گورنر راج: تاریخ پھر اسی موڑ پر؟ – محمد امین اسد

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی اختلافات کا حل اکثر مذاکرات، مفاہمت اور جمہوری عمل کے بجائے غیر معمولی انتظامی اختیارات میں تلاش کیا جاتا رہا ہے۔ جب کبھی مرکز اور کسی صوبے کے درمیان کشیدگی بڑھی، حکمرانوں کے سیاسی مفادات میں تصادم پیدا ہوا یا امن و امان کی صورتِ حال بگڑی تو گورنر راج کا نسخہ سامنے آگیا۔ ہر مرتبہ اسے ریاستی ضرورت اور آئینی تقاضا قرار دیا گیا، لیکن تاریخ یہ سوال مسلسل اٹھاتی رہی کہ کیا منتخب صوبائی حکومتوں کے اختیارات سلب کرنے سے مسائل واقعی حل ہوئے، یا وفاق اور صوبوں کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی مزید گہری ہوگئی؟

11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے اس سوال کو ایک مرتبہ پھر قومی سیاست کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی، بدامنی اور صوبائی حکومت کی مبینہ انتظامی ناکامی کو اپنے فیصلے کا جواز قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف اسے عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدام سمجھتی ہے۔ لیکن اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو اس سے بھی زیادہ قابلِ غور ہے کہ جس وقت حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی مفاہمت کی کوششیں ایک نتیجے کے قریب پہنچ رہی تھیں، عین اسی وقت ایک ایسا فیصلہ سامنے آگیا جس نے مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔

پاکستان میں صوبائی معاملات میں مرکزی مداخلت کی روایت نئی نہیں۔ جنوری 1949ء میں پنجاب میں گورنر راج نافذ ہوا جو اپریل 1951ء تک جاری رہا۔ 1954ء میں مشرقی بنگال کے انتخابات میں جگتو فرنٹ نے مسلم لیگ کو بھاری شکست دی، لیکن چند ہفتوں بعد اے کے فضل الحق کی منتخب حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ فروری 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بلوچستان میں نیپ کے سردار عطاء اللہ مینگل کی منتخب وزارت ختم کردی، جس کے احتجاج میں صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ مفتی محمود نے بھی اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ صوبائی خودمختاری کا سوال محض ایک صوبے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے وفاقی سیاست میں اصولی اختلاف کی صورت اختیار کرلی۔ بعد ازاں فروری 1975ء اور 1994ء میں سابق صوبہ سرحد، اکتوبر 1998ء میں سندھ، فروری 2009ء میں پنجاب اور جنوری 2013ء میں بلوچستان ایک مرتبہ پھر گورنر راج کے تجربات سے گزرے۔ ان واقعات کے سیاسی اور انتظامی محرکات مختلف تھے، لیکن ایک حقیقت مشترک رہی کہ غیر معمولی مرکزی مداخلت صوبائی مسائل کا کوئی مستقل اور یقینی حل ثابت نہ ہوسکی۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 اسی نوعیت کے غیر معمولی حالات سے نمٹنے کا قانونی راستہ فراہم کرتے ہیں، لیکن دونوں کے تقاضے مختلف ہیں۔ آرٹیکل 232 کے تحت شدید داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 اس وقت صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات صدر یا گورنر کو منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے جب صوبے کا حکومتی نظام آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے۔ گورنر راج کی ابتدائی مدت دو ماہ اور پارلیمانی منظوری کے ساتھ مجموعی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد یا صدر کے براہِ راست اقدام کی صورت میں دس دن کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی الگ الگ منظوری ضروری ہے۔ گویا آئین نے ان اختیارات کو غیر معمولی حالات کے لیے رکھا ہے، معمول کے سیاسی اختلافات کے حل کے لیے نہیں۔

موجودہ صورتِ حال میں مولانا فضل الرحمٰن کی 11 اکتوبر کی عصر کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس نے اس بحران کا ایک اہم پہلو سامنے رکھا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق 7 اکتوبر کو تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے ان سے رابطہ کرکے وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان تصادم روکنے کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔ اگلے روز اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا بھی اسی مقصد کے لیے ان سے ملے۔ یوں دونوں فریقوں کی رضامندی سے ایک سیاسی راستہ نکلتا دکھائی دیا۔ مولانا کی کوششوں کے نتیجے میں، ان کے بقول، تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی پیش قدمی مؤخر کردی، جبکہ حکومت نے بھی ایمرجنسی کے فیصلے کو روک دیا۔ یہ بذاتِ خود ایک اہم پیش رفت تھی کہ دونوں فریق تصادم کے بجائے بات چیت کی طرف بڑھ رہے تھے۔

مولانا کے مطابق اصل اختلاف مطالبات سے زیادہ ان پر عمل درآمد کی ترتیب کا تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ تحریک انصاف پہلے لانگ مارچ ختم کرے، جبکہ تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت اور عدالتی فیصلے کے مطابق علاج کے لیے ہسپتال منتقلی چاہتی تھی۔ مولانا نے دونوں فریقوں کے سامنے یہ اصول رکھا کہ پہلے اور بعد کی بحث کے بجائے ایک دوسرے کے مطالبات اصولی طور پر تسلیم کیے جائیں اور عمل درآمد کی ترتیب ثالث پر چھوڑ دی جائے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کی قیادت، بشمول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، نے مطالبات تسلیم ہونے پر لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اصولی اتفاق کیا۔ مولانا نے بتایا کہ 11 اکتوبر کی صبح چھ بجے وزیراعظم اور اسحاق ڈار سے ملاقات میں اس پیش رفت کی توثیق ہوئی، ساڑھے نو بجے وزیراعظم نے تجاویز کابینہ کے سامنے رکھنے کی اطلاع دی، لیکن تقریباً ایک گھنٹے بعد اسحاق ڈار نے انہیں بتایا کہ کابینہ گورنر راج اور ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ مذاکرات کی اندرونی روداد مولانا کے اپنے بیان پر مبنی ہے، لیکن اگر معاملہ واقعی اس مرحلے تک پہنچ چکا تھا تو پھر یہ سوال نہایت اہم ہوجاتا ہے کہ سیاسی مفاہمت کے امکانات کو مکمل طور پر آزمائے بغیر غیر معمولی انتظامی اقدام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس واقعے میں تاریخ کی ایک حیرت انگیز مماثلت بھی موجود ہے۔ جولائی 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور پاکستان قومی اتحاد، یعنی پی این اے، کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد معاہدے کے مسودے پر بڑی حد تک اتفاق ہوچکا تھا۔ اس وقت پی این اے کے مذاکراتی وفد کی قیادت مفتی محمود کررہے تھے۔ 3 جولائی کے اخبارات میں مفاہمت کی پیش رفت سامنے آئی اور 4 جولائی کو بھٹو نے بھی مذاکرات کے نتائج پر اظہارِ خیال کیا۔ اگرچہ معاہدے کی حتمی منظوری کے بعض مراحل باقی تھے، لیکن سیاسی حل کی امید موجود تھی۔ اس کے باوجود 5 جولائی کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کردیا اور مذاکرات کا عمل ادھورا رہ گیا۔ آج تقریباً انچاس برس بعد مفتی محمود کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمٰن ایک مرتبہ پھر دو متحارب سیاسی قوتوں کو مفاہمت کی میز پر لانے کی کوشش کررہے تھے، لیکن ان کے بقول، جب معاملات اصولی اتفاق تک پہنچے تو اچانک گورنر راج نافذ ہوگیا۔ یقیناً 1977ء کا ملک گیر مارشل لا اور آج کا صوبائی گورنر راج آئینی و قانونی اعتبار سے یکساں نہیں، تاہم دونوں واقعات میں مذاکرات کے امکانات پر غیر معمولی ریاستی فیصلے کے غالب آنے کی مماثلت غور طلب ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک اور اہم سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی اور امن و امان کی خرابی ہی گورنر راج کی بنیاد ہے تو پھر یہی معیار بلوچستان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ انہوں نے تسلیم کیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں، لیکن ان کے نزدیک حکومت کی کارکردگی اور وفاقی سلامتی کی پالیسیوں سے اختلاف کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ پالیسی سے اختلاف کو ریاست سے عدم تعاون یا آئینی نظام کی ناکامی کا مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔

یہاں اصل سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت کا نہیں بلکہ آئینی اصول کی یکساں پابندی کا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ایک حقیقی اور سنگین مسئلہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ صوبائی حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی، لیکن سرحدی سلامتی، خفیہ معلومات، وفاقی سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان تعاون بھی ناگزیر ہے۔ اگر خرابی ان اداروں کی مجموعی کارکردگی اور باہمی روابط میں ہے تو محض صوبائی حکومت کے اختیارات تبدیل کردینا مسئلے کے مستقل حل کی ضمانت نہیں۔ اسی طرح اگر واقعی صوبے کا آئینی نظام چلانا ناممکن ہوچکا تھا تو اس کے ٹھوس شواہد عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے آنے چاہییں، تاکہ غیر معمولی اقدام کی ضرورت اور آئینی حیثیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جاسکے۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سیاسی مسائل کو انتظامی احکامات کے ذریعے وقتی طور پر دبایا جاسکتا ہے، لیکن عوام کے احساسات، سیاسی اختلافات اور وفاقی بداعتمادی کو حکم ناموں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ 1973ء میں بلوچستان کی حکومت کی برطرفی کے احتجاج میں مفتی محمود نے وزارتِ اعلیٰ چھوڑ دی تھی، اور آج ان کے صاحبزادے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات سلب کیے جانے کے خلاف آئینی مزاحمت کا اعلان کررہے ہیں۔ یہ محض ایک خاندان یا جماعت کی سیاسی تاریخ نہیں، بلکہ پاکستان کے وفاقی نظام میں بار بار سامنے آنے والے اسی بنیادی سوال کا تسلسل ہے کہ مرکز کے اختیارات کہاں ختم ہوتے ہیں اور صوبوں کے آئینی حقوق کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔

1977ء میں سیاسی مفاہمت کا ایک موقع ضائع ہوا اور ملک نے اس کے بعد ایک طویل غیر جمہوری دور دیکھا۔ آج تاریخ نے ہمیں ایک مرتبہ پھر ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی تدبر، آئینی ضبط اور مذاکرات کی ضرورت غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات خواہ کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، سیاسی مکالمے کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔ کیونکہ حکومتیں اختیارات سے چلائی جاسکتی ہیں، مگر وفاق اعتماد، انصاف اور آئین کی بالادستی سے قائم رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں