مشعال خان نے گھر واپسی کے لیے بیگ تیار کیا، کپڑے سمیٹے اور رختِ سفر باندھ لیا، مگر گھر جانا نصیب نہیں تھا۔ مذہبی درندوں کا مشتعل ہجوم دندناتا ہوا آیا اور مشعال خان کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی گھاٹ اتار دیا۔
جب اس کی لاش گھر پہنچی اور اس کی ماں نے اس کے ہاتھ چومنے چاہے تو اس کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ میں نہیں جانتا کہ ماں کا کلیجہ کیوں نہیں پھٹا، یا ایک بڑا ہارٹ اٹیک آنے سے اس کی جان کیوں نہیں نکلی۔
مشعال جیسے حریتِ فکر کے نمائندہ نوجوان، رجعت پسندی کے انتہا پسندانہ عناصر کی نذر ہو گئے، لیکن مظلومیت کی علامت بن گئے۔ مشعال خان قتل ہونے کے بعد سے علامتی زندگی جی رہا ہے اور مسلسل مر رہا ہے۔
اس کے بعد جتنے بھی مذہبی درندگی کا شکار ہوئے، ان کے ساتھ ساتھ مشعال خان بھی ہر بار مرتا رہا اور اس کی لاش تڑپتی رہی۔ کاش کہ ایسا ہوتا کہ مشعال خان آخری ہوتا، یا اس کا لہو بقیہ سب مختلف الخیال رکھنے والوں کی زندگیوں کا کفارہ بن جاتا۔
لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، مذہبی درندگی اور متشدد عناصر میں اضافہ ہوتا گیا، اور نہ جانے کتنے مشعال خان بے موت مرتے رہے، اور کتنی ماؤں نے جب بیٹوں کی لاش کو چومنے کے لیے ہونٹ بڑھائے تو وہ اپنے پیاروں کا لمس نہ پا سکیں۔
میاں چنوں کا مشتاق احمد، جس سے متعلق سب جانتے تھے کہ اس کا ذہنی توازن بگاڑ کا شکار ہے اور وہ ہوش و حواس سے عاری ہے۔ ایسے لوگوں سے متعلق رسولِ خدا نے بھی کہا ہے کہ ان سے حساب نہیں لیا جائے گا، کیونکہ مجنون سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے۔
مشتاق احمد کی ذہنی صحت کا بگاڑ، جو اسے سب کے لیے قابلِ رحم بناتا تھا، کون جانتا تھا کہ یہی اس کے بہیمانہ قتل کا سبب بنے گا، اور اسے مسجد کے اندر نمازیوں کا مشتعل ہجوم قتل کر دے گا۔
درندوں کی اس بھیڑ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو اس بات کا پاس رکھتا کہ اسی مسجد کی الماری میں پڑے قرآن میں لکھا ہے کہ : “ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔”
کتنے مشتاق احمد، کتنے مشعال خان، کتنے سلمان تاثیر، کتنے ڈاکٹر شاہ نواز، جنہیں یہ مشتعل ہجوم درندوں کی طرح نگل گیا۔ کوئی کس کا نوحہ لکھے، کس کس مظلوم کی کہانی سنائے، کس کس ماں کا دکھ روئے؟
یہاں تو ہر شاخ پہ لہو بکھرا ہے، ہر پتّا بے گناہوں کے خون میں ڈوبا ہوا ہے، اور داد رسی کرنے والا کوئی بھی نہیں۔
کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اس ظالم ہجوم کی خبر لے سکے، انہیں گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالے کہ تم قاتل ہو، درندے ہو۔
مذہبی کارڈ کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے؟ ایس ایچ او سے لے کر جج تک، سب ہجوم کے اشتعال سے خوف زدہ ہیں، اور کوئی بھی قانون کو اس کا کام نہیں کرنے دیتا۔ یہ مذہبی غنڈہ گردی کی انتہا ہے۔
سنہ 2023 میں ننکانہ صاحب جیسے شہر میں، جہاں نانک پریم اور صلح کل کے گیت گاتا تھا، محمد وارث پر توہین کے الزام کے سبب ہجوم نے اسے تھانے سے نکال کر قتل کر دیا۔
تھانہ، جس کی بنیادی ذمہ داری ریاستی رِٹ کو قائم کرنا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے، اس کے اندر ایک ہجوم امڈ آتا ہے اور قانون کو رگیدتا ہوا محمد وارث کا غیر قانونی قتل کر دیتا ہے، اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔
پولیس، جو کئی بار ایسے ملزمان کے قتل میں خود شامل ہوتی ہے، بجائے اس کے کہ ملزم پر قانونی کارروائی کے عمل کو یقینی بنائے اور انصاف کے عمل کو بروئے کار لانے میں اسے موقع دے، خود اس انتہا پسندی کا حصہ بن جاتی ہے۔
کئی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں توہین کے ملزم کو کوئی پولیس اہلکار قتل کر دیتا ہے۔ انتہا پسندی کے عناصر اب ہجوم سے نکل کر ریاستی اداروں میں بھی اپنی جگہ بنا چکے ہیں، اور ریاست کا کردار خاموش تماشائی کا ہے۔
یہاں اپنے ہی ملک کی شاہراہوں پر اور گلیوں میں ہم یہ خوش فہمی نہیں رکھ سکتے کہ کوئی مذہبی درندوں کی بھیڑ کسی پر حملہ آور ہوگی تو ریاست اس کو تحفظ اور انصاف فراہم کر سکے گی۔
وہ ہجوم کے ہاتھوں بچ گیا تو جیل کے اندر کسی پولیس اہلکار کے جنون کی بھینٹ چڑھ جائے گا، یا ہجوم اسے وہاں سے گھسیٹ کر نکالے گا اور ریاستی اداروں کے سامنے اسے آگ لگا دے گا۔
وہاں سے بھی بچ گیا تو ساری عمر جیل کی سلاخوں میں تڑپ تڑپ کر گزار دے گا۔
نہ کوئی وکیل اس کا مقدمہ لڑنے کی حامی بھرے گا، نہ کوئی جج قانونی تقاضوں کے مطابق اسے انصاف دینے کی ہمت کرے گا، کیونکہ اگر وہ اس کی بے گناہی ثابت ہونے پر اس کی رہائی کا فیصلہ کرے گا تو جج کی اپنی زندگی بھی غیر محفوظ ہوگی، اور متاثرہ شخص بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
نہ جانے کب ہجوم پلٹے اور اس کے گھر کو آگ لگا دے، یا کوئی ایک زومبی آئے اور اس کے سر کو تن سے جدا کر کے اپنے سچے عشق کا واضح ثبوت دے کر ہیرو بن جائے۔
اور نہ ہی کوئی بھرے بازار میں اس کی حمایت کا اعلان کر سکے گا۔ یہ اس کے لیے “آ بیل مجھے مار” کے مترادف ہوگا۔ اسی حمایت کی ہی تو پاداش میں سلمان تاثیر کا بہیمانہ قتل کیا گیا۔
اور ایسے مقدمات لینے والے وکیلوں کو کس اذیت اور عدمِ تحفظ کا سامنا ہوتا ہے، یہ الگ کہانی ہے۔ آخر وہ درندوں کی اس بھیڑ کو کیسے سمجھائیں کہ جیسے قتل کے ملزم کا مقدمہ لڑنے سے انسان قاتل نہیں ہو جاتا، ایسے ہی توہین کے ملزم کا مقدمہ لڑ کر اگر کوئی بھی وکیل اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کر رہا ہے تو وہ گستاخ نہیں ہو جاتا۔
کتنی بدترین ہوگی وہ قوم جو اپنے مقدسات کا احترام طاقت کے زور پر کرواتی ہے، اور کتنی درندگی ہے اس قوم میں جو اپنے مقدسات کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔
اس سے گھناؤنی حرکت کیا ہوگی کہ ذاتی عناد اور منافرت کو توہینِ مذہب کے پردوں میں لپیٹا جائے، اپنی دھاک بٹھانے کے لیے مذہبی کارڈ کھیلا جائے۔
یہ خدا پرستی نہیں ہے، یہ غنڈہ گردی ہے، اور حیوانیت کی بدترین مثال ہے۔
یہ تخریبی بھیڑ اس حقیقت کو جاننے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی کہ طاقت خوف تو پیدا کرتی ہے، احترام نہیں۔ آپ اپنے متشدد رویوں سے خوف تو پھیلا سکتے ہیں، لیکن اپنے مقدسات کا احترام پیدا نہیں کر سکتے۔
بلکہ یہ ایسی کوشش ہے جو ان کی تقدیس پر کیچڑ اچھالنے جیسی ہے۔
یہ متشدد ہجوم اپنے ظالمانہ رویوں سے اپنے ہی مقدسات کا قد چھوٹا کر رہے ہیں۔
یوں ایک مذہبی احترام کا احساس، ایک بازاری بھیڑ کے غصے کی نذر ہو گیا ہے۔
مذہبی غنڈہ گردی اور درندگی کا یہ پورا منظرنامہ ایسی دلدل ہے جس میں ہمارا سماج بری طرح سے دھنس چکا ہے۔ یہ ایسی آگ ہے جو کچے اور پکے سب مکان راکھ کر دے گی۔
کیا اقلیت اور کیا اکثریت، سب اس کی لپیٹ میں آئیں گے، اور یہ آگ ایسی بے رحم ہے کہ درندوں کی اس بھیڑ کو بھی نہیں بخشے گی۔
یہ ایسا خنجر تو ہے ہی جو پوری انسانیت کو کاٹ رہا ہے، لیکن اس کی دھار دو طرفہ ہے۔ اس کے شر سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے جو اسے پکڑ کر سر تن سے جدا کرنے کے نعرے لگاتے ہیں۔
حال ہی میں بہت سے مذہبی علما پر بھی توہین کے الزام لگ چکے ہیں، اور ابھی نہ جانے یہ اونٹ کس کس کروٹ بیٹھے گا۔
ایک مسلمان کلمہ گو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اپنی کسی بھی مقدس ہستی، یا بالخصوص رسالت مآب کی شخصیت، یا قرآن پاک سے متعلق کوئی بھی نازیبا بات کہے گا۔
لیکن اس کے باوجود بھی توہین کے کیسز کے اکثر متاثرین خود مسلمان ہی ہیں، جو جیل کی بند سلاخوں میں اپنی بے گناہی کا رونا رو رہے ہیں۔
اور ایک ایسی ریاست، جس میں نوے فیصد آبادی مسلمانوں کی ہو، اور مسلمان بھی وہ جو اپنے تعصب، تشدد اور درندگی میں اپنی مثال آپ ہیں، وہاں کوئی بھی غیر مسلم ان کے مقدسات کی توہین کی جسارت کیسے کر سکتا ہے؟
ہاں، اگر کوئی ایسی جرأت کرتا بھی ہے تو اس کے لیے قانون، عدالت اور سزا کا پورا ایک نظام موجود ہے۔
بھیڑ کو قانون ہاتھ میں لینے، ماورائے عدالت قتل کرنے، ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ یہ ایسا گھناؤنا فعل ہے جو نہ دنیا کی کسی عدالت میں قابلِ معافی ہے، اور نہ ہی خدا کی عدالت میں۔
اس درندگی کے فروغ میں ممبر اور ریاست کا بنیادی کردار ہے۔
ممبر، جس نے نفرت کا یہ بیج بویا، اور ریاست، جس نے اس بیج کو پھلنے پھولنے کے لیے وافر مقدار میں کھلی فضا مہیا کی۔
آج جب یہ تناور درخت بن چکا ہے تو جب تک اسے جڑ سے نہ اکھاڑا گیا، انسانیت اسی طرح بہیمانہ قتلِ عام کی زد میں رہے گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اسے جڑ سے اکھاڑے گا کون؟
کیا ممبر خود کو ڈی ریڈیکل کر سکے گا اور ریاست اپنی قانونی رِٹ قائم کر کے ملزمین کو انصاف پہنچا سکے گی؟
یا مشعال خان یونہی ہر روز مرتا رہے گا؟


