ملتان میں ہلاکو خان کے پوتے کا مقبرہ حقیقت یا کہانی؟-ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

سب سے پہلے ملتان کے مشہور گائیڈ عامر بشیر عرف بانکے میاں کی تحریر دیکھیں۔

حضرت شاہ شمس جو سبزوار میں مقیم تھے اپنے والد کے قتل کے بعد بغداد آ گئے جہاں اس وقت ہلاکو خان کے بیٹے ”احمد تکودار” کی حکمرانی تھی جو اسلام قبول کر چکا تھا۔
بغداد میں اس وقت کے علماء اپ کے عقائد کے خلاف ہو گئے اور اسی اختلاف کے پیش نظر #احمد_تکودار نے ان کو شہر بدر کر دیا ۔احمد تکودار حضرت کا عقیدت مند بھی تھا اور ان کو تکلیف پہنچاتے ہوئے ڈرتا بھی تھا لیکن مخالف علماء نے اس کو یقین دلایا کہ کوئی مصیبت نہیں آئے گی اور شاہ شمس کو بغداد سے نکلوا دیا ۔
شاہ شمس کاظمین چلے چلے گئے لیکن چند دنوں بعد احمد تکودار کا بیٹا انتقال کر گیا ۔احمد تکودار نے تمام علماء کو حکم دیا کہ وہ فوراً حضرت سے معذرت کریں، شاید یہ ممکن ہو کہ میرا شہزادہ دوبارہ زندہ ہو جائے۔
علماء نے شاہ شمس سے معافی مانگی اور ان کو دوبارہ بغداد لے آئے۔ پھر شاہ شمس نے رب تعالیٰ سے دعا کی اور وہ شہزادہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو گیا جس پر لوگوں نے ان پر کفر کے فتوے لگا دیے جس پر شاہ شمس نے پھر ہندوستان جانے کا ارادہ کیا۔
احمد تکودار کا بیٹا جو شاہ شمس کا عقیدت مند ہو چکا تھا وہ بھی ان کے ساتھ ہندوستان آ گیا جس کا نام محمد تکودار تھا ۔
دونوں مرید و مرشد ملتان پہنچے تو یہاں ایک کہرام مچ گیا۔ ان پر پتھر برسائے گئے نیز کھانا بھی بند کر دیا گیا۔ بھوک پیاس سے شہزادے کی حالت بہت بری ہو گئی۔ اسی وقت شاہ شمس کی کرامت سے جنگل سے ایک ہرنی برآمد ہوئی۔
اس کو ذبح کر کے تھوڑا سا گوشت نکالا گیا اور حضرت نے شہزادے محمد نکودار کو کہا کہ شہر جا کر کسی سے آگ مانگ لاؤ تاکہ گوشت پکایا جا سکے۔ لیکن شہر میں کسی نے انہیں آگ نہ دی بلکہ ایک شخص نے شہزادے محمد تکودار کے چہرے پر گرم تیل کا چمچہ دے مارا۔
شہزادہ مضطرب حالت میں شاہ شمس کے پاس آیا اور پھر سورج کے نیچے آنے اور گوشت بھوننے والی داستان وقوع پذیر ہوئی جو آج بھی مشہور ہے۔ اور اسی واقعے کے بعد شہر ملتان نے حضرت اور شہزادے کو ملتان میں پناہ دی۔
ہلاکو خان کا پوتا محمد تکودار شاہ شمس کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ہی دنیا سے کوچ کر گیا اور مقبرہ شاہ شمس کے مشرق میں قبرستان حاجی بغدادی میں دفن ہوا ۔شہزادے #محمد_تکودار کو #حاجی_بغدادی بھی کہا جاتا ہے اور یہ قبرستان بھی انہی کے نام سے ہے۔
حضرت شاہ شمس کے بہت سے عقیدت مند جن کو ان کے بارے میں علم ہے وہ یہاں بھی فاتحہ پڑھنے آتے ہیں لیکن بہت سے ملتانیوں کو اس بارے معلوم نہیں کہ ایک منگول شہزادے ہلاکو خان کے پوتے کی قبر ملتان میں ہے۔

حوالہ جات
ارمغان ملتان
ملتان تاریخ کے ائینے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں جی۔۔ہر کسی کا تاریخ کو دیکھنے کا اپنا الگ نظریہ ہے۔
پاکستان میں موجود بہت سے مقامات کی تاریخ کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ اس میں کیا سچ ہے اور کیا مُبالغہ یہ کہنا مشکل ہے۔ اوپر بیان کی گئی داستان سچی ہے یا جھوٹی یہ بتانا مشکل ہے ہاں اگر حقائق کو دیکھیں تو کچھ چیزیں سامنے آتی ہیں۔

سب سے پہلے تو قبر کے کتبے پر لکھا نام غلط ہے۔ یہ محمد نکوداری نہیں بلکہ ”محمد تکودار“ ہے جو سلطان احمد تکودار کا بیٹا تھا۔ سلطان احمد، #ہلاکو_خان کی اولاد میں سے مسلمان ہونے والا پہلا لڑکا تھا۔

، تذکرہ اولیاء ملتان کے مطابق

ا”پنے والد حضرت سید صلاح الدین کو ان کے عقائد کی وجہ سے قتل کر دینے کے بعد شمس الدین سبزواری ہجرت پر مجبور ہو گئے اور بغداد چلے آئے جہاں خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد طوائف الملوکی عام ہو چکی تھی۔
اِن دنوں احمد تکودار فرمانروائے #عراق تھا۔ بغداد میں علمائے وقت کو آپ کے شیعہ عقائد سے اختلافات ہو گیا، چنانچہ علمائے وقت کے اس اختلاف کے پیش نظر احمد تکودار شاہ عراق نے شاہی حکم کے تحت انھیں شہر بدر کر دیا۔ بغداد کے بعد #کاظمین چلے آئے اور کچھ عرصہ قیام کرکے ہندوستان کی سرحد سے داخل ہوتے ہوئے 664ھ کے اختتام/1266ء میں #ملتان پہنچے۔
ملتان میں اسماعیلیوں کا اقتدار کئی برس تک رہا تھا، اگرچہ جن دنوں حضرت سید شمس الدین سبزواری ملتان آئے، تب تک اسماعیلی حکومت ختم ہو چکی تھی لیکن پھر بھی اعتقادی کشش یہاں باقی تھی۔ آپ کی کوششوں سے ہزاروں ہندو گھرانے شیعہ اعتقاد کو قبول کرتے ہوئے مسلمان ہو گئے“۔

اب یہاں احمد نکودار کے کسی بیٹے کے ملتان ساتھ آنے کا ذکر نہیں ہے۔

ملتان، جسے “مدینۃ الاولیاء” کہا جاتا ہے، میں کئی بزرگان دین کے مزارات ایسے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ وسط ایشیا یا بغداد سے آئے تھے۔
سو یہ امکان بھی موجود ہے کہ حاجی بغدادی بغداد سے تشریف لائے کوئی اللہ والے ہوں اور محمد تکوراد ممکنہ طور پر تکودار سے منسوب نام کی مقامی بگڑی ہوئی شکل ہو۔
بعد میں عوامی عقیدت نے اسے کسی بڑے بادشاہ کے خاندان سے جوڑ دیا ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں