پاکستانی سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے اندر ایسا سیاسی شعور، سیاسی فلسفہ اور فکری قیادت کم ہی دکھائی دیتی ہے جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل راستہ پیش کر سکے۔
یہ سوال بھی سنجیدگی سے غور طلب ہے کہ کیا پاکستان کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا ایک طریقہ یہ تو نہیں رہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر ایسے افراد کو آگے لایا جائے جو نہ سیاسی بصیرت رکھتے ہوں، نہ ادارہ جاتی فہم، نہ فیصلہ سازی کی صلاحیت، اور پھر انہیں اہم ترین عہدوں پر فائز کر دیا جائے۔ جب فیصلہ سازی کی ذمہ داری مسلسل غیر سنجیدہ اور کم صلاحیت لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے تو جمہوری ڈھانچہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی بنیادیں ہی متزلزل ہو جاتی ہیں۔
اس صورتِ حال کا سب سے بڑا نقصان ان سیاسی جماعتوں کو پہنچا جو تاریخی طور پر پاکستان کے مرکزی سیاسی دھارے کا حصہ رہی ہیں، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)۔ ان جماعتوں کی اصل طاقت کبھی ان کے سیاسی کارکن، نظریاتی وابستگی، پارلیمانی تجربہ اور سیاسی دانش ہوا کرتی تھی، مگر وقت کے ساتھ ان کے اندر فکری اور سیاسی قیادت کا خلا بڑھتا گیا۔
رہی پاکستان تحریکِ انصاف، تو اس کے بارے میں بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس جماعت کے اندر واقعی ایک مضبوط فکری اور سیاسی نظام موجود ہوتا تو مشکل حالات میں ایسے ذہین، بالغ نظر اور صاحبِ تدبر لوگ سامنے آتے جو جماعت کو موجودہ دباؤ، تصادم اور سیاسی بے یقینی سے نکالنے کی حکمتِ عملی وضع کر سکتے۔ مگر بدقسمتی سے یہ خلا بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک منظم سیاسی جماعت کے بجائے وہ بڑی حد تک ایک سیاسی ہجوم کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے، جہاں جذبات تو بہت ہیں لیکن مستقل سیاسی فلسفہ، ادارہ جاتی حکمتِ عملی اور فکری قیادت کم دکھائی دیتی ہے۔
آج پاکستان کا اصل بحران صرف حکومت یا اپوزیشن کا بحران نہیں۔ یہ سیاسی قیادت، سیاسی اداروں اور سیاسی فکر کا بحران ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں؛ جمہوریت کے لیے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری تربیت، فکری گہرائی، اختلافِ رائے کا احترام، پالیسی بنانے کی صلاحیت اور ایسے سیاسی دماغ درکار ہوتے ہیں جو وقتی اقتدار سے آگے دیکھ سکیں۔
بدقسمتی سے موجودہ سیاسی ماحول میں جمہوریت کمزور ہو چکی ہے، جبکہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے ابھی تک ایسا مضبوط Political Fabric تیار نہیں کیا جو ریاست کو مسلسل بحرانوں، سیاسی تصادم اور ادارہ جاتی کشمکش سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا سکے۔
ملک کو آج صرف مقبول نعروں کی نہیں، بلکہ سیاسی دانش، فکری قیادت، ادارہ جاتی شعور اور مستقبل کی واضح سمت رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے۔
اگر سیاسی جماعتیں اس بنیادی سوال پر غور نہیں کرتیں تو مسئلہ صرف حکومتوں کی تبدیلی تک محدود نہیں رہے گا؛ خود جمہوری نظام کی بنیادیں مزید کمزور ہوتی جائیں گی۔


