ہندوکش کے سیاہ پوش لوگ/محمد علی افضل

یہ کہانی ہے ایک طلسم ہوشربا کی جس کی شروعات کا سن تو صحیح سے معلوم نہیں البتہ تاریخ کے بوسیدہ پنوں سے جو حساب کتاب لگایا گیا ہے اس کا جواب ہر تحقیق میں ڈھائی تین ہزار سال سے پرے پرے ہی نکلتا ہے۔
سنانے والے سناتے ہیں کہ دنیا کے چھل کپٹ سے دور ہندوکش کی بلند و بالا برف پوش پہاڑی چوٹیوں اور وادیوں میں ایک اعلی ظرف قوم آ کر آباد ہوئی ۔ یہ اپنے آپ کو کیلاش کہتے تھے۔یہی ان کی زبان کا نام بھی تھا ۔ان کے مرد و زن اور پیر و جواں چلتے پھرتے مہاتما اور مہارشی تھے۔انہیں بیرونی دنیا سے کوئی علاقہ نہ تھا۔ انتہائی سخت سرد موسم ، آسمان سے معانقہ کرتے پہاڑ ،برفانی تودے ، ان میں زور و شور سے بہتا دریا ، گرتے جھرنے اور آبشاریں ،سرد و گرم چشمے ،جنگلی حیات اور مہیب کٹھن راستے ان کی قدرتی ڈھال تھے۔ زندگی یوں کرتے تھے کہ زندگی خود پر ناز کرتی تھی۔ مرتے تھے تو موت پر مہربانی ہوتی۔ اپنا اگاتے ، اپنا کھاتے۔ دودھ پیتے ، گوشت پنیر کھاتے ، رقص کرتے ، گیت گاتے اور سوجاتے۔ خوشحالی اتنی کہ ان کے بچے دودھ کی کلیاں کرتے پھرتے تھے۔مادری معاشرہ تھا۔ جانوروں کا گلہ ،میوے اناج اور زمرد و مرجان کے زیور ان کا بینک بیلنس تھا۔ پورا قبیلہ عالم میں انتخاب تھا اور اپنے آپ میں ایک الگ جہاں تھا۔ جرم کا لفظ ان کی لغت میں نہ تھا۔ لوگ راتوں کو سونا اچھالتے جاتے تھے اور عورتیں بلا خوف آدھی رات کو ایک گاؤں سے دوسری گاؤں چلی جاتی تھیں۔ کوئی کسی سے نہ پوچھتا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں؟ ہر دن ہولی اور ہر رات دیوالی تھی۔ جنت ارضی آباد تھی ۔گردوپیش کے علاقے فتح ہوتے مگر ان کی فردوس بریں کی کسی کو خبر نہ ہوتی۔
آخر تیرہویں صدی عیسوی میں شاہ نادر رئیس نامی ایک دُشٹ اٹھا اور ان اللہ لوگوں پر چڑھ دوڑا۔ گردنیں مارنی شروع کیں۔
شامت اعمال ما صورت نادر گرفت۔
شرفا کا جرم ہی یہی ہے کہ وہ بدخصلتوں سے بچاؤ کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ ملنگ طبع قبیلہ جان بچا کر بھاگا اور جاں گداز سنگلاخ برفانی پہاڑی درے عبور کرتا نیچے وادیوں میں اور جنگلوں میں چھپ گیا۔ یہ وادیاں کبھی ان کے مال مویشیوں کی چراگاہیں تھیں۔ جو بھاگنے کی سکت نہ رکھتے تھے انہیں ڈبڈبائی بے بس آنکھوں کے ساتھ تختہ دار پر کلمہ پڑھ کر جان بچانی پڑی۔ ایک بڑی تعداد نے دریائے چترال میں چھلانگ لگادی۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔

وقت پر لگا کر اڑتا گیا اور یہ بے ضرر لوگ ایک بار پھر غَیبت میں چلے گئے۔قیاس ہے کہ پورے چترال اور موجودہ افغان صوبہ نورستان پر حکومت کرنے والا یہ قبیلہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے میں دوبارہ زمانے کی نظر میں آیا تو معلوم ہوا پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ اب کی بار یہ لوگ دو حصوں میں تقسیم تھے۔آدھے نورستان میں اور آدھے چترال کی دس بڑی وادیوں میں ۔نورستان کی طرف بسنے والی ان کی زیادہ تر آبادی امن والی خون ٹپکاتی تلواروں کے سائے میں نہ جانے کب اور کن حالات میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئی ان کے اور کلمہ پڑھانے والوں کے سوا صرف خدا جانتا تھا۔اقغانستان نامی ملک پر بدروحیں قابض ہوئیں تو نورستان میں ان کی باقی ماندہ آبادی کی شُدھی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔داڑھی والوں نے دن رات ایک کرکے سو فیصد آبادی کے کان میں اذان دے دی۔
کچھ دھن کے پکے کیلاش سرحد عبور کرکے چترال میں داخل ہوگئے اور اپنے دوسرے دھڑے کے ساتھ آملے۔ دوسرا بازو کسی حد تک خوش قسمت یوں ٹھہرا کہ درمیان میں سرحدی لکیر نے اسے بچا لیا۔نوع انسانی میں بارڈر کا شاید واحد فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب اس کی وجہ سے کسی کی جان بچ جائے۔ اب یہ مہتر چترال کی امان میں آگئے اور گزر بسر کرنے لگے۔سرحد پار سے لٹیرے مگر ان پر حملہ آور ہوتے رہتے۔والی چترال نے اپنے طور پر وہاں سے حملہ کرنے والوں میں سے ہی کچھ کو تنخواہ کے عوض ان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ کر سرحد پر بسایا۔اس سے کسی حد تک سکون تو ہوا مگر ان کی وادیوں میں مسلم آبادی بھی بڑھنے لگی۔اب کیلاش چترال کی صرف پانچ وادیوں میں رہ گئے تھے ۔ان کے نام یہ ہیں۔1۔بمبوریت 2۔رمبور۔ 3۔برر۔4۔جنجریت کھوہ۔5۔ارتسن ۔۔چترال کا مزاج قلندرانہ ہے۔یہ سرزمین ہی وسیع المشرب اور دیوتا سمان لوگوں کی ہے۔ چترالی مٹی شعور و شرافت کے جس مقام پر فائز ہے اسے دیکھ کر فرشتوں کے سجدے والا معاملہ سمجھ آنے لگتا ہے۔لہذا یہاں کیلاشوں کو کوئی خاص خطرات نہ تھے۔ اپنے پرانے بھائی بندوں کے ساتھ رہتے ہوئے ان خدا کے بندوں نے والی چترال سے کبھی کوئی شکایت کی نہ ہی چترال والوں نے ان سے منہ پھلایا۔ ایک کنبے کے افراد کی طرح رہنے سہنے لگے۔ آپس میں معاملات کرتے۔ غم خوشی میں شامل ہوتے۔ تہواروں میں رقص کرتے۔ ایک برتن میں کھاتے پیتے۔ چترال میں یوں تو تیرہ سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں مگر یہاں کی مقامی زبان کھوار ہے جو چترال کے طول و عرض میں بولی سمجھی جاتی ہے۔ ہر محکوم کی طرح کیلاش قبیلے نے کھوار سیکھ تو لی مگر ان کی مادری زبان کیلاش ہی رہی جو سنسکرت کی ہم عصر ہے۔ اپنے گھروں میں اور آپس میں یہ لوگ کیلاشا زبان ہی بولتے ہیں۔ اکا دکا چترالی بھی کیلاش زبان جانتے ہیں مگر یہ وہ لوگ ہیں جو کیلاشوں سے مسلمان ہوئے۔
پاکستان وجود میں آیا تو ریاست چترال کچھ عرصہ تو والی چترال کے زیر سایہ رہی مگر پھر انیس سو ستر کی دہائی میں برضا و رغبت پاکستان میں ضم ہوگئی۔ اس کے بعد کیلاش قوم کو نہ جانے کیا ہوا کہ ان کے دل تیزی سے اسلام کی روشنی سے منور ہونا شروع ہوگئے۔وہ کیلاشا دیش جو کبھی چترال و نورستان پر مشتمل تھا اب ان تین وادیوں تک محدود ہے۔
1۔بمبوریت۔2۔رمبور۔3 برر۔
بمبوریت سب سے بڑی وادی ہے اور سب سے زیادہ کیلاشوں کا مسکن ہے۔اسے دارالحکومت کہا جاسکتا ہے۔ تینوں وادیاں پہاڑی رستوں سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔
مومنین نےشروع سے لفظ کافرستان کو کیلاش دیش کا مترادف بنا رکھا ہے۔ آج بھی کہتے ہیں مگر آفرین ہے ان سیاہ پوش کیلاشوں پر جو یہ سن کر کبھی تیوری پر بل نہ لائے۔
کوئی کیلاش پیدا ہوتا ہے تو رشتے دار رقص کرتے ہیں۔ مرتا ہے تب بھی رقص ہوتا ہے۔
لیکن دونوں میں فرق ہے۔ ایک میں نشاط ہے دوسرے میں فطری ماتم تو ہے مگر کوئی شکایت نہیں ۔ مذہب ان کا قدیم ہندومت کی ہی ایک شاخ ہے جس میں رفتہ رفتہ ہر مذہب کی طرح دیگر ہم عصر عقائد کی آمیزش ہوتی گئی۔قربانی بہت کرتے ہیں۔لکڑی کے گھر بنا کر رہتے ہیں۔کیلاش زبان میں ان کی رسومات کے اپنے نام ہیں۔ ‘جستہ خان’ کیلاشی میں مندر کو کہتے ہیں۔ ‘بشالی’ وہ جگہ ہے جہاں خواتین کو مخصوص ایام میں بھیج دیتے ہیں۔ ہر گاؤں میں بلندی پر اپنا قبرستان ہوتا ہے۔پہلے مردے کو تابوت میں کھلا چھوڑ آتے ہیں۔اس کے ساتھ بیشتر زیورات اور جواہر بھی رکھ دیتے تھے۔ زمانے کی ہوا میں حرص کا دھواں شامل ہوا تو انہوں نے بھی اپنے مردوں کو زمین کی چادر اوڑھانی شروع کردی۔ ہر تابوت پر صاحب مزار کی چارپائی الٹی کر کے رکھ آتے ہیں ۔
نئی نسل شکایت کرتی ہے کہ بزرگوں نے اس ثقافت پر سب کچھ لٹا دیا ۔ہمارے واسطے کچھ نہ چھوڑا اور نہ ہی ہمیں کہیں کا چھوڑا۔ لہذا اب ہر آنے والی پیڑھی آہستہ آہستہ رسومات چھوڑ رہی ہے یا پھر مذہب چھوڑ رہی ہے۔ فہمیدہ بڑوں نے ایک بیچ کا رستہ بھی نکالا ہے۔وہ رسومات میں ترامیم کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال فوتگی کی رسومات ہیں۔ مرگت پر پورے پورے گاؤں کا کھانا ہوتا تھا۔ ستر سے سو کے قریب بکرا ذبح کیا جاتا تھا۔کئی سیر خالص دیسی گھی ، پنیر ، مکھن اور دودھ کا خراج الگ ہوتا تھا۔ مرنے والا اپنے ساتھ پورے پریوار کو مارے ڈالتا تھا۔ اجتہاد کے بعد اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ یہ بار پورے گاؤں پر ڈالا جائے۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی زندگی آسان بنانے کی کاوشیں جاری ہیں۔
انکے مرد شلوار قمیض کے اوپر چترالی ٹوپی پہنتے ہیں مگر اس میں خاص پنکھ لگے ہوتے ہیں۔ خواتین کا لباس ان کی پہچان اور شان ہے۔ یہ سیاہ فراک خوبصورت دیدہ زیب رنگوں سے سجی ہوتی ہے۔ اس پر مختلف رنگوں کی پٹیاں باندھی جاتی ہیں۔ کمر بند بھی استعمال ہوتا ہے۔سر پر کوڑیوں سے سجی ہوئی ایک بھاری سی ٹوپی رکھتی ہیں جس کا پچھلا حصہ دستار کی طرح کمر تک جاتا ہے۔ پچھلی نسل تک فراک پر بھی سیپیوں کا بہت کام ہوتا تھا جو وقت کے ساتھ محدود ہو گیا۔ ویسے بھی نئی نسل کسی کی بھی ہو اپنے طور طریقے اپناتی ہے۔
کیلاش معاشرہ انسانی تہذیب کی ابتدا کی طرح آج تک مادری معاشرہ ہے۔ اس میں خاتون خانہ کو مرکزیت حاصل ہے۔ ان کے تین بڑے تہوار ہیں۔
1) چوموس۔ 2) چلم جوشی 3) اچھاؤ.
چوموس سب سے بڑا ہے جو دسمبر میں منایا جاتا ہے۔ سمجھو یہ ان کی عید ہے۔ چلم جوشی مئی میں آتا ہے جو بہار کی آمد کا پیغام ہے۔ اچھاؤ اگست میں مناتے جو خوراک کی فروانی کا تشکر ہے۔
کیلاشوں میں پسند کی شادی ہوتی ہے۔ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنے کے بعد اپنے گھر والوں کو مطلع کرتے ہیں۔ ان کی اس رسم کے بارے بے حد مبالغہ آرائی اور ہرزہ سرائی کی جاتی ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ یہاں شادی کے معاملے میں والدین بچوں پر اپنی مرضی نہیں تھوپتے۔
کیلاش وادیوں میں اب گورمنٹ سکول بن چکے ہیں مگر اساتذہ کی قلت ہے۔ سرکاری ڈسپنسریاں بھی ہیں۔پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ملک بھر کی طرح یہاں بھی ہے۔ وادیوں کو مرکزی شاہراہ سے ملانے کے لئے سڑک بھی زیر تعمیر ہے جس پر کیلاش پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وسیع و عریض سڑک بنائی جائے گی تو یہ ہماری زمینوں اور گھروں کو بھی لے جائے گی۔ وادی بمبوریت میں ایک خوب صورت میوزیم ہے جو کیلاشوں کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ یونانی حکومت کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔
کیلاشا دیش میں بنیادی انسانی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس کے باوجود یہ باہمت لوگ کٹھن راستے عبور کرکے حصول علم کی خاطر چترال آتے ہیں یا پھر دیگر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
پہلے پہل یہاں فقط غیر ملکی سیاح آتے تھے۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت دیسی بدو بھی آنے لگے ہیں۔ جہلا کی شُہدی حرکتوں ، تبلیغوں اور چھیڑخانیوں کے باعث کیلاش اب پہلو بچاتے پھرتے ہیں اور جب تک جان پہچان نہ ہوجائے زیادہ گھلنے ملنے سے اجتناب ہی کرتے ہیں۔
کیلاشوں کی ابتدا کے بارے میں جو نظریات ہیں وہ اب استورے کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
ان میں تین قیاس آرائیاں قابل ذکر ہیں۔
خیال نمبر ایک یہ ہے کہ سکندر اعظم کی فوج نے یہاں پڑاؤ کیا تھا۔ لہذا یہ ان کی اولادیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایکٹوسٹ نما بہروپئیے یونانی حکومت اور سفارت خانے سے ان کے نام پر مال بٹورتے رہتے ہیں۔
کیلاشوں کے نزدیک یہ تھیوری صائب نہیں کیونکہ اول تو سکندر صاحب اس علاقہ سے کبھی گذرے نہیں۔ البتہ ان کا ایک جرنیل شانک شاہ نامی کچھ فوج کے ہمراہ اس علاقہ میں وارد ہوا تھا۔ دوسرا نوجوان نسل نے ڈی این اے ٹیسٹ سے جو شواہد لئے ہیں وہ بھی کچھ زیادہ اس مِتھ کی تصدیق نہیں کرتے۔
کیلاشوں کا خیال ہے کہ یہ ‘سیام’ نامی علاقہ سے یہاں آئے تھے۔
سیام کہاں ہے؟ کوئی کہتا ہے افغانستان میں نورستان کے قریب ہے۔ کوئی کہتا ہے نہیں نہیں یہ پرانا تھائی لینڈ تھا۔خدا بہتر جانتا ہے۔ کیلاش مذہبی ترانوں اور ثقافتی گانوں میں جابجا سیام کا ذکر آیا ہے۔
مورخین کے آرکیالوجیکل ڈیٹا کے مطابق یہ لوگ ہند آریائی ہیں۔ جن کی تاریخ ساڑھے تین ہزار سال سے بھی قدیم ہے۔
کیلاش کہاں سے آئے تھے یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن اب جانے والے ہیں یہ
سب جانتے ہیں۔حتی کہ خود کیلاش بھی۔

کہ درماں ایں کار یزداں کند
مگر کیں غماں بر تو آساں کند

اپنا تبصرہ لکھیں