مادی ارتقاء سے روحانی لطافت تک: (ہلکے پن کا عالمگیر سفر اور قرآن کریم کی حکمت) -ابنِ سلطان

مقدمہ اور بنیادی فکری نکتہ:

کائنات کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر شے ایک مسلسل ارتقائی سفر سے گزر رہی ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کی الٰہی حکمت اور اس کائنات کے فطری اصولوں کو سامنے رکھیں تو جسم اور روح کا فرق اور ان کا یہ سفر بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ انسانی جسم مٹی اور کثیف مادے سے بنا ہے جو کہ وزنی اور بھاری ہے، جبکہ روح انتہائی لطیف، سبک اور ہلکی حقیقت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کا مادی نظام، اس کی ٹیکنالوجی اور اس کا رہن سہن بھی اسی الٰہی اصول کے تحت بتدریج بھاری پن سے ہلکے پن کی طرف سفر کر رہا ہے۔ جو لوگ خدا یا روح کے منکر ہیں، وہ بھی اگر مادی دنیا کے اس ارتقاء اور قرآن کریم کی آیات پر غور کریں تو اس حقیقت کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
قرآن کریم کی روشنی میں جسم اور روح کی حقیقت
قرآن کریم میں انسانی جسم کی تخلیق اور اس کی مادی کثافت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
ترجمہ: اور بلاشبہ ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے بنائی گئی تھی، پیدا کیا۔ (سورۃ الحجر: 26)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جسم کی اصل مٹی اور گارا ہے جو کہ ایک وزنی، کثیف اور بھاری مادہ ہے۔ اس کے برعکس، جب اللہ تعالیٰ نے اس جسم کے اندر اپنی روح پھونکی تو اس کی حقیقت بالکل مختلف اور لطیف تھی۔ روح کے بارے میں قرآن کریم کا یہ فرمان ملاحظہ ہو:
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
ترجمہ: پھر جب میں اسے درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔ (سورۃ الحجر: 29)
مزید برآں، روح کی حقیقت اور اس کی لطافت کے بارے میں جب سوال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں تو بہت ہی کم علم دیا گیا ہے۔ (سورۃ الإسراء: 85)
یہ آیات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ جسم مٹی یعنی کثافت اور بوجھ کا نام ہے، جبکہ روح اللہ کے حکم یعنی لطافت اور ہلکے پن کا مظہر ہے۔

کشش ثقل، فضا اور خلا کا سفر:
بلندی کے لیے ہلکا ہونا شرط ہے
اس کائنات کا ایک بہت بڑا طبعی اصول کشش ثقل کا نظام ہے۔ جب تک انسان زمین پر رہتا ہے، وہ اس زمینی کشش ثقل اور مادیت کی وجہ سے نہایت بوجھل رہتا ہے۔ زمین ہر بھاری چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ لیکن جب کوئی چیز یا ہوائی جہاز فضا میں بلند ہونا چاہتا ہے، تو اسے خود کو بوجھ سے ہلکا کرنا پڑتا ہے۔ بغیر ہلکے ہوئے فضا میں اڑنا ممکن نہیں۔ اور جب کوئی جسم یا خلائی جہاز زمین کی کشش سے نکل کر خلا کی طرف سفر کرتا ہے، تو اسے مزید ہلکا بلکہ وزن سے بالکل پاک ہونا پڑتا ہے۔ خلا میں پہنچ کر ہر چیز بالکل ہلکی پھلکی اور وزن سے آزاد ہو جاتی ہے۔
یہی اصول انسان کی باطنی اور روحانی زندگی پر بھی سو فیصد لاگو ہوتا ہے۔ جو زمینی لوگ یا مادیت پرست ہوتے ہیں، وہ گناہوں، حرص، طمع اور دنیا کی محبت کی کثافتوں اور آلائشوں کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں اور بوجھل قدموں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ روحانیت کے آسمان کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں، انہیں اپنی تمام روحانی گندگی، کثافتیں اور بوجھ دور کرنے پڑتے ہیں۔ جب تک انسان اپنے اندر سے مادیت اور گناہوں کی آلائشیں دور نہیں کرتا، وہ روحانیت کے آسمان کی طرف ایک انچ بھی اوپر نہیں اٹھ سکتا۔ بوجھ اٹھائے رکھنے والے ہمیشہ زمین سے بندھے رہتے ہیں، جبکہ ہلکے پھلکے اور پاکیزہ لوگ بلندیوں کو چھوتے ہیں۔
مادی دنیا اور ٹیکنالوجی میں ہلکے پن کا عالمگیر سفر
صرف طبعی کائنات ہی نہیں بلکہ انسان کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی بھی اسی الٰہی اصول کی عکاس ہے۔ اگر ہم آج سے سو سال پہلے کے دور کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی ہر ضرورت اور ہر شے کتنی بھاری بھرکم تھی۔ مکانات کی تعمیر میں موٹی اور وزنی لکڑیوں اور پتھروں کا استعمال ہوتا تھا، گھریلو سامان اور روزمرہ کی اشیاء انتہائی وزنی ہوتی تھیں، اور دھاتیں ایسی تھیں جنہیں سنبھالنا مشکل تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی نے یہ ثابت کر دیا کہ ترقی کا اصل راز بھاری پن میں نہیں بلکہ ہلکے پن اور پورٹیبلٹی میں ہے۔
روزمرہ ٹیکنالوجی اور موبائل فون کی واضح مثال
اس کی سب سے بڑی اور واضح مثال ہماری روزمرہ کی ٹیکنالوجی اور بالخصوص موبائل فون ہے۔ ایک وقت تھا جب موسیقی سننے کے لیے الگ ریڈیو یا بڑا ٹیپ ریکارڈر درکار ہوتا تھا، تصویریں اتارنے کے لیے بھاری کیمرے اور رول ہوتے تھے، بات چیت کے لیے تاروں والے وزنی ٹیلی فون تھے، اور معلومات کے لیے بڑے بڑے انسائیکلوپیڈیا یا رجسٹر رکھے جاتے تھے۔ انسان نے رفتہ رفتہ ان تمام بکھری ہوئی اور وزنی چیزوں کو سمیٹ کر ایک چھوٹی سی اسکرین اور ہلکے پھلکے موبائل فون میں بند کر دیا ہے۔ آج ایک ہی ڈیوائس میں کیمرہ بھی ہے، ریکارڈنگ اسٹوڈیو بھی، کتابیں بھی، اور پوری دنیا کا علم بھی۔ یہ مادہ سے ہٹ کر ہلکی، سبک اور جامع چیز کی طرف ایک حیرت انگیز سفر ہے۔

توانائی، بیٹریاں اور صنعتی مواد کا ارتقاء
صرف مواصلات ہی نہیں بلکہ توانائی اور بیٹریوں کے نظام کو ہی دیکھ لیں۔ پہلے کے زمانے میں بیٹریاں اتنی بھاری ہوتی تھیں کہ انہیں اٹھانا محال ہوتا تھا، بڑے بڑے سیل استعمال ہوتے تھے۔ اب لیتھیم اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بیٹریاں انتہائی ہلکی، پائیدار اور طاقتور ہو چکی ہیں۔ اسی طرح ہوائی جہازوں، گاڑیوں اور میٹل انڈسٹری میں بھی بھاری لوہے اور اسٹیل کی جگہ ہلکے مگر زیادہ مضبوط کمپوزٹ میٹریلز اور ایلومینیم نے لے لی ہے تاکہ ہر مشین کم توانائی خرچ کرے اور زیادہ تیزی سے سفر کر سکے۔ جائیداد اور رہائشی تعمیرات میں بھی اب بھاری پتھروں اور اینٹوں کے بجائے ہلکے وزن کے تعمیراتی مواد اور ماڈرن پینلز کا استعمال بڑھ رہا ہے تاکہ بوجھ کم سے کم ہو۔

نتیجہ اور خلاصہ
جب زمین کی کشش ثقل کا قانون یہ کہتا ہے کہ بلندی کے لیے ہلکا ہونا ضروری ہے، کائنات کی ہر ٹیکنالوجی اور ایجاد وزنی سے ہلکی ہوتی جا رہی ہے، اور مادہ خود کثافت سے لطافت کی طرف سفر کر رہا ہے، تو انسان کی روح کا سفر بھی اسی عالمگیر اصول کا تسلسل ہے۔ یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ کائنات کا خالق ہمیں یہ سکھانا چاہتا ہے کہ اصل حقیقت بوجھ اور کثافت میں نہیں بلکہ ہلکے پن اور لطافت میں ہے۔ جو لوگ خدا یا روح کے منکر ہیں، وہ اگر کشش ثقل کے اس طبعی اصول اور اپنی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کے ارتقاء کو ہی دیکھ لیں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ جس طرح فضا اور خلا میں جانے کے لیے بوجھ کا ختم ہونا ضروری ہے، اسی طرح انسان کی روح کا سفر بھی دنیا کی کثافتوں کو چھوڑ کر سبک اور اعلیٰ روحانی حقیقت کی طرف گامزن ہونے کا نام ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں