عمران کا کیا ہوگا؟اسرائیلی اخبار کی تشویش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو معاف کر دیں۔ مگر ٹرمپ قید میں موجود سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی قسمت پر خاموش کیوں ہیں؟ خان صاحب علیل ہیں، انہیں اپنے بیٹوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور وہ ایک ایسے وقت میں پاکستانی جیل میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی ثالثی کر کے اپنا بین الاقوامی تشخص بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
عمران خان کی مسلسل قید کو محض ‘امن و امان’ کا معاملہ قرار دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ اس میں سیاسی انتقام کے واضح آثار نظر آتے ہیں، جو نہ صرف پاکستان کے جمہوری اداروں بلکہ اس کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
خان کوئی عام سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ ایک قومی ہیرو تھے جنہوں نے 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کو فتح دلائی۔ ایک اسپورٹس ہیرو سے اصلاح پسند سیاستدان بننے کے اس سفر نے انہیں خاص طور پر نوجوانوں اور شہری ووٹروں میں ایک منفرد مقبولیت عطا کی۔ بطور وزیراعظم انہوں نے ایک ایسے ‘آؤٹ سائڈر’ (نظام سے باہر کے شخص) کا تاثر قائم کیا جو برسوں سے قابض اشرافیہ کو چیلنج کر رہا تھا۔

عمران خان کی برطرفی اور قانونی مقدمات
2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ان کی برطرفی آئینی طور پر درست تھی، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ خان کو کرپشن سے لے کر ریاستی رازوں (سائفر) تک کے متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ کسی بھی جمہوریت میں احتساب ضروری ہے، لیکن ان مقدمات کی تعداد اور وقت شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اس تاثر کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ قانونی نظام کو ایک سیاسی حریف کو راستے سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کیا خان قانون سے بالاتر ہیں،وہ یقیناً نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا قانون کا اطلاق منصفانہ اور آزادانہ طور پر ہو رہا ہے؟ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قانونی کارروائیوں میں بے ضابطگیوں، خان کی قانونی ٹیم پر پابندیوں اور میڈیا کوریج کی محدودات کی نشاندہی کی ہے۔ یہ عوامل ان کے خلاف کارروائیوں کی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں۔
مزید برآں، خان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ حامیوں کو گرفتار کیا گیا، جلسوں پر پابندی لگی اور سیاسی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں۔ یہ صورتحال اس دلیل کو تقویت دیتی ہے کہ ان کی قید انصاف کی فراہمی کے بجائے اپوزیشن کو دبانے کی ایک منظم کوشش ہے۔

سیاسی عدم استحکام اور ناانصافی
بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں سیاسی رہنماؤں کو متنازع حالات میں جیل بھیجا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک، احتساب اور ‘سیاسی انجینئرنگ’ کے درمیان لکیر ہمیشہ دھندلی رہی ہے۔ خان کا کیس اس سلسلے کا ایک اور باب بننے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، جو استحکام کے بجائے مزید بے چینی کو جنم دے رہا ہے۔
اس کے نتائج صرف ملکی سیاست تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان کو سنگین معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جن کے لیے اتحاد اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہے۔ جب یہ تاثر پختہ ہو جائے کہ سیاسی مقابلہ بیلٹ بکس کے بجائے عدالتوں میں طے کیا جا رہا ہے، تو نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال ان بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی پیچیدہ بناتی ہے جو قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کو ترجیح دیتے ہیں۔
عمران خان کو رہا کرنے کا مطلب،خواہ وہ ضمانت، بریت یا شفاف قانونی عمل کے ذریعے ہو،ان کی پالیسیوں کی توثیق یا ان کے مبینہ غلط اقدامات سے درگزر کرنا نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ انصاف اور اداروں کی سالمیت کے عزم کا اظہار ہوگا۔ اگر ریاست کے پاس ان کے خلاف مضبوط شواہد ہیں، تو انہیں ایک کھلے اور معتبر عدالتی عمل میں ثابت کرنا چاہیے۔
آخر میں، جمہوریتوں کو اس بات سے نہیں پرکھا جاتا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہیں، بلکہ اس سے کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ کیا برتاؤ رکھتی ہیں۔ پاکستان کو اب ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے۔ عمران خان کو متنازع حالات میں قید رکھنے سے سیاسی خلیج گہری اور ملک کا جمہوری ڈھانچہ مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ شفاف طریقے سے قانون کو اپنا راستہ بنانے دینا ہی نہ صرف خان کے مفاد میں ہے، بلکہ پاکستان کے مفاد میں بھی ہے۔

یہ یروشلم پوسٹ (The Jerusalem Post) میں شائع ہونے والے کالم کا اردو ترجمہ ہے:

تحریر: مائیکل جنکیلووٹز (16 اپریل 2026

اپنا تبصرہ لکھیں