ٹرمپ کیجانب سے ایران پر حملہ ایک بار پھر ملتوی/ڈاکٹر اختر علی سید

میں دوستوں کی خدمت میں یہ عرض کرتا رہا ہوں کہ فی الحال ایران پر حملے کے امکانات کم ہیں مگر حملے کے ماحول اور امکان کو برقرار رکھا جائے گا۔ صحافت واقعات کو دیکھتی ہے جبکہ نفسیات واقعات کے پیٹرن کو۔۔۔۔ اسی لیے یہ گزارش کرتا رہتا ہوں کہ دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کو سمجھنے کی شاہ کلید استعمار کی نفسیات ہے کیونکہ یہ اس میکنزم کو سمجھنے کی کوشش ہے جس کے تحت طاقت کی مشینری کام کرتی ہے۔ استعمار کی نفسیات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ استعمار کی اصل کمائی بارود کے پھٹنے میں نہیں بلکہ بارود کی بو میں ہے۔ بارود کی بو سے جنگی بیانات سے پھیلتی ہے۔ جن سے خوف مسلسل گردش میں رہتا اور پھیلتا رہتا ہے۔ جنگ تو چند دنوں یا مہینوں میں ختم ہو جاتی ہے مگر جنگ کا ماحول برسوں تک پھیلا رہتا ہے اور اسی لمبے سایے میں وہ سب کچھ پنپتا ہے جسے ہم عالمی سیاست کی معیشت کہتے ہیں۔

جنگ کا ماحول ایک ایسا نفسیاتی بادل ہے جو قوموں کے اوپر معلق رہتا ہے۔ اس بادل میں خوف بھی ہوتا ہے، غیر یقینی بھی، اور وہ خاموش سی بے بسی بھی جسے طاقتور قوتیں سرمائے میں بدل لیتی ہیں۔ ہتھیاروں کی صنعت ہو یا تیل کی منڈیاں، اسٹاک ایکسچینج ہو یا سفارتی دباؤ یہ سب اسی ماحول سے سانس لیتے ہیں۔

اصل کھیل یہ ہے کہ جنگ کا ماحول استعمار کی حکمتِ عملی بن جاتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں محکوم اور کمزور قومیں اپنے دفاع کے نام پر مسلسل خریداری کرتی رہتی ہیں، جہاں خوف کو قومی بیانیہ بنا کر نسلوں کی تربیت کی جاتی ہے، جہاں امن کو ایک خواب اور جنگ کو ایک ضرورت بنا دیا جاتا ہے۔ اسی کھیل میں اسلحے کی خریدار قوموں کو آپس میں لڑا کر اسلحے کی مسلسل فروخت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اسی کھیل فوجوں کو بجٹ کا ایک بڑا حصہ کھلا دیا جاتا ہے اور اسی کھیل میں فوجیوں کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جنگ خود تو محض ایک واقعہ ہے مگر جنگ کا ماحول ایک نظام ہے۔

استعمار کی نفسیات اس نظام کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ استعمار ہمیشہ اس نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے، واقعات سے نہیں۔
اسی لئے دنیا میں اکثر جنگیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مگر جنگ کا ماحول ختم نہیں ہونے دیا جاتا کیونکہ یہی وہ خاموش فضا ہے جہاں طاقت کے سودے ہوتے ہیں، جہاں انسانیت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور منافع پہلی صف میں آ کھڑا ہوتا ہے۔
جب تک جنگی ماحول سے کام چل رہا ہے جنگ رکی رہے گی اور جب لوگ پُرسکون ہونا شروع ہوں گے تب جنگ کی دھمکی کو بروئے کار لایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں