ذہنی صحت کا عالمی دن : ہماری ذہنی صحت، ہماری ذمہ داری/ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

ہر سال 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن (World Mental Health Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا، ذہنی بیماریوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور تعصبات کو ختم کرنا اور ضرورت مند افراد کو مدد حاصل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ ذہنی صحت انسانی زندگی کا ایک نہایت اہم پہلو ہے، کیوں کہ ایک صحت مند ذہن ہی انسان کو زندگی کے مسائل کا بہتر انداز میں سامنا کرنے، مثبت فیصلے کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
دنیا بھر میں ذہنی صحت کے مسائل سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا میں تقریباً ہر 8 میں سے 1 شخص کسی نہ کسی ذہنی عارضے (Mental Disorder) سے متاثر ہے۔ اس میں ڈپریشن، اضطراب
(بے چینی)، بائی پولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا جیسے مسائل شامل ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ ذہنی صحت کا مسئلہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان پاگل ہے۔ ذہنی مسائل کی کئی اقسام ہوتی ہیں اور ان میں سے بہت سے مسائل کا علاج یا مؤثر انتظام ممکن ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی 11 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 2023 میں تقریباً 1.2 ارب افراد ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، یعنی دنیا میں تقریباً ہر 7 میں سے 1 شخص۔اضطراب اور شدید بے چینی میں مبتلا افراد کی تعداد 47 کروڑ ، ذہنی دباؤ کا شکار افراد 32 کروڑ ، جبکہ شازو فرینیا میں دو کروڑ 70 لاکھ افراد شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار مختلف ذہنی عوارض کے تخمینے ہیں؛ ان میں کچھ افراد کو ایک سے زیادہ عوارض بھی ہو سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ذہنی بیماری شرمندگی کی بات نہیں۔ مناسب مدد، نفسیاتی علاج اور ضرورت کے مطابق ادویات سے بہت سے لوگ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔
واضح ہو اس دن کو ہر سال کسی نہ کسی تھیم کے تحت منایا جاتا ہے۔رواں برس جو تھیم منتخب کیا گیا ہے۔اس کا عنوان کچھ یوں ہے۔

“Lived Experiences Heard: Real Voices, Real Change”
“زندہ تجربات کو سنا جائے: حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی”
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، 2026 کی مہم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کے ذاتی تجربات اور آوازوں کو صرف سنا ہی نہ جائے بلکہ انہیں ذہنی صحت کی پالیسیوں، خدمات اور فیصلوں کی تشکیل میں مؤثر طور پر شامل بھی کیا جائے۔
اس سال کی مہم خاص طور پر اس تصور پر زور دیتی ہے کہ “ہمارے بارے میں، ہمارے بغیر کوئی فیصلہ نہیں”۔ ذہنی صحت کا نظام ان افراد کی حقیقی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے جنہوں نے خود ذہنی صحت کے مسائل یا علاج کے نظام کا تجربہ کیا۔

ذہنی صحت کیا ہے؟
ذہنی صحت سے مراد صرف ذہنی بیماری سے محفوظ ہونا نہیں بلکہ انسان کی مجموعی جذباتی، نفسیاتی اور سماجی کیفیت بھی ہے۔ ایک ذہنی طور پر صحت مند شخص اپنے جذبات کو سمجھنے، مشکلات سے نمٹنے، دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور روزمرہ زندگی کی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
زندگی میں ہر شخص کو کبھی نہ کبھی پریشانی، غم، خوف، غصہ، تنہائی یا ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ جذبات انسانی زندگی کا فطری حصہ ہیں۔تاہم جب یہ کیفیت مسلسل برقرار رہے، روزمرہ زندگی کو متاثر کرے یا انسان کے لیے اپنے معمولات انجام دینا مشکل بنا دے تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

ذہنی صحت کی اہمیت :
جسمانی صحت اور ذہنی صحت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اگر انسان مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس کی جسمانی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مختلف جسمانی بیماریوں کے باعث انسان پریشانی، بے چینی یا مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔
اچھی ذہنی صحت انسان کو زندگی کے نشیب و فراز کا مقابلہ کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے۔ ایک متوازن ذہن انسان کو بہتر فیصلے کرنے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اپنے خاندان، تعلیمی ادارے یا کام کی جگہ پر مثبت کردار ادا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس لیے ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ جس طرح ہم بخار، درد یا کسی جسمانی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، اسی طرح ذہنی پریشانی کی صورت میں بھی مناسب مدد حاصل کرنا بالکل معمول کی بات ہونی چاہیے۔

ذہنی صحت کے مسائل کی عام وجوہات :
ذہنی صحت کے مسائل کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات معاشی مشکلات، بے روزگاری، گھریلو مسائل، تعلیمی دباؤ، ملازمت کا تناؤ یا کسی عزیز کی وفات انسان کی ذہنی کیفیت کو متاثر کرتی ہے۔ بعض افراد مسلسل تنہائی، سماجی دباؤ یا مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کے باعث بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا بھی ہماری ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دوسروں کی زندگیوں کی مصنوعی طور پر خوبصورت تصویر دیکھ کر بعض لوگ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں، جس سے احساسِ کمتری، بے چینی اور مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ نیند کی کمی، غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کا فقدان اور مسلسل کام بھی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ذہنی بیماریوں کے بارے میں غلط تصورات :
ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ بدنامی یا Stigma ہے۔ بعض لوگ ذہنی بیماری کو کمزوری، دیوانگی یا کردار کی خرابی سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ اس کے باعث متاثرہ شخص بروقت مدد حاصل کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
ذہنی بیماری کسی بھی انسان کو متاثر کر سکتی ہے، چاہے وہ طالب علم ہو، استاد ہو، ڈاکٹر ہو، کاروباری شخص ہو یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔ ذہنی صحت کا مسئلہ انسان کی شخصیت یا عزت کا تعین نہیں کرتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذہنی بیماری کو بھی دیگر بیماریوں کی طرح سمجھیں اور متاثرہ فرد کے ساتھ ہمدردی، احترام اور تعاون کا رویہ اختیار کریں۔

طلبہ اور ذہنی صحت :
آج کے دور میں طلبہ بھی ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ امتحانات، اچھے نمبروں کا دباؤ، مستقبل کے بارے میں فکر، والدین کی توقعات اور ساتھیوں سے مقابلہ ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی بات سنیں۔ ہر طالب علم کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے صرف نمبروں کو کامیابی کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔
طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پریشانی کو اپنے اندر رکھنے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد والدین، استاد، دوست یا ماہرِ نفسیات سے بات کریں۔ مدد طلب کرنا کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری کی علامت ہے۔

ذہنی صحت بہتر بنانے کے طریقے :
ذہنی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے چند آسان مگر مؤثر اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے مناسب اور مکمل نیند لینا ضروری ہے۔ بالغ افراد کے لیے عموماً روزانہ تقریباً سات سے نو گھنٹے کی نیند مفید سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح باقاعدہ جسمانی سرگرمی، چہل قدمی یا ورزش بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ متوازن غذا کا استعمال، پانی کی مناسب مقدار اور غیر ضروری طور پر اسکرین کے استعمال میں کمی بھی فائدہ مند ہے۔
اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا بھی ذہنی صحت کے لیے اہم ہے۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور صحت مند تعلقات اسے جذباتی سہارا فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ انسان کو اپنے لیے کچھ وقت ضرور نکالنا چاہیے۔ کتاب پڑھنا، باغبانی، تخلیقی کام، عبادت، فطرت کے قریب وقت گزارنا یا کوئی پسندیدہ مشغلہ اپنانا ذہنی سکون میں مدد دے سکتا ہے۔

مدد حاصل کرنا کیوں ضروری ہے؟
بعض اوقات ذہنی دباؤ یا پریشانی اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے معمولات، تعلقات، تعلیم یا ملازمت پر توجہ نہیں دے پاتا۔ ایسی صورت میں ماہرِ نفسیات، ماہرِ امراضِ نفسی یا کسی مستند طبی ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
ذہنی صحت کے ماہرین سے مدد لینا شرمندگی کی بات نہیں۔ جیسے جسمانی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح ذہنی بیماری کے لیے بھی ماہر سے علاج اور رہنمائی لینا ایک ذمہ دارانہ قدم ہے۔
اگر کوئی شخص خود کو مسلسل ناامید محسوس کر رہا ہو، زندگی سے شدید مایوسی کا اظہار کر رہا ہو یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات رکھتا ہو تو اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے اور فوری طور پر کسی قابلِ اعتماد شخص اور پیشہ ورانہ طبی مدد سے رابطہ کرنا چاہیے۔

معاشرے کی ذمہ داری :
ذہنی صحت صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں لوگ اپنی ذہنی پریشانیوں کے بارے میں بلا خوف بات کر سکیں۔ خاندانوں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی تنظیموں کو ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ذہنی بیماریوں کا مذاق اڑانے یا غلط معلومات پھیلانے کے بجائے درست معلومات، ہمدردی اور مدد کا پیغام عام کیا جانا چاہیے۔

حاصل بحث :
ذہنی صحت کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت صرف جسم کا نام نہیں، بلکہ ایک صحت مند ذہن بھی ایک بہتر زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں اپنے جذبات کو سمجھنے، دوسروں کی بات سننے اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
ایک صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں جسمانی بیماری کی طرح ذہنی بیماری کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے، جہاں پریشان شخص کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ اس کا ہاتھ تھاما جائے، اور جہاں مدد حاصل کرنے کو کمزوری نہیں بلکہ حوصلے کی علامت سمجھا جائے۔
ذہنی صحت کے عالمی دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں، دوسروں کی کیفیت کو سمجھیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر شخص کو سکون، احترام اور مدد حاصل ہو۔ کیونکہ صحت مند ذہن ہی صحت مند خاندان، مضبوط معاشرے اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں