کچھ یاد انہیں بھی کر لو جو لوٹ کے گھر نہ آئے/ علی عباس کاظمی

ایک لمحے میں کہا گیا جملہ، کسی کے لیے پوری زندگی کا دکھ بن سکتا ہے۔ کبھی کسی جلسے کے شور میں کہے گئے الفاظ چند لمحوں کے لیے تالیاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر وہی الفاظ کسی خاموش گھر کے اندر برسوں تک درد کی صورت گونجتے رہتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں الفاظ ہتھیار کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن کیا ہر ہتھیار استعمال کرنے سے پہلے یہ سوچنا ضروری نہیں کہ اس کا وار کہاں جا کر لگے گا؟ کیا سیاسی اختلاف کی شدت ہمیں یہ حق دے دیتی ہے کہ ہم ان جذبات کو بھی اپنی بحث کا حصہ بنا دیں جن کے پیچھے کسی ماں کی دعائیں، کسی بیوہ کی تنہائی اور کسی بچے کی پوری زندگی کا دکھ چھپا ہوا ہے؟سیاست اختلاف کا نام ہے، سوال کرنے کا نام ہے، حکمرانوں اور اداروں سے جواب طلب کرنے کا نام ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں کسی بھی ادارے یا شخصیت پر تنقید کا حق موجود رہتا ہے، کیونکہ تنقید اصلاح کا راستہ کھولتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تنقید کا انداز بھی درست ہو سکتا ہے؟ کیا ہر دلیل کے لیے ہر لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا اختلاف کرتے ہوئے ہم اس حد تک آگے بڑھ سکتے ہیں کہ ان قربانیوں کو بھی نظرانداز کر دیں جن کی بنیاد پر ہمارا اجتماعی سکون قائم ہے؟

یہ مسئلہ صرف ایک بیان، ایک شخصیت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔کیا جدید سیاست نے ہمیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں جذبے، قربانی، وفاداری اور فرض جیسے الفاظ بھی مالی اعداد و شمار کے محتاج ہو گئے ہیں؟ کیا انسانی عظمت کا فیصلہ اب صرف اس بات سے ہوگا کہ کوئی شخص کتنی تنخواہ لیتا ہے یا اس کے ہاتھ میں کتنے وسائل ہیں؟ریاستی نظام یقیناً عوام کے وسائل سے چلتا ہے۔ فوج ہو، پارلیمنٹ ہو، عدلیہ ہو، انتظامیہ ہو یا کوئی اور ادارہ۔۔۔ سب عوامی خزانے سے وابستہ ہیں۔ لیکن کیا کسی شخص کو تنخواہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قربانی، اس کی محنت یا اس کے جذبے کی کوئی قدر نہیں؟ کیا دنیا کا کوئی بھی پیشہ ایسا ہے جہاں انسان صرف معاوضے کے لیے اپنا فرض ادا کرتا ہے؟ کیا ڈاکٹر صرف تنخواہ کے لیے راتوں کو جاگتا ہے؟ کیا استاد صرف تنخواہ کے لیے نسلوں کی تربیت کرتا ہے؟ کیا فائر فائٹر صرف تنخواہ کے لیے جلتی ہوئی عمارت میں داخل ہوتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ کچھ ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے پیچھے صرف معاوضہ نہیں بلکہ احساسِ فرض، انسانیت اور جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔پھر ایک سپاہی کی قربانی کو صرف تنخواہ کے پیمانے سے کیوں ناپا جائے؟ وہ نوجوان جو فوج میں شامل ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کا راستہ پھولوں سے نہیں بلکہ کانٹوں سے بھرا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کبھی ایسا لمحہ بھی آ سکتا ہے جب وہ اپنے گھر سے رخصت ہو اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بچے اس کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھتے رہ جائیں گے، اس کی بیوی اس کی واپسی کی امید میں زندگی گزار دے گی اور اس کے والدین بڑھاپے میں اس کی یادوں کے سہارے زندہ رہیں گے۔

آخر وہ کون سی طاقت ہے جو ایک انسان کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر آمادہ کرتی ہے؟ کیا چند ہزار یا چند لاکھ روپے انسان کو اس مقام تک لے جا سکتے ہیں جہاں وہ موت کو سامنے دیکھ کر بھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاتا؟ کیا دنیا کی کوئی تنخواہ اس باپ کے آنسو خرید سکتی ہے جس کا بیٹا شہادت کے بعد صرف تصویر بن کر رہ جاتا ہے؟ کیا کوئی مالی فائدہ اس ماں کے دل کا درد کم کر سکتا ہے جس نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو وطن پر قربان کر دیا؟یہ حقیقت سمجھنے کے لیے صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کو دیکھنا کافی نہیں، اس گھر کو بھی دیکھنا ہوگا جہاں ایک جوان کی واپسی کا انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ بچہ جس کے لیے اس کا باپ صرف ایک تصویر بن چکا ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کے والد کی تنخواہ کہاں سے آتی تھی۔ اسے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باپ اسے گود میں اٹھانے، اس کے ساتھ کھیلنے اور اس کے خواب پورے کرنے کے لیے واپس نہیں آیا۔ اس کے لیے باپ ایک سرکاری ملازم نہیں بلکہ ایک پوری دنیا ہوتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر عوام کے ٹیکس سے ملنے والی تنخواہ کسی کی خدمت اور کردار کی قدر کم کر دیتی ہے تو پھر یہی اصول سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ سیاست دان بھی عوامی وسائل سے تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں، سرکاری افسران بھی اسی نظام کا حصہ ہیں، وزراء بھی اسی خزانے سے سہولتیں حاصل کرتے ہیں۔ تو پھر مسئلہ تنخواہ نہیں، مسئلہ ذمہ داری کا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کہاں سے معاوضہ لیتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کون اپنی ذمہ داری کس اخلاص، دیانت اور قربانی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ایک سیاست دان بھی قوم کی خدمت کر سکتا ہے، ایک استاد بھی، ایک ڈاکٹر بھی اور ایک سپاہی بھی۔ ہر شعبے کی اپنی اہمیت ہے، مگر کسی کی خدمت کو صرف اس کے معاوضے سے پرکھنا انسانی جذبات اور عظمت کو محدود کر دینا ہے۔ دنیا میں کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کا اصل اجر رقم نہیں بلکہ عزت، اعتماد اور دعائیں ہوتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک رجحان پیدا ہو گیا ہے کہ ہم ہر چیز کو سیاسی مفاد کی عینک سے دیکھنے لگے ہیں۔ ہم مخالف کو کمزور کرنے کے لیے کبھی کبھی ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو وقتی طور پر سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن معاشرے کے حساس طبقات کے زخم مزید گہرے کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جلسوں میں بیٹھے لوگ ہی سامع نہیں ہوتے، ان الفاظ کو وہ خاندان بھی سنتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو ملک کے لیے قربان کیا ہے۔کیا ہمیں یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ ایک جملہ بولنے والے کے لیے چند سیکنڈ کا معاملہ ہوتا ہے، مگر سننے والے کے لیے وہ پوری زندگی کا درد بن سکتا ہے؟ کیا اختلاف کے باوجود احترام باقی نہیں رہ سکتا؟ کیا تنقید کرتے ہوئے زبان کو شائستگی کا لباس نہیں پہنایا جا سکتا؟

فوج یا کسی بھی ادارے پر تنقید کرنا جمہوری حق ہے، مگر قربانیوں کا احترام کرنا اخلاقی فرض ہے۔ اداروں کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، فیصلوں پر بحث کی جا سکتی ہے، مگر ان افراد کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔قومیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور معاشی منصوبوں سے نہیں بنتیں، قومیں اپنے احساسات، اپنے رویوں اور اپنے محسنوں کے احترام سے بنتی ہیں۔ اگر ہم نے ہر مقدس جذبے کو سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ ہم نے اپنے محافظوں اور قربانی دینے والوں کو کس نظر سے دیکھا تھا۔تنخواہ انسان کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، مگر جذبہ انسان کو عظمت دیتا ہے۔ معاوضہ کسی کام کا بدلہ ہو سکتا ہے، مگر قربانی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کچھ لوگ اپنی ڈیوٹی پوری کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی ڈیوٹی پوری کرتے ہوئے تاریخ لکھ جاتے ہیں۔

لہو کی کوئی رسید نہیں ہوتی، شہادت کا کوئی مالی حساب نہیں ہوتا اور قربانی کو کسی بجٹ کی کتاب میں نہیں تولا جا سکتا۔ تاریخ ہمیشہ یہ یاد رکھتی ہے کہ کس نے کتنی تنخواہ لی نہیں، بلکہ یہ کہ کس نے اپنی قوم کے لیے کیا دیااور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں خود سے ایک سوال کرنا چاہیےکہ کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہر چیز کا حساب ہوگا، مگر قربانی کا کوئی احترام نہیں ہوگا؟ یا ہم اب بھی اتنا شعور رکھتے ہیں کہ کچھ جذبوں کو حساب کتاب سے بلند رکھ سکیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں