردے۔
مسلم اور غیر مسلم کی وراثت
مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تقسیم وراثت کی ممانعت کی کوئی بنیاد نہیں، کیونکہ ان کی قرابت نافعہ دین و ایمان کے فرق کے باوجود جاری رہ سکتی ہے۔ عہد رسالت میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تقسیم وراثت کی ممانعت کی وجہ ان کی اذیت رسانی تھی۔ رسول کے اتمام حجت کے بعد وہ مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا دشمنی پر اتر آئے تھے۔ اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر قرابت کی منفعت ختم ہو گئی تھی۔ چنانچہ ان کے درمیان وراثت بھی ختم کرا دی گئی تھی، ایسے ہی جیسے ان کے درمیان مناکحت اور دوستی بھی ختم کرا دی گئی تھی۔
جاری۔۔۔


