دو دن قبل جب میں نے اپنے دوست ڈاکٹر شیر شاہ سے ان کے ریڈیو پروگرام علم وآگہی سے ڈاکٹر آصف کے بارے میں بیان کردہ کچھ معلومات کو اپنی تحریر میں بیان کرنے کی اخلاقی اجازت مانگی تو انھوں نے اجازت دیتے ہوۓ کہا” آپ ان سے خود بات کریں۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ میں آپ کا نمبر انھیں اور ان کا نمبر آپ کو ابھی بھیجتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ آپ ان کی والدہ سے ضرور ملیں اور ان کے بارے میں بھی کچھ تحریر کریں”۔
اس وقت پاکستانی رات کے بارہ بجا چاہتے تھے۔ برطانیہ میں صبح انگڑائ لے چکی تھی لیکن مجھے ڈاکٹر آصف کو صبح،صبح فون کرنا مناسب نہ لگا۔ دوسری صبح ہمارے دن کے کوئ گیارہ بجا چاہتے تھے کہ ان کی کال آ گئ۔ رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد انھوں نے پوچھا میں شیر شاہ کو کیسے جانتی ہوں۔ میرے اس جواب پے کہ جب ہم نوعمری کی سرحد پے کھڑے آگے بڑھنے کی تگ ودو میں مصروف تھے ، اس وقت سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ہلکی سی ہنسی کی آواز کے ساتھ دوسرا سوال آیا آپ بھی جامعی ہیں۔ میرے اقرار پے کہا میں ایک اور جامعی کے نام سے بھی واقف ہوںں بہت تقریریں کرتاتھا۔ میں نے پوچھا آپ شفیع نقی جامعی کی بات تو نہیں کر رہے ساتھ ہی پوچھا کیا آپ بھی اس وقت کے تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ جلدی سے جواب آیا نہیں بھئ میں بہت شرمیلا تھا یہ تقریریں وغیرہ میرے بس کی بات نہیں تھی ،میرا ایک دوست ضیاء معیز مقرر تھاوہ ہمیشہ مقابلے سے ایک رات قبل گھبرایا ہواگھر آتا اور فرمائش کرتا کہ میں اسے تقریر لکھ دوں سو میں نے اس کو شفیع کے خلاف بہت تقاریر لکھ کے دیں۔ میں کبھی شفیع سے ملا نہیں لیکن ان کے نام سے واقف ہوں اور اپنے مخالفانہ دلائل سے۔
اپنے طالب علمی کے وقت کو یاد کرتے ہوۓ کہنے لگے “ میر ے چچا اعلیٰ تعلیم کے بعد جب پاکستا ن واپس آے تو اپنے ساتھ Encyclopaedia کے 23 volumes لاۓ تھے۔ میں اسکول سے آنے کے بعد اور خالی وقت میں انسائیکلو پیڈیا ہی میں گھسا رہتاتھا وہ سیکھنے اور جاننے کا خزانہ تھا۔ مجھے اپنی آگے کی زندگی میں سیکھنے کے اس عمل سے بہت مدد ملی “ میں نے بات بڑھاتے ہوۓ کہا وہ اس وقت کا گوگل تھا۔ میری بات کو رد کرتے ہوۓ کہا” اس میں گوگل سے بہت زیادہ معلومات تھیں”۔ اس گفتگو کے اختتام پے طے ہوا کہ میں انھیں سوالات بھیجوں گی اور وہ تحریری یا زبانی جواب دیں گے۔
میرے سوالات کچھ یوں تھے۔
“ میڈیکل کی تعلیم کے دوران آپ نے طب کے کس شعبے میں ماہر بننے کاسوچاتھا، جب کہ اسی وقت آپ کی صحت کے مسائل سر اُٹھا چکے تھے۔ آپ نے اس شعبے میں آگے جانے کا کیوں نہیں سوچا؟
آپ کو دل میں ایسا کیا خاص نظر آیا کہ آپ نے اس کے درودیوار کی درستگی سے کام شروع کیا پھر بچوں کے سنگترے برابر دل کی باریکیوں میں نۓ رستے تلاش کئے اور دل ادھر سے ادھر بھی کرنے لگے؟
آج کی دنیا میں بچوں کے دلوں کو کن امراض کا زیادہ سامنا ہے۔ خاص طور پر پاکستانی بچوں کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
بر طانوی نیشنل ہیلتھ سروس سے سبکدوشی کے بعد اب کیا ارادے ہیں؟غالب کے دل کی رفو گری کریں گے یا کوئ اعزازی کام؟
آپ نے کبھی یوں مرکز نگاہ ہونے کے بارے میں سوچا تھا، کیسا لگتا ہے ؟
ڈاکٹر آصف کے جوابات کچھ یوں ہیں۔
“ آپ نے تو بہت سے سوالات پوچھ لئے ہیں۔ میرے خیال میں ان کا جواب کسی ترتیب میں دینے کے بجاۓ، یادوں کے بہاؤ کے ساتھ، بے ترتیب ہی دئیے جائیں تو شاید میرے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔
جب میں بارہ برس کاتھا تب ایک ایسی خبر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیاتھا جس کی بازگشت آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے۔
یہ ۱۹۶۷ کازمانہ تھا۔ جب جنوبی افریقہ میں ایک انسان کے سینے میں دوسرے انسان کا دل پیوند کیاگیا تھا۔ آپ کو پتہ ہے اس وقت بات کو یا خبر کو ادھر سے ادھر جانے کا ایک ہی ذریعہ تھا۔ ریڈیو اور اخبارات، پاکستان میں اس وقت ٹی وی بھی نہیں تھا۔ اور سوشل میڈیا نام کے کیڑے سے دنیا پاک تھی۔ اس ایک واقع نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ لوئ واشکانسکی نامی مریض کی لمحہ لمحہ کی خبر سے اخبارات بھرے ہوتے تھے۔ روزانہ نئ تفصیلات شائع ہوتی تھیں۔ اس سب کے باوجود لوئ چند روز بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔
اپنی بارہ سالہ زندگی میں مجھے دونئ اصطلاحات سے آشنائ ہوئ۔ قلب کی جراحی اور پیوند کاری۔
اُس وقت مجھ سمیت کسی کے وہم و گماں بھی نہ تھا کہ محض بیس برس بعد یہ دو اصطلاحات میری زندگی کا محور بن جائیں گی اور میں عمر بھر اسی محور میں گھومتا رہوں گا۔
میں اب یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس خبر نے میرے لاشعور میں کہیں ایک چراغ روش کر دیا تھا۔ جس کی روشنی مجھے بتدریج طب اور بالخصوص جراحی کی طرف لے جانے لگی۔ مگر خواب سے تعبیر تک کا سفر کب سیدھا اور ہموار ہوا کرتا ہے۔
انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے” پیالہ لبوں تک پہنچتے پہنچتے بھی چھلک سکتا ہے”۔
کچھ ایسا ہی سلسلہ میرے ساتھ بھی چلتا رہا کبھی پیالہ چھلک پڑتا اور کبھی دور چلا جاتا۔ میرے خوابوں اور ان کی تعبیروں کے درمیان بھی بے شمار نشیب وفراز،آزمائشیں اور کٹھن مراحل تھے۔
میں سمجھتا ہوں مجھے آپ کو یہ بات بتانی چاہئیے کہ میری شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں سب سے گہرا اثر جس سانحے نے ڈالا اور ہماری زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ وہ ۱۹۷۱ کی جنگ کا واقعہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے دوران میرے والد جنگی قیدی بن گۓ اور اپنی زندگی کے اگلے تین برس انھوں نے ہندوستان کے ایک جنگی کیمپ میں بسر کئے۔ جب غربت کے ساۓ چاروں طرف منڈلا رہے ہوں اور مستقبل کی بنیادیں لرزہ با اندام ہوں تو انسان کی سوچ، ترجیحات اور ارادے سب لرزنے لگتے ہیں۔ وقت اور زندگی کی بے یقینی انسان کو وقت سے پہلے سنجیدہ بنادیتی ہے اکثر بوڑھا بھی کر دیتی ہے۔
میری خوش قسمتی سمجھیے کہ بچپن کے ان تاریک دنوں میں مجھے ایک ایسا سہارا میسر آیا، جن کی شفقت اور راہنمائ نے مجھے نہ صرف بھٹکنے سے بچایا، میری تقدیر سنوارنے میں بنیادی کردار بھی ادا کیا۔
رشتے میں وہ میرے چچا تھے لیکن میں انھیں “ ابا” کہتا تھا۔ انھوں نے نہ صرف میرا ہاتھ تھاما، روشنی دکھائ،حوصلہ دیا،قدموں کو صحیح راہ پے رکھا، مجھے طب کے پیشے کی طرف بڑھنے میں راہ نمائ کی۔ وہ نظم وضبط کے سخت پابند تھے۔ میرے کئ ہم جماعت ان سے ملنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے ان سب کو تعلیم ، وقت اور اصولوں کی پابندی کے معاملے میں چچا کی سرزنش اور گفتگو یاد ہوگی”۔
میرے پاس ان کی محبت،سرپرستی اور احسانات کا بدلہ چکانے کا ایک ہی راستہ تھا۔ وہ راستہ دل لگا کے پڑھنے کی راہ داری سے گزرتا تھا۔ مجھے بہت کم عمری میں اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری سے نبھانا ہے اوران تھک محنت کرنی ہے۔
سو میں نے یہ ہی کیا!
مجھے ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ میرے ہم جماعت مجھے کتابی کیڑا سمجھتے اور کہتے تھے ان کے خیال میں دنیا مافیہا سے بے خبر میں کوئ الگ مخلوق تھا۔ مگر وہ ان محرکات سے آگاہ نہ تھے جو میرے اندر کنڈلی مارے بیٹھے تھے۔
انھیں قطعا اندازہ نہین تھا کہ میرے ہر وقت کتابوں میں غرق رہنے کا سبب علم کی جستجو نہیں ہے۔ میرے اندر ایک خاندان کی امیدیں، ایک محسن کے احسانات اور ایک غیر یقینی مستقبل کو محفوظ بنانے کی تگ ودو چل رہی ہے۔ ان دنوں میں اپنی تیاری کے علاوہ ، سپلیمنٹری آنے والے دوستوں کو پڑھاتا بھی تھا۔ میڈیکل کا امتحان پاس کیا اور
میں نئ راہوں کی تلاش میں برطانیہ چلا آیا۔ دیار غیر میں آز مائشو ں کا سفر آسان نہیں تھا۔بچوں کے امراض قلب کا جراح بننا بھی کوئ ہنسی کھیل نہیں تھا۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ محنت،محرومی،آزمائش اور مسلسل جدوجہد اس داستان کے ستون ہیں۔
اس سفر کا پہلا بڑا امتحان اس قت سامنے آیا جب میں برطانیہ پہنچا تو اُس زمانے میں نسلی تعصب اور امتیازی سلوک عام تھا،یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ بعض مقامات پر کھلم کھلا روا رکھا جاتا تھا۔ مجھے صرف وہ ملازمتیں میسر آتی تھیں جنھیں کوئ سفید فام برطانوی ڈاکٹر اختیار کرنے پے آمادہ نہ تھا۔ یہ ملازمتیں نہایت دشوار،طویل اوقات کار اور پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ مگر میں نے ان مشکلات میں بھی اپنے لئے ایک موقع تلاش کرلیا۔ جہاں دوسرے لوگ جانے سے کتراتے تھے وہ میدان میں نے سر کرنے شروع کردئیے۔ایسی تمام ملازمتوں میں ، میں بے تحاشہ محنت کر سکتاتھا بنا کسی مقابلے اور رکاوٹ کے، میں نے کبھی نسلی تعصب اور امتیازی سلوک کو اپنی شناخت متعین کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی اپنے دل میں تلخی اور کدورت کو جگہ دی۔ شاید یہ دونوں خصوصیات مجھے اپنے خاندان سے ملی ہیں۔
مجھے یاد ہے ،میں نے ایک پورا سال ایسی ملازمتوں میں گزارا جہاں میں واحد جونئیر ڈاکٹر ہوتاتھا۔ نہ چھٹی،نہ فرصت،نہ کسی بھی قسم کی تعطیلات اور معاوضہ نہایت قلیل—- ان ملازمتوں مین ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میرا گھر والوں سے رابطہ تک منقطع ہوگیا۔ میرے اہل خانہ نے میری تلاش میں ایک صاحب کو محض یہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا کہ میں زندہ بھی ہوں یا نہیں!ان گزرے برسوں کی مثبت بات یہ ہے کہ راہ کی ساری رکاوٹوں اور
مشکلات میں میری صلاحتیوں کو نکھرنے کا خوب موقع ملا۔ میرے سینئیر ڈاکٹر ابتدا میں حیران ہوتے تھے پھر رفتہ ،رفتہ میری محنت کے معترف ہونے لگے۔ انھیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کیسا “احمق” شخص ہے جو دن رات کام کرتا ہے لیکن نہ تو اس کے جوش میں کمی آتی ہے نہ توانائی میں اور سب سے بڑھ کر نہ کبھی زبان پے شکوہ آتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ یہ صرف ان کی داستان نہیں اس دور میں برطانیہ آنے والے ڈاکٹروں، خاص طور پے برصیغر سے تعلق رکھنے والے معالجین کی زندگیاں ایسی ہی گزرتی تھیں۔ زندگی اور پیشے کے اتار چڑھاؤ سے گزرتے ،گزرتے میں نیو کاسل میں بچوں کے ا مراض دل اور تبدیلی دل کے ہسپتال کا انچارج بن گیا۔ آج میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ میری زیر نگرانی تربیت حاصل کرنے والے درجنوں ڈاکٹر دنیا بھر کے ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔ میں نے پاکستان کے بھی ان گنت سرجنوں کو دل کی سرجری کی تربیت اور تعلیم دی ہے۔ میں ان سے ملتا رہتا ہوں اور انھیں ضرورت پڑنے پے مدد بھی مہیا کرتا ہوں۔ ڈاکٹر آصف نے نیروبی میں بچوں کے امراض دل کا ایک ہسپتال بھی بنایا ہے۔ اس ہسپتال کو وہ سال میں دو دفعہ دیکھنے جاتے ہیں۔ یہ ہی نہیں وہ ساری دنیا میں لیکچر دینے کےعلاوہ مختلف ہسپتالوں کی پالیسیوں کو بنانے اور نگرانی کے بھی ذمہ دار ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ انھیں انٹار کٹکا کے علاوہ دنیا کے کونے کونے سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔
ڈاکٹر آصف نے بتایا کہ جب وہ life achievement award کی تقریب کے سلسلے میں 10 Downing Street پے واقع برطانوی وزیراعظم سے ملنے پہنچے جوکہ اس تقریب کا ایک حصہ ہے۔ وہ ان کی زندگی کا بہت تاریخی لمحہ تھا۔ وہ بتاتے ہیں میں سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ میرے سامنے برطانیہ کے 58 وزیراعظم کی تصاویر آویزاں تھیں۔ میرے سامنے لارڈ پامر سٹن کی تصویر بھی مسکرا رہی تھی۔ وہی پامرسٹن جو 1857 کی جنگ آزادی کے زمانے میں برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ وہی 1857 جس کے ہنگاموں میں میرے خاندان کے افراد شامل تھے۔ انھیں اپنی جانیں بچانے کے لئے گھر بار چھوڑنے پڑے اور اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں پناہ لینی پڑی۔
میں اس تصویر کے سامنے رک گیا۔ مجھے لگا جیسے وقت تھم گیا ہے۔ میرے ذہن میں اپنے آباؤاجداد کی قربانیوں،بے وطنی اور مصائب کی فلم چلنے لگی۔
ڈاکٹر آصف اُں لمحوں کو محسوس کرتے ہو ۓگویا ہوۓ “ ایک طرف وہ تاریخ تھی جس میں ،میرے بزرگوں نے دربدری کی زندگی گزاری۔ دوسری طرف آج میں ان ہی بزرگوں کی نسل سے تعلق رکھنے والا،ڈیڑھ صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد سلطنت کے اس ایوان میں ایک اعزاز یافتہ جراح کی حثیت سے کھڑا تھا۔ یہ لمحہ میرے لئے محض ایک سرکاری تقریب کا حصہ نہیں تھا۔ یہ ماضی اورحال کا ایک خوبصورت مکالمہ ، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا لمحہ ،اور شاید اس طویل سفر کی معنویت کو محسوس کرنے کابھی،جو نسلوں کے دکھ،ہجرت،محنت اور امید سے عبارت ہیں”۔
وہ کہتے ہیں” تاریخ کا سفر بہت عجیب ہے۔ کبھی وہ انسان کو بے وطن کرتی ہے اور کبھی اس کی آنے والی نسلوں کو ایسے مقام پر لا کھڑا کر تی ہے جہاں ماضی کی محرومیاں اورحال کی کامیابیاں ایک دوسرے کے رو برو آجاتی ہیں”۔
ڈاکٹر آصف کو شاعری سے خاصہ شغف ہے۔ میں گزشتہ تحریر میں لکھ بھی چکی ہوں کہ انھیں غالب، فیض اور اقبال بہت پسند ہیں۔ سو انھوں نے موقع کی مناسبت سے ایک شعر بھی پڑھا۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔
ڈاکٹر آصف حسن! آج جہاں کھڑے ہیں، وہ مقام انھیں ایک لمبی آبلہ پائ کے بعد ملا ہے۔ اس سفر کی داستان میں کہے ان کہے بہت پڑاؤ ہیں۔ ان کی گفتگو میں پانی کا سا ٹہراؤ ،ابھرتے سورج کی امیدیں ،چاندنی کی سی ٹھنڈک ہے۔ اُن کی شخصیت ایک منسکر المزاج انسان کی سی ہے، ان کی زبان میں ادبی چاشنی بھی ہے،ان کی سوچ ایک سیدھی لکیر کی ماند ہے۔ اس لکیر پے چلتے ہوۓ انھیں ادھر اور اُ دھر سے کوئ غرض نہیں ہے۔ اُن سے گفتگو کرتے ہوںۓ محسوس ہوتا ہےکہ انھوں نے زندگی کا سفر ایک خواب کے پیچھے چلتے ہوۓ گزارا ہے۔
آصف حسن کو ٹینس کھیلنا،تیراکی اور پھول پھلواری کی آب یاری میں وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے۔
–


