رانی باجی، ہمارے ہمسائے میں اپنے امی ابا اور ایک چھوٹی بہن کے ساتھ رہا کرتی تھیں، وہ نہایت سادہ مگر، بے حد خوبصورت تھیں، دراز قد، گوری رنگت، روشن دلفریب اور نیلی آنکھیں، انداز گفتگو اس قدر باوقار تھا کہ، جو ایک بار ان سے ملتا تو ان کی سحر انگیز شخصیت کا مداح ہو جاتا، کسی کا شکوہ یا گلہ کرنا ان فطرت میں ہی نہ تھا، سبھی کے لیے خیر و برکت کی دعا گو رہا کرتی تھیں، بی اے کے بعد انہوں نے عربی فاضل کا کورس کیا ہو اتھا، اسی لیے ایک نجی اسکول بچوں کو قرآن مجید و عربی زبان کی تعلیم دیا کرتی تھیں، میں اور میری ہمشیرہ انکے پاس عربی پڑھا کرتے تھے، اپنے والد کی وفات کے بعد انہوں نے اپنے گھر کفالت کی ذمہ داری ایک بیٹے کی طرح نبھائیں، 24 سال کی عمر ہوئی تو ان کے لیے، قریبی قصبے سے ایک امیر گھرانے سے رشتہ آیا، اور انکی شادی کر دی گئی، انکی شادی کے سال بعد ہی ان کی والدہ دنیا سے رخصت ہو گئیں، یہ ان کے لیے بڑا صدمہ تھا، مگر وہ بہت باہمت تھیں اپنی کی ہوئی بچت میں سے ماں بن کر چھوٹی بہن کی شادی کروائی،
رانی باجی کی زندگی اچھی گزر رہی تھی ان کا شوہر ان سے محبت کرتا تھا ان کی زندگی میں سب کچھ تھا مگر ، ان کے نصیب میں اولاد نہ تھی، شادی کو جب پانچ سال گزر گئے تو انکی ساس ،نندوں اور حتیٰ کہ ان کے شوہر نے بھی ان کو بانجھ ہونے کے طعنے دینا شروع کردیے، وہ پروردگار کے حضور رو رو کر اپنے دل کا غبار نکال لیتی تھیں، آخر کار انہوں نے، اپنے شوہر سے کہا کہ وہ دوسری شادی کر لے، وہ بڑی دھوم دھام سے اپنے شوہر کی دوسری دلہن سجا کر لائیں، بس پھر کیا تھا کہ، رانی باجی کی زندگی کو تو جیسے دیمک ہی لگ گیا، وہ ایک ضرب المثل ہے ناں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوا کرتی ہے، دوسری عورت کے گھر آتے ہی جیسے رانی باجی پر قیامت ہی ٹوٹ پڑی۔۔۔۔ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، حد تو یہ ہوئی کہ ان کو شوہر کو ان کی دوسری بیوی نے کہا کہ تم اسے گھر سے نکال دو، شوہر کو معلوم تھا کہ رانی کا دنیا میں ایک بہن کے سوا کچھ نہیں ہے تو اس نے ان کو گھر سے تو نہ نکالا مگر ان کو گھر کے ایک کونے میں تنہا چھوڑ دیا،
میں ان سے کوئی 15 سال بعد ملا تو پہچان ہی نہیں پایا، ان کا رنگ و روپ مکمل طور پر گہنا چکا تھا، وہ ایک چلتی پھرتی لاش بن چکی تھیں، حد تو یہ کہ ان کی آنکھوں کی بینائی بھی ختم ہو چکی تھی، وہ ہاتھ میں ایک تسبیح لیے بیٹھی تھیں، ان کی یہ حالت دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا، ان سے پوچھ ہی لیا کہ یہ سب ان کے ساتھ کیوں اور کیسے ہوا۔۔۔ کیا ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ اتنا ظلم و ستم بھی کر سکتی ہے۔۔۔ ان کے جواب نے مجھے ششدر کر دیا وہ بولیں ، کہ ﷲ میرے شوہر کی *دوسری عورت* کی خیر کرے۔۔۔۔۔۔


