سوز اور خسارے کے شب و روز/محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہواؤں اور فضاؤں کے بدن سے جنم لیتی، پرورش پاتی بیماریوں کی دکھ دیتی وبائیں، ،سوگ میں مبتلا کرنے والی زمین کا سینہ چاک کر دینے والی زمینی و سماوی آفات، دل دہلا دینے والے جاں گسل حادثات و واقعات، اور جنگ و جدل کی سنگینی سے حواس کو شل کرتی چیخیں اور بم دھماکوں میں بے قصور انسانی جانوں کے اتلاف پر سوگ والم میں مبتلا اشکبار آنکھیں جو انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتی پیں۔ کوئی انہیں قسمت کا لکھا جان کر نظر انداز کرتا ہے، کوئی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور کبھی انہیں قدرت کی طرف سے انسانی لغزشوں، بد اعمالیوں اور احکامات الہیٰ کی خلاف ورزیوں، انتہائی حدود کو چھوتی قتل وغارت گری اور معاشرے کی بے راہروی و بے حیائی کو قدرت کی طرف سے سرزنش اور ناراضی یا عذاب الٰہی پر محمول کیا جاتا ہے۔

ماضی میں نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایسے بڑے واقعات اور حادثات رونما ہوتے رہے ہیں جو انسانوں کے لئے سخت آزمائش اور امتحان کا باعث بنے ہیں۔ مثلآ کرونا (کووڈ) جیسی خطرناک اور مہلک بیماری جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا، اور جس نے لاکھوں انسانوں کے لئے نا صرف صحت کے مسائل پیدا کئے بلکہ لاتعداد افراد کی زندگیاں اور روزگارا س کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کاروبار اور سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوئی اور طویل عرصے تک ملکوں کی معیشت کو نقصان پہنچا۔ کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کرونا کے جان فزا اثرات اب بھی ہمارا تعاقب کر رہے ہیں۔ یہ انتہائی اعصاب شکن اور تباہی پھیر دینے والی آفت تھی جس سے دنیا بھر کے ممالک کو آفت زدہ بنا ڈالا۔۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آفت قدرت کی طرف سے کم اور انسانوں کی طرف سے پیدا کرده زیاده تھی۔ والله اعلم بالصواب۔

دنیا بھر میں ظلم و ذیادتی، بربریت اور جبرو قتال کے المناک واقعات ہوتے رہے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ سنگینی کے اعتبار سے ان میں سب سے زیادہ ہیبت ناک اور تکلیف دہ امر ہے۔ اسرائیل کی طرف سے ایک عرصے سے فلسطین اور غزہ کے لوگوں پر غیظ و غضب اور دہشت و وحشت کی ظالمانہ کارروائیوں کے ارتکاب کی بدترین مثال ہے۔
فلسطینی مسلمانوں کو پچھلے سال اکتوبر سے اب تک بہیمانہ حملوں میں بے دردی سے شہید کیا گیا ہے۔ معصوم و نہتے مردوں، عورتوں اور بچوں کو خون میں نہلایا جاتا رہا۔ بمباریوں کے ذریعے ان کے گھروں کو منہدم کیا جاتا رہا۔ انکی دکانوں اور کاروبار کو بری طرح نقصان پہنچایا جاتا رہا۔ ہسپتالوں پہ بم برسا کر زخمیوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور عملے کے دوسرے افراد کو بھی شہید کر دیا گیا۔ امدادی کام کرنے والوں کو بھوک، پیاس اور افلاس میں مبتلاء مظلوموں تک رسائی نہیں دی گئی۔ ایمبولینسوں اور امدادی سامان پہنچانے والے ٹرکوں کو فلسطین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ وہاں خون کے دریا بہا دئے گئے۔ فلسطینی مسلمانوں کے خلاف صیہونیوں کے غیض و غضب کی آگ بھڑکتی رہی مگر کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی۔ امریکہ، برطانیہ اور کچھ دیگر مغربی ممالک محو تماشا رہے۔ مسلمان ممالک باوجود وسائل رکھنے کے اور اسلامی آرگنائزیشن کی تنظیم ( OIC ) کے فورم موجود ہونے کے، فلسطینیوں کے حق میں خاطر خواہ آوازیں بلند نہیں ہوئیں۔ عالم اسلام کی طرف سے سوائے کچھ احساس رکھنے والے چند ممالک کے، اسرائیل پر ہونے والے لفظی احتجاج اور تنقید کو بے اثر دیکھ کر صیہونیوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے اور انہیں بلا روک ٹوک مظلوم فلسطینیوں پر آزادانہ چڑھائی کا موقع مل گیا۔ یہ اس زمانے کے ہونے والی فلسطینیوں کی خونریزی کا بد ترین واقعہ ہے۔ ایک طرف اسرائیل کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی اور دوسری طرف بھوکے پیاسے اور زخموں سے چور و نڈھال فلسطینیوں کی فقط مالی امداد، اورخوراک و لباس کی فراہمی کے کام جو کہ پاکستان کے مدارس دینیہ اور دینی جماعتوں کی طرف سے فلاحی کام کی صورت میں سر انجام دیئے جا رھے ہیں ناکافی ہیں۔ اللہ کرے حوصلہ مند فلسطینیوں کی یہ آزمائش جلد ختم ہو جآٔۓ۔ آمین۔ ہمیں بہر طور ندامت ہے کہ شدید مصائب اور مشکلات کے اس وقت میں ہم ان کے زخموں پہ مرہم رکھنے کے بھی قابل نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء دین اور درد دل رکھنے والوں کی طرف سے اپنے ہم وطنوں کو مظلوموں کے لئے کچھ نہیں تو خیر کی دعاؤں کی یاد دہانی کرانا پڑتی ہے۔

پاکستان میں بھی گزشتہ کچھ عرصے سے مصائب وآلام اورجانی و مالی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔ مثلاً دو تین ہفتے پہلے راولپنڈی / اسلام آباد میں تیز ترین ہواؤں کے ساتھ بڑے سائز کے اولوں کی تیز ژالہ باری ہوئی۔ اس ژالہ باری سے سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ بہت سی قیمتی کاروں پر ایسے نشانات ثبت ہوئے جیسے ان پر پتھر پھینکے گئے ہوں۔ جبکہ گھروں کی چھتوں پر نصب سولر پینلز کی ٹوٹ پھوٹ کا بڑا نقصان ہوا۔
اس سے قبل بلوچستان میں جعفر ایکسپریس ریل گاڑی کے مسافروں کو کچھ سر پھرے اور برگشتہ بلوچ دہشت گردوں نے، جنھیں بھارت کی حمائت حاصل تھی، اغوا کیا اور ان پر گولیاں برسائیں۔ یہ ایک ایسا مجرمانہ فعل تھا جس میں بہت سے معصوم مسافروں کو شہید کر دیا گیا۔ جس سے پورے ملک میں غم و اندوه اور سراسیمگی پھیل گئی۔ اس کے علاؤہ راول پنڈی، اسلام آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دو مرتبہ زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان زلزلوں سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔

مزید برآں پاکستان کے دارالحکومت اور اس سے ملحقہ شہروں میں شدید آندھی طوفان آیا۔ اس طوفان نے گھروں میں نصب پانی کی ٹنکیوں، روشندانوں اور سولر پینلز کو اڑا پھینکا۔۔ یہ ایسا خوفناک طوفان تھا جس نے راولپنڈی کے قریب خان پور ڈیم میں تین کشتیوں کو سواریوں سمیت ایسا اٹھا پھینکا کہ کشتیوں کا اتا پتا نہیں رہا۔ ان بیان کردہ واقعات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی لاپروا زندگی کو سنوارہں اپنے گھر والوں، ہمسائیوں، ماتحتوں اور ہم وطنوں کے ساتھ حسن سلوک کو فروغ دیں، دوسروں کے مال پہ ہاتھ صاف نہ کریں، خوش اخلاقی اور خوش گوئی کو شعار بنائیں۔ اللہ کی طرف رجوع کریں، زیادہ سے زیادہ استغفار کریں اور انفرادی سے بڑھ کر اجتماعی توبہ کا اہتمام کریں۔ نہیں معلوم کب کسی کا اچانک بلاوہ آ جاۓ اور ہم اللہ سے توبہ بھی نہ کر سکیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ راقم سمیت ہم میں سے بیشتر دین سے غفلت والی پر عصیاں زندگی گزار رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں