پاکستان کی تاریخ میں دفاعی معاہدوں کا باب نیا نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سرد جنگ کی عالمی کشمکش میں دفاعی ضرورتوں کے تحت پاکستان نے 1954ء میں سیٹو (SEATO) اور 1955ء میں بغداد پیکٹ میں شمولیت اختیار کی، جو بعد میں سینٹو (CENTO) کہلایا۔
اس وقت نئی ریاست کو محدود وسائل اور بڑھتے علاقائی خطرات کا سامنا تھا، اس لیے طاقتور اتحادیوں کا ساتھ ضروری سمجھا گیا۔ مگر وقت نے دکھایا کہ یہ اتحاد مستقل نہ رہ سکے؛ پاکستان نے 1973ء میں سیٹو چھوڑ دیا، جو 1977ء میں ختم ہوا، جبکہ بغداد پیکٹ 1959ء میں سینٹو بنا اور 1979ء میں اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1955ء میں بغداد پیکٹ کو عرب دنیا میں یکساں قبولیت حاصل نہیں تھی۔ سعودی عرب کے شاہ سعود اسے عرب اتحاد کو تقسیم کرنے والا قدم سمجھتے تھے اور عراق کو اس اتحاد میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ سعودی مؤقف تھا کہ عرب ممالک کی سلامتی کے لیے ایسے بیرونی اتحادوں کے بجائے باہمی عرب تعاون زیادہ موزوں ہے۔
[تاریخ کا منظر: بغداد سے مکہ تک]
تاریخ کا منظر دیکھیے: 1955ء میں شاہ سعود بغداد پیکٹ کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے؛ 71 برس بعد مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ وقت بدلا، خطے کے حالات بدلے اور پاکستان کا کردار بھی بدل گیا۔
یہی تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر دفاعی اتحاد سب کے لیے یکساں مفید نہیں ہوتا۔ پاکستان کے لیے بھی بغداد پیکٹ کا تجربہ یہی سبق چھوڑ گیا کہ وقتی اتحاد سے زیادہ اہم دیرپا قومی طاقت ہے۔ بغداد پیکٹ اور سینٹو کا سبق یہی تھا کہ اتحاد وقتی سہارا دے سکتے ہیں، مستقل طاقت نہیں؛ وہ معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی اور مضبوط قومی اداروں سے آتی ہے۔ دنیا کے اتحاد اور مفادات بدلتے رہتے ہیں، مگر مضبوط بنیاد رکھنے والے ملک کی آواز کا وزن برقرار رہتا ہے۔
[مکہ معاہدہ: پاکستان کا نیا اسٹریٹجک وژن]
اسی تاریخی سبق کی روشنی میں بغداد سے مکہ تک کا سفر محض تاریخ کا سفر نہیں، بلکہ پاکستان کے بدلتے کردار اور نئی ذمہ داریوں کی کہانی بھی ہے۔
7 اگست 2026ء کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا، جبکہ مشترکہ مشقوں، زمین، سمندر، فضا، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ نظام اور دفاعی صنعت میں مشترکہ ترقی و پیداوار کی راہیں بھی کھلتی ہیں۔ یہ معاہدہ صرف تین ملکوں کے باہمی دفاع تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے بدلتے اسٹریٹجک کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہاں سوال اٹھتا ہے: آخر آج پاکستان کی طرف اتنی توجہ کیوں ہے؟ کیا صرف جغرافیہ، ایٹمی صلاحیت یا ایک بڑی فوج کسی ملک کو اتنی اہمیت دلا سکتی ہے؟ شاید جواب ان سب کے مجموعے میں ہے۔ پاکستان کی تجربہ کار دفاعی قوت، ایٹمی صلاحیت، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور خطے میں اس کا کردار اسے نمایاں بناتے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری سفارت کاری نے بھی پاکستان کے اسٹریٹجک کردار کو نمایاں کیا ہے۔
اسی بدلتے کردار کے باعث پاکستان اب صرف امداد لینے والے ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کویت کے ساتھ 2023ء کے دفاعی تعاون کی حالیہ توثیق اور مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
[عسکری صلاحیت سے معاشی ترقی تک]
دنیا پاکستان کی فوجی طاقت دیکھ رہی ہے، اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے عام شہری کی معاشی طاقت بھی دنیا کو دکھا سکے گا؟ اصل امتحان یہ ہے کہ دفاعی معاہدے صرف سرحدوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ صنعت چلائیں، روزگار دیں اور ٹیکنالوجی پاکستان لائیں۔
سعودی عرب کا سرمایہ، ترکی کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی دفاعی و افرادی قوت ایک سمت میں جڑ جائے تو مکہ کا معاہدہ صرف دفاعی حصار نہیں، معاشی رفتار بھی بن سکتا ہے۔ مشترکہ دفاعی پیداوار، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور سائبر ٹیکنالوجی پاکستان کی صنعت اور برآمدات کو نئی سمت دے سکتی ہے۔
دنیا نے پاکستان کی طاقت کو اہم سمجھا ہے؛ اب پاکستان کی باری ہے کہ اس طاقت کو اپنے عوام کی خوشحالی میں بدلے۔ معاہدے اور بیانات اپنی جگہ، مگر ان کا اصل وزن تب ہوگا جب اثر صنعت، روزگار اور عام آدمی کی زندگی میں نظر آئے۔
[مستقبل کا امتحان: دفاعی حصار یا معاشی رفتار؟]
مکہ کے بعد سوال یہ نہیں کہ اگلا دفاعی معاہدہ کس سے ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ ان معاہدوں سے کتنی صنعت، کتنی ٹیکنالوجی، کتنے ہنرمند نوجوان اور کتنی برآمدات پیدا ہوں گی؟ یہی موقع دفاعی تعاون کو معاشی خود انحصاری کی سیڑھی بنانے کا ہے۔ خطرہ بھی واضح ہے: اگر اسے صرف عسکری طاقت تک محدود رکھا تو پاکستان دوسروں کی طاقت کا سہارا بن سکتا ہے۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی تحفظ کے ساتھ معاشی امکانات کا دروازہ بھی کھولے۔
پاکستان کو اس بار فرق پیدا کرنا ہوگا۔ بغداد پیکٹ (1955ء) کے دور میں پاکستان طاقتور اتحادوں کا حصہ بنا تھا؛ آج اگر دنیا پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت چاہتی ہے تو یہ ایک نئی پوزیشن ہے۔ اب موقع ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت، جغرافیہ، انسانی وسائل اور سفارتی وزن کو معاشی طاقت میں بدلے۔
کیونکہ طاقتور فوج پاکستان کی حفاظت کر سکتی ہے، مگر مضبوط معیشت ہی اس طاقت کو پائیدار بناتی ہے۔ بغداد سے مکہ تک کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: پہلے دنیا پاکستان سے اپنی جنگوں میں شراکت مانگتی تھی، آج اپنی سلامتی میں شراکت چاہتی ہے؛ اب اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس نئی اہمیت کو اپنے عوام کی معاشی خوشحالی اور قومی خود انحصاری میں کس حد تک بدل پاتا ہے۔
[سلگتے اشارے]
اسی لیے مکہ کا معاہدہ اب صرف دستخط نہیں، پاکستان کے مستقبل کا امتحان ہے: کیا ہم فوجی طاقت کو معاشی طاقت بنا سکیں گے؟ اگر ہاں، تو بغداد سے مکہ تک کا سفر صرف تاریخ نہیں، پاکستان کے نئے عروج کی ابتدا ہوگا۔ ورنہ تاریخ پھر یہی پوچھے گی کہ طاقت ہمارے پاس تھی، مگر ہم نے اسے قوم کی خوشحالی میں کیوں نہ بدلا؟


