نانا پاٹیکر : پردہ گرا ہے تماشا ختم نہیں ہوا / محمد فاروق نتکانی

بعض لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ایک شخص کم ہوتا ہے، بعض جاتے ہیں تو ایک عہد اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہماری اپنی یادداشت کے پردے پر ان کے کردار ایک ایک کر کے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ آج نانا پاٹیکر کے جانے کی خبر سنی تو محسوس ہوا جیسے ذہن کے کسی پرانے سینما گھر میں اچانک روشنی گل ہو گئی ہو اور پردے پر ایک ساتھ کئی منظر روشن ہو اٹھے ہوں۔

یہاں غلام مصطفیٰ نماز پڑھ رہا ہے وہاں یشونت جیل میں مچھروں سے جنگ کر رہا ہے کسی طرف کرانتی ویر کا باغی خطیب کھڑا ہے اور کہیں ایک ایسا آدمی خاموش ہے جس کی خاموشی میں پورا مکالمہ چھپا ہوا ہے۔

نانا پاٹیکر کا انتقال محض ایک اداکار کا انتقال نہیں یہ اس نسل کے ایک اہم حوالہ کا اختتام ہے جس نے سینما کو صرف تفریح کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اس کے ذریعے انسان سماج جرم مذہب سیاست محرومی اور اخلاق کے سوالات بھی سمجھے۔ وہ بڑے پردے کے آدمی تھے مگر ان کے کردار اکثر پردے سے اتر کر ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے تھے۔

میں نے جب فلم بین کی حیثیت سے شعور کی آنکھ کھولی تو جن فنکاروں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں نانا پاٹیکر نمایاں تھے۔ انہیں محض ’’ورسٹائل‘‘ اداکار کہنا شاید ان کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔ ورسٹائل وہ ہوتا ہے جو کئی روپ دھار لے نانا کی اصل قوت یہ تھی کہ وہ جس روپ میں آتے اسے اپنا بنا لیتے ان کے بعد اس کردار کو کسی دوسرے کے لیے تصور کرنا مشکل ہو جاتا۔

میرا ان سے پہلا تعارف ’’وجود‘‘ کے ذریعے ہوا۔ میں اس وقت کالج کا طالب علم تھا۔ چند دوستوں کے ساتھ فلم دیکھی۔ فلم ختم ہوئی تو ہم دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ حیرت فلم پر کم اور نانا پاٹیکر پر زیادہ تھی۔ ہمارے لیے یہ ایک طرح کا انکشاف تھا کہ اداکاری اس قدر بھی ہو سکتی ہے۔ مادھوری ڈکشٹ کا حسن اپنی جگہ ایک پورا عہد ہے۔ اس کا رقص اس کی آنکھیں اس کی مسکراہٹباس کی اسکرین پر موجودگی یہ سب مل کر ایک ایسا جلال پیدا کرتے تھے جس کے سامنے بڑے بڑے اداکار بھی پس منظر میں چلے جاتے تھے۔ مگر ’’وجود‘‘ میں نانا پاٹیکر نے مادھوری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اداکاری کی وہ حسن کے سامنے مرعوب نہیں ہوئے انہوں نے فن کے ذریعے حسن کا مقابلہ کیا۔

’’کیسے بتاؤں میں تمہیں، میرے لیے تم کون ہو‘‘ شاید اردو یا ہندی فلمی شاعری کا کوئی ایسا شاہکار نہ تھا جسے صدیوں کے انتخاب میں رکھا جائے، لیکن نانا نے اسے جس کیفیت کے ساتھ ادا کیا اس کے بعد وہ محض ایک نغمہ نہ رہا وہ ایک اداکار کی آواز بن گیا۔

پھر نانا پاٹیکر کی فلمیں ایک ایک کر کے سامنے آتی گئیں۔ ’’یشونت‘‘، ’’غلام مصطفیٰ‘‘، ’’کرانتی ویر‘‘، ’’شکتی‘‘ ہر جگہ ایک نیا آدمی تھا مگر ہر آدمی کے پیچھے وہی نانا تھا جو کردار کو صرف ادا نہیں کرتا تھا اس کے اندر داخل ہو جاتا تھا۔

’’کرانتی ویر‘‘ میں مذہبی تعصب پر ان کا طنز محض ایک مکالمہ نہیں تھا۔ خون کے رنگ کی یکسانیت سے وہ اس تقسیم کا مذاق اڑاتے ہیں جسے انسان نے خدا کے نام پر اپنے لیے مقدس بنا لیا۔ اسی طرح ’’غلام مصطفیٰ‘‘ میں ایک مسلمان کردار کا ایک متعصب ہندو ماں کے دل میں جگہ بنا لینا اس سادہ مگر بھولی ہوئی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کا تعلق اکثر مذہب سے پہلے انسانیت سے قائم ہوتا ہے۔

اور پھر وہ ایک جملہ ’’سالا، ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘‘ یہ محض فلمی مکالمہ نہیں تھا۔ اس میں پورے نظام پر ایک تلخ تبصرہ چھپا ہوا تھا۔ ایک معمولی سا مچھر اور ایک پورا معاشرہ ایک حقیر سا کیڑا اور انسان کی بے بسی۔ نانا پاٹیکر کی آواز نے اسے ایسا طنز بنا دیا جو ہنسا کر بھی زخمی کرتا ہے۔

شاید نانا اپنی فلموں کے انتخاب میں بھی اپنی شخصیت کی طرح محتاط تھے۔ ابتدا میں ہر اداکار کی طرح انہیں بھی وہ کردار ادا کرنے پڑے ہوں گے جو ایک نئے فنکار کو اپنے قدم جمانے کے لیے قبول کرنے پڑتے ہیں۔ مگر بعد میں انہوں نے خود کو اس راستے پر ڈال دیا جہاں کردار آسان نہیں تھے اور تالی بھی ہمیشہ فوری نہیں ملتی تھی۔

ان کے فن میں ایک عجیب سا تضاد تھا۔ وہ بیک وقت سخت بھی تھے اور نرم بھی باغی بھی اور اصلاح پسند بھی تلخ بھی اور انسانی بھی۔ انہیں روایتی معنوں میں ترقی پسند کہنا شاید درست نہ ہو لیکن ان کے مزاج میں ایک اصلاحی چبھن ضرور تھی۔ وہ سماج کو دیکھتے تھے اور جہاں کچھ غلط نظر آتا وہاں ان کا فن خاموش نہیں رہتا تھا۔ شاید اسی لیے ان کے بعض کردار محض کردار نہیں رہے وہ سوال بن گئے۔

ان کی شکل آواز اور لہجے میں ایک ایسی سختی تھی جو انہیں جرائم پیشہ دنیا کے کرداروں کے لیے موزوں بناتی تھی۔ ’’پرندہ‘‘ ’’اپہارَن‘‘ اور دوسرے کرداروں میں انہوں نے جرم کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت کے طور پر پیش کیا۔ مگر نانا کی شخصیت کا کمال یہ تھا کہ وہ صرف بندوق اٹھانے والے آدمی کو نہیں سمجھتے تھے وہ اس آدمی کے اندر چھپے ہوئے خوف محرومیبجنون اور تنہائی کو بھی ادا کر سکتے تھے۔ اسی لیے نفسیاتی طور پر الجھے ہوئے کردار بھی ان کے لیے اجنبی نہ تھے۔ ’’اگنی ساکشی‘‘ اور ’’یوگ پرش‘‘ میں ان کے کرداروں کی پیچیدگیاں اسی وسیع فنکارانہ دائرے کی گواہی دیتی ہیں۔

لیکن ’’خاموشی‘‘ میں نانا کی خاموشی کا کوئی جواب نہیں اداکاری کی دنیا میں بعض اوقات لفظ اداکار کا سہارا ہوتے ہیں اور بعض اوقات اداکار لفظوں کا۔ نانا پاٹیکر ان کم لوگوں میں تھے جو خاموشی کو بھی مکالمہ بنا سکتے تھے۔ ایک گونگے انسان کا کردار ادا کرنا بظاہر زبان سے محرومی تھا مگر نانا نے ثابت کیا کہ اداکاری زبان کی محتاج نہیں۔ آنکھ چہرہ ہاتھ سانس اور ٹھہراؤ بھی ایک مکمل زبان ہوتے ہیں۔ نانا کی وہ خاموشی آج بھی بولتی ہے۔ اور شاید آج سے زیادہ بولے گی۔

اپنے عہد کے آخری حصے میں نانا نے مزاحیہ کرداروں کی طرف بھی رخ کیا۔ شاید وہ اس مخصوص سانچے سے باہر نکلنا چاہتے تھے جس میں وقت نے انہیں بند کر دیا تھا۔ ’’ورسٹائل‘‘ ہونے کا اعلان کرنے کے لیے کبھی کبھی ایک بڑے فنکار کو اپنی شہرت کے خلاف بھی جانا پڑتا ہے۔ نانا نے بھی ایسا کیا۔ مزاح میں انہیں وہ کامیابی نہیں ملی جو سنجیدہ کرداروں میں ان کا مقدر تھی لیکن ان کوششوں میں بھی ان کی اپنی چھاپ موجود رہی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے سنجیدہ کردار بھی کبھی مکمل طور پر سنجیدہ نہیں ہوتے تھے۔ کہیں نہ کہیں طنز کی ایک لکیر مزاح کی ایک ہلکی سی جھلک یا انسانی کمزوری پر ایک تلخ مسکراہٹ ضرور موجود ہوتی تھی۔ یہی چیز انہیں ان کے بہت سے ہم عصروں سے الگ کرتی تھی۔ بڑے اداکار بہت ہوتے ہیں مگر اپنی آواز والے اداکار کم ہوتے ہیں۔ نانا پاٹیکر کی آواز اپنی تھی۔ ان کا غصہ اپنا تھا۔ ان کی خاموشی اپنی تھی۔ ان کی آنکھوں کا سوال اپنا تھا۔ اور ان کا مکالمہ جب ایک مرتبہ زبان سے نکلتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ مکالمہ کسی مصنف نے نہیں خود زندگی نے لکھا ہو۔

آج نانا پاٹیکر نہیں رہے۔

مگر فنکار کا اصل امتحان موت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ قبر اور پردے کے درمیان جو فاصلہ ہے اسے صرف وہی لوگ عبور کرتے ہیں جنہوں نے اپنے فن میں کچھ ایسا چھوڑا ہو جو وقت کے گزرنے سے پرانا نہ ہو۔

نانا پاٹیکر نے بہت سے کردار کیے۔ اب وہ خود ایک کردار بن گئے ہیں ہندوستانی سینما کی تاریخ کا ایک ایسا کردار جسے وقت آسانی سے حذف نہیں کر سکے گا۔

جب کبھی ’’وجود‘‘ کا کوئی منظر یاد آئے گا ’’کرانتی ویر‘‘ کا کوئی مکالمہ کان میں پڑے گا ’’غلام مصطفیٰ‘‘ کا چہرہ ذہن میں ابھرے گا یا ’’خاموشی‘‘ کی خاموشی دل کو چھوئے گی نانا پاٹیکر پھر ہمارے سامنے ہوں گے۔

فنکار مرتے ہیں کردار نہیں مرتے۔

اور بعض کردار تو فنکار کی موت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔

نانا پاٹیکر ایسے ہی فنکار تھے۔

الوداع اے انوکھے فنکار الوداع۔

پردہ گرا ہے
تماشا ختم نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ لکھیں