کیا سورج اپنے وجود کا مطلب پوچھ سکتا ہے؟ کیا چاند انسانی تاریخ کا گواہ بن سکتا ہے؟ ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کا ناول “آہنگیا” ایسی ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہاں سورج، چاند، ستارے اور خلا گفتگو کرتے ہیں۔ روشنی، زندگی اور تخلیق پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اسی کائناتی فضا سے آہنگیا کا سفر انسانی دنیا کی طرف کھلتا ہے۔
آہنگیا زمین پر تہذیب اور انسانی شعور کی بدلتی صورتیں دیکھتا ہے۔ قدیم معاشروں سے علمی مراکز اور جدید اداروں تک، انسان کی تخلیقی صلاحیت اور تباہ کن قوت اس کے سامنے آتی ہیں۔ انسان بستیاں آباد کرتا ہے، علوم تخلیق کرتا ہے، مگر جنگ، استحصال اور اقتدار کی ہوس سے اپنی تعمیر کو نقصان بھی پہنچاتا ہے۔ آہنگیا اس انسان کی کہانی لکھنا چاہتا ہے۔ آگے چل کر پانی، جنگلات، توانائی اور ماحولیاتی بقا کے سوال نمایاں ہوتے ہیں۔ اختتام پر خود آہنگیا کی شناخت بھی بدلتے حیاتیاتی تسلسل میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
ناول کی قوت اس تصور کی وسعت ہے۔ اس کا فنی امتحان بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ اتنی بڑی تاریخ کو قصے میں ڈھالتے ہوئے کہیں معلومات کرداروں پر غالب آ جاتی ہیں۔ بعض مقامات پر زندگی کا تجربہ دکھانے کی بجائے اس کا مطلب سمجھایا جاتا ہے۔ قاری واقعے میں شریک ہونے کے بجائے ایک فکری گفتگو سننے لگتا ہے۔
میخائل باختن کی نظر سے کائناتی مجلس ایک دل چسپ مکالماتی امکان ہے۔ لیکن مختلف ہستیوں کا بولنا تب کثیرآوازیت بنتا ہے جب ان کے تجربے اور خیالات آزاد بھی ہوں۔ “آہنگیا” کے ابتدائی مکالموں میں اکثر آوازیں توازن، امید اور تعلق کی مشترک حکمت بیان کرتی ہیں۔ اس سے شعری ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، مگر اختلاف کی شدت کم رہتی ہے۔ کہیں کردار ایک مرکزی فکر کے ترجمان محسوس ہوتے ہیں۔
ژیرار ژینت کے بیانیاتی زاویے سے وقت کا برتاؤ توجہ کھینچتا ہے۔ کروڑوں برس چند سطروں میں گزر جاتے ہیں، پھر کوئی مکالمہ رفتار روک لیتا ہے۔ یہ پھیلاؤ کائناتی موضوع سے مناسبت رکھتا ہے۔ آہنگیا کا مشاہدہ مختلف زمانوں کو مربوط کرتا ہے۔ البتہ راوی جب ہر منظر کی تعبیر خود پیش کرے تو قاری کے لیے معنی دریافت کرنے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔
میٹافکشن کا اہم لمحہ آہنگیا کا انسان کے متعلق قلم اٹھانا ہے۔ کہانی اپنے اندر کہانی لکھنے کا سوال پیدا کرتی ہے۔ انسان کو ایک بیانیے میں قید نہ کرنے کا ارادہ اس خودآگہی کو معنی دیتا ہے۔ تاہم اس تکنیک کا امتحان یہ ہے کہ لکھنے والا اپنے فیصلوں کو بھی سوال کے سامنے رکھے۔ جہاں آہنگیا معاشرت اور سیاست کی قطعی توضیح کرنے لگتا ہے، وہاں یہ کشادگی سکڑتی ہے۔
برائن میک ہیل کے تناظر میں انسانی اور غیرانسانی دنیاؤں کا اتصال قابلِ غور ہے۔ تاہم غیرمعمولی دنیا کی موجودگی کسی ناول کو خودبخود مابعد جدید نہیں بناتی۔ لنڈا ہچن کی فکر سامنے رکھیں تو یہاں ایک تناؤ ملتا ہے۔ متن انسان کو ایک کہانی میں سمیٹنے سے گریز چاہتا ہے، مگر اخلاقی اصلاح اور توازن کی جامع منزل بھی تجویز کرتا ہے۔
روشنی، اندھیرا اور آہنگ ناول کی علامتی بنت بناتے ہیں۔ روشنی کبھی علم، کبھی امید اور کبھی تعلق کا مفہوم اختیار کرتی ہے۔ مختصر، حکمت آمیز مکالمے نثر میں نغمگی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن علامت کی مسلسل وضاحت اس کی تہہ داری کم کرتی ہے۔ یکساں حکیمانہ لہجہ کرداروں کی انفرادی آوازوں کو قریب بھی لے آتا ہے۔
ماحولیاتی قرأت میں ناول کی اہمیت بڑھتی ہے۔ زمین انسانی سرگرمیوں کا پس منظر رہنے کے بجائے زندگی کی مشترک شرط بنتی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ فطرت اپنی مستقل قدر رکھتی ہے یا محض انسان کی بقا کا وسیلہ ہے۔ ماحولیاتی بیانیات سے یہ سوال پڑھنا مفید ہے، اگرچہ ماحولیاتی فکشن لازماً مابعد جدید نہیں ہوتا۔
ان تحفظات کے باوجود ڈاکٹر شاہدہ کو اس جسارت کا کریڈٹ ملنا چاہیے۔ انھوں نے ایسا موضوع منتخب کیا جو اردو ناول میں نایاب ہے۔ اس کے لیے زبان، کردار اور اسلوب تخلیق کرنا فرہاد کے تیشے سے نہر کھود کر شیریں تک پہنچنے جیسی، قریب قریب ناممکن کوشش ہے۔ فرہاد نے تو اسی تیشے سے اپنی جان لے لی۔ غالب کو اس انجام سے مایوسی ہوئی تو اسے “سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود” کہہ دیا۔ ڈاکٹر شاہدہ نے سپر نہیں ڈالی۔ انھوں نے اسلوب ایجاد کیا اور بڑی حد تک کامیابی سے برتا بھی۔ “آہنگیا” کی قدر میں اس تخلیقی محنت کا اعتراف ضروری ہے۔


