ہمیشہ سے سنا ہے کہ موقع محل کی مناسبت سے کپڑے پہننے چاہیے اور ہم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی شادی بیاہ کا موقع ہو تو زرق برق لباس جبکہ کام کی جگہ پر مختلف ڈریس ہوتا ہے اور عام روزمرہ کی زندگی میں یا کہیں نارمل آنے جانے کے لیۓ کیثئول ویئر کا استعمال ہوتا ہے حتٰی کہ گھر میں پہننے والے کپڑے بھی علیحدہ ہوتے ہیں یعنی ہماری وارڈروب میں ہر طرح کے لباس موجود ہوتے ہیں۔ لباس ہماری شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے کسی سے پہلی بار مل رہے ہوں تو سب سے پہلے آپ کے لباس اور آپ کی ظاہری وضع قطع سے ہی دوسرے پر امپریشن پڑتا ہے اگلا مرحلہ خوش اخلاقی اور بات چیت کا ہوتا ہے۔ یہ بات ہر شخص کے لیے خواہ مرد ہو یا عورت اہمیت کا حامل ہوتی ہے اور اس امر کے اہمیت اور ضرورت میں تب زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے جب وہ شخص پبلک فگر ہو مثلاً کوئی کمیونٹی ایکٹوسٹ، سیاست دان، ایکٹرز سنگرز یا کوئی مشہور جرنلسٹ، ایسے افراد کو اپنی وضع قطع اور موقع محل کے مطابق ڈریس اپ ہونے کا شعور ہونا بہت ضروری ہے۔حال ہی میں پاکستان میں ہونے والے بین الاقوامی امن مذاکرات میں ایک خاتون جرنلسٹ کے لباس پر عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی گئی۔ اگر شخصی آزادی کے حوالے سے بات کی جائے تو کسی کو بھی کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جائے خاص طور پر تب جب وہ ایک خاتون ہو۔ مگر ہمارے معاشرے میں ہمیشہ خواتین کے لباس کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے مرد خواہ کسی بھی طرح کے کپڑے پہن کر ا جائیں بھلے وہ میلے کچیلے ہوں کف اور کالر گندے ہوں اکثر مرد حضرات ایک ہی سوٹ کھونٹی پر لگا ہوا اتار کر بغیر اس طرح کیۓ پہن لیتے ہیں اور ان کے سوٹ کی جیکٹ کے پیچھے کھونٹی کے کونے کا نشان صاف دکھائی دیتا ہے اس کے علاوہ اس میں سے مہینوں کیا سالوں کی بدبو بھی آ رہی ہوتی ہے۔ لیکن آج تک نہیں سنا کہ کبھی کسی خاتون نے کسی مرد کے کپڑوں کی ہنسی اڑائی ہو حالانکہ یہ سب باتیں خواتین نوٹ کرتی ہیں۔ خیر یہ تو بات تھی مرد اور خواتین کی برابری کے حوالے سے کہ عورتوں کے ساتھ لا تعداد معاملات میں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ بات چاہے پروفیشنلزم کی ہو یا روز مرہ زندگی کی اخلاقیات کا بوجھ عورت کے کندھوں پر ہی نہیں ہونا چاہیے اس کی ذمہ داری مرد اور عورت دونوں پر عائد ہوتی ہے۔
کسی بھی موقع کے لیے کپڑوں کا انتخاب آپ کی ذاتی پسند ناپسند پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ مگر جب معاملہ پروفیشن کا ہو اور بین الاقوامی سطح پر آپ اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں تو قومی وقار کا خیال رکھنا نہایت اہم ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہونے والی امن کانفرنس میں ایک مسلمان خاتون صحافی کے لیے ماڈرن مگر موڈیسٹ لباس زیب تن کرنا مناسب ٹھہرتا۔ یہ قطعی لازم نہیں ، کوئی مخصوص قاعدہ نہیں کہ ان کو شلوار قمیض پہننا چاہیے تھی یا ایک ایرانی جرنلسٹ کی طرح برقعے میں رپورٹنگ کرنی چاہیے تھی۔ پاکیزگی کسی ایک مخصوص لباس کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتی یعنی اگر پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض ہے یا فرض کریں ساڑھی ہو تو اس کو بھی اگر پاکیزہ طریقے سے نہ پہنا جائے تو وہ بھی فحش معلوم ہوتا ہے جو کہ ہم اکثر سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ سٹیج کی اداکارائیں شلوار قمیض بھی یوں پہنتی ہیں کہ انگ انگ چھلک رہا ہوتا ہے۔ فارمل سوٹ جو بین الاقوامی سطح پر آفس ویئر یا پروفیشنل لباس کی حیثیت رکھتا ہے مثلا ٹراؤزر کے ساتھ اچھا بند گلے والا بلاؤز اور بلیزر یا پھر کوئی لانگ سکرٹ کے ساتھ بلاؤز اور گلے میں میچنگ سکارف پروفیشنل بھی لگتا اور موڈسٹ بھی اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت گریس فل بھی دکھائی دیتا۔ اور رپورٹنگ کے دوران چلنے پھرنے میں بھی آسانی رہتی۔ تمام انگلش چینلز پر خواتین جرنلسٹ انگلش کپڑے ہی پہنتی ہیں مگر ان میں کبھی کوئی خامی دکھائی نہیں دی گئی وہ سب ڈھکے چھپے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ پبلک فگرز ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں اور توجہ حاصل کرنے کے لیے خواہ وہ منفی ہی کیوں نہ ہو کسی بھی طرح کے ڈریس پہن لیں گے اور ایسی باتوں کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ کیا ہے نا کہ “بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔”
مگر اس ساری تنقید کے علاوہ کسی بھی پروفیشنل کے لباس کو اس کے کام سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے یعنی اس کے پروفیشنل ورک اور رپورٹنگ پر توجہ کرنی چاہیے تھی۔ اس معاملے پر ملک بھر
کے عوام نے سوشل میڈیا پر اس خاتون جرنلسٹ کی ٹرولنگ اس حد تک کی کہ وہ تنقید سے بڑھ کر کردار کشی اور گھٹیا جنسی ریمارکس کی حد تک پہنچ گئی۔ جو کہ سراسر ہراسمنٹ تھی۔ ہمارے ملک کے عوام الناس کی نظر، سوچ اور زبان اس قدر غلیظ ہو چکی ہے دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔جس وقت یہ امن کانفرنس اسلام آباد میں ہو رہی تھی تو پوری دنیا کے ممالک اور عوام دھڑکتے دل کے ساتھ ان مذاکرات کے مثبت نتائج کا انتظار اور دعا کر رہے تھے مگر اس وقت پاکستانی عوام اس خاتون جرنلسٹ کے کپڑوں کو چیر پھاڑ رہی تھی۔ ملک میں غربت کے باوجود ہر شخص کے پاس سمارٹ فون ہے اور سوشل میڈیا پر ہر طرح کے کنٹینٹ کی وجہ سے زیادہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو منفی مواد دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں جنسی بےراہ روی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ غربت کی وجہ سے معاشرے میں گھٹن بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کسی کے اچھے کام کی ویڈیو تو بہت شارٹ ٹرم چلتی ہے مگر کوئی ایسی ویسی ویڈیو لیک ہو جائے تو وہ فورا وائرل ہو جاتی ہے اور ہفتوں تک اس کو دیکھ کر اور دوستوں یاروں کو دکھا کر اس کے مزے لیے جاتے ہیں۔ پچھلا پورا ہفتہ اس خاتون صحافی کے زاویے ناپنے میں گزرا۔ بس ہماری قوم کو کسی نہ کسی ایسی ایکٹیوٹی میں انگیج رہنا ہے۔ جس کسی شخص نے ان کے پیچھے سے فوٹو لے کر پوسٹ کی وہ یقینا اس کا کولیگ تھا اور حسد کی وجہ سے اس کے خلاف ہراسمنٹ کی کیمپین چلائی گئی یہ ایک ڈیجیٹل سیفٹی ایشو ہے اور کبھی کبھار بولڈ پروفیشنل خواتین کو خاموش کرانے اور ان کی حوصلہ شکنی کے لیے کے لیے ایسے گھٹیا ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ ڈیجیٹل سیفٹی قوانین بنائے جائیں اور ان پر سختی سے عمل درامد کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کا مائنڈ سیٹ امپروو کرنا اور ان کی اصلاح کرنا بہت ضروری ہے۔ بحیثیت خاتون میں یہ سمجھتی ہوں کہ لباس جدید ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت کا آئینہ دار بھی ہو اور باوقار بھی ہو۔ اور افس کی جگہ پر اپنے پروفیشن میں بھلے ثقافی لباس نہ پہنیں مگر اپ کا وقار اور عزت اسی میں ہے کہ اپ دعوت نظارہ نہیں بلکہ باوقار اور گریس فل نظر آئیں ۔


