پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیوں میں اضافےلیوی میں اضافہ کر کے حکومت کی آمدنی میں اضافہ/اطہر شریف

عالمی سطح پر تیل کے مستحکم رجحانات کے باوجود نئی قیمتوں کا تعین ڈیزل کو 380.2 روپے اور پیٹرول کی قیمت 393.4 روپے پر رکھتا ہے، آئی ایم ایف سے منسلک ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے گھریلو ایندھن کا بوجھ بڑھتا ہے۔ پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 27 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا کیونکہ لیوی میں اضافے سے ایندھن کی قیمت میں اضافہ

پیٹرولیم مصنوعات قیمتیں حکومتی ٹیکس اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن میں اضافے کی وجہ سے بڑھائی گئیں، پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری لاگت میں کمی کے باوجود حکومت نے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں 26 روپے77 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا، اگر پیٹرول پر لیوی ٹیکس اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن نہ بڑھایا جاتا تو قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونا تھا۔
پاکستان میں اس مہنگائی کے طوفان کے موقع پر بجائے ریلیف دینے کے ٹیکس اور لیوی کو 84 روپے مارچ کے مہینہ میں لیوی کی شرح کو منجمند کر کے ریلیف دینے کے الٹا اضافہ کرتے ہوئے اپنی ٹیکس آمدنی کو بڑھاتے ہوئے 107.38 روپے تک لے گئے
اور مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 18 اپریل کے بعد ایک ہفتے میں 3 روپے 44 پیسے اور اسی دوران پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر کم ہوئی مگر حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتیں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بڑھا دیں۔ فرانس اور دیگر ممالک نے اپنی عوام کی سہولت کے لئے پیٹرولیم مضوعات پر عائد ٹیکس کی شرح کم دی یا اسی سطح پر منجمند کر دی لیکن پاکستان حکومت نے اس موقع کو غینمت جانتے ہوئے اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کر لیا-وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے منظور کردہ نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت پیٹرول کی قیمت 366.6 روپے سے بڑھ کر 393.4 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس سے 7.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 353.42 روپے کے مقابلے میں 380.2 روپے فی لیٹر ہے، جو 7.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایڈجسٹمنٹ کے مرکز میں پیٹرولیم لیوی ہے، جسے بڑھا کر پیٹرول پر 107.4 روپے فی لیٹر کردیا گیا ہے۔ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے فریم ورک سے منسلک مالی استحکام کے اقدامات کے تحت ایندھن کے زمروں کے درمیان ٹیکس کے بوجھ کو منتقل کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں کل پیٹرولیم لیوی وصولی پہلے ہی 1.2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ 1.468 ٹریلین روپے کے سالانہ ہدف کے تقریباً 82 % فیصد کے برابر ہے۔ پیٹرول پر ٹیکس اب تقریباً 134 روپے فی لیٹر ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی، اور آب و ہوا سے متعلق چارجز شامل ہیں، جب کہ ڈیزل پر لگ بھگ 36 روپے فی لیٹر، جس میں کسٹم ڈیوٹی اور موسمیاتی معاونت کے اجزاء شامل ہیں، تقریباً 134 روپے فی لیٹر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں