(خصوصی رپورٹ : رانا جی جعفر)محکمہ تعلیم پنجاب میں BS-18 سے BS-19 ترقیوں کے معاملے میں مرد و خواتین افسران کے ساتھ مختلف طرزِ عمل کا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ BS-18 سے BS-19 پروموشن کا عمل شروع ہوئے تقریباً دو سال گزر چکے ہیں۔ ایک ہی آرڈر کے تحت کیسز طلب کیے گئے اور ایک ہی فائل پر کارروائی شروع ہوئی، مگر انجام مختلف نکلا۔
اسی عمل کے تحت مرد افسران کو 7 ستمبر کو BS-18 سے BS-19 میں ترقی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جبکہ خواتین افسران تاحال BS-19 کی ترقی کی منتظر ہیں۔ یوں ایک ہی پروموشن عمل میں شامل افسران کے لیے منزل تو ایک رہی، مگر راستے الگ ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین افسران کے سروس ریکارڈ، اے سی آرز اور دیگر ضروری تقاضے مکمل ہیں۔ پری PSB کا مرحلہ بھی مکمل ہوچکا ہے جبکہ لنک ٹریننگ تقریباً دو سال قبل مکمل کی جاچکی ہے، اس کے باوجود BS-18 سے BS-19 پروموشن کے احکامات جاری نہیں ہوئے۔
معاملہ اس وقت مزید توجہ طلب ہوگیا جب ترقی میں تاخیر پر ایک مرد افسر عدالت گیا اور عدالتی حکم کے بعد مرد افسران کی ترقی کردی گئی۔ محکمہ تعلیم سے خواتین کی ترقی میں تاخیر کی وجہ پوچھی گئی تو جواب ملا کہ مرد افسران کی ترقی عدالت کے حکم پر ہوئی ہے۔
یہ جواب ایک بنیادی سوال چھوڑ گیا ہے: کیا محکمہ تعلیم اپنے اہل افسران کے معاملات خود حل نہیں کرسکتا؟ کیا جائز سروس حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی ضروری ہے؟
صورتحال اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خواتین کو بااختیار بنانے اور سرکاری اداروں میں ان کی مؤثر نمائندگی پر زور دیتی رہی ہیں۔ ایسے میں محکمہ تعلیم میں ترقی کی منتظر خواتین افسران کا معاملہ اعلیٰ سطح پر توجہ کا متقاضی ہے۔
متاثرہ خواتین افسران کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی 7 ستمبر سے BS-19 میں ترقی دی جائے، جس تاریخ سے مرد افسران کو ترقی دی گئی، تاکہ سنیارٹی اور مالی حقوق کا نقصان نہ ہو۔
پنجاب بھر کی متاثرہ خواتین افسران نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اراکین پنجاب اسمبلی راؤ کاشف رحیم خان اور چوہدری امجد علی جاوید سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کی طرح اس معاملے پر بھی محکمہ تعلیم کے افسران و ملازمین کی آواز بنیں اور BS-18 سے BS-19 پروموشن میں پیدا ہونے والی اس صورتحال کو پنجاب اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے فورم پر اٹھائیں۔
خواتین افسران کا کہنا ہے کہ اگر مرد افسران عدالت سے رجوع کرکے اپنا حق حاصل کرسکتے ہیں تو محکمہ تعلیم کو خواتین کے کیسز بھی خود دیکھنے چاہئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خواتین کو بھی اپنے حق کے لیے عدالت جانا پڑے گا یا محکمہ تعلیم خود ہی انہیں ان کا حق دے گا؟


