پاکستان کا آئین اپنے ہر شہری کو مساوی حقوق دیتا ہے، مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی شہری کے ساتھ مذہب، نسل یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہ کرے۔ لیکن افسوس کہ زمینی حقیقتیں ہمیں بار بار آئینہ دکھاتی ہیں کہ ہم نے قانون کی روح کو بھی کمزور کیا اور اسلام کی اصل تعلیمات کو بھی پس پشت ڈال دیا۔پاکستان میں بسنے والی ہندو، مسیحی، سکھ، پارسی، کیلاش اور دیگر اقلیتیں اس دھرتی کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا کوئی اور پاکستانی۔ ان کے بزرگوں نے بھی اس ملک کی تعمیر میں کردار ادا کیا، ان کے سپاہیوں نے بھی سرحدوں پر جانیں قربان کیں، ان کے ڈاکٹروں نے بھی مریضوں کا علاج کیا، ان کے اساتذہ نے بھی نسلوں کو تعلیم دی اور ان کے مزدوروں نے بھی ترقی کے سفر میں اپنا خون پسینہ بہایا۔ لیکن اس کے باوجود آج بھی کئی مقامات پر انہیں شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بعض اوقات نفرت انگیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف اقلیتوں کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو رسموں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کی اصل روح عدل، رحم، رواداری اور حسن سلوک میں پوشیدہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی پوری حیات اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی ایسا حسن سلوک فرمایا جو آج انسانی حقوق کے جدید ترین منشوروں سے بھی بلند نظر آتا ہے۔ مدینہ کی ریاست میں یہودیوں کے ساتھ معاہدہ، ان کے مذہبی حقوق کا تحفظ، ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور ان کے جان و مال کو امان دینا، یہ سب تاریخ کے روشن ابواب ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا، اس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، قیامت کے دن میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔ اس فرمان میں کسی مذہبی مصلحت سے زیادہ انسانیت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔آج سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا اجتماعی کردار اس تعلیم کا آئینہ دار ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں دوسروں پر نہیں، خود اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہم بسا اوقات اسلام کے نام پر ایسے رویے اختیار کر لیتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کسی شخص کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر کمتر سمجھنا، اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا، یا اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا، یہ سب ایسے اعمال ہیں جنہیں نہ قرآن کی تائید حاصل ہے اور نہ سیرت نبویؐ کی۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے کسی ناخوشگوار واقعے کی خبر عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی ہے تو بیرونی دنیا میں اسلام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں رہنے والے لاکھوں افراد اسلام کو مسلمانوں کے کردار سے پہچانتے ہیں۔ وہ قرآن کا ترجمہ نہیں پڑھتے، نہ ہی فقہ کی کتابوں سے واقف ہوتے ہیں۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں، وہ اپنے سے مختلف عقیدہ رکھنے والوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر ہمارا کردار اسلام کے نام پر نفرت، عدم برداشت اور ظلم کی تصویر پیش کرے گا تو نقصان صرف پاکستان کا نہیں ہوگا، بلکہ اسلام کی خوبصورت تعلیمات بھی غلط انداز میں دنیا کے سامنے آئیں گی۔
افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے دین کو تبلیغ سے زیادہ تکرار کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ اسلام نے دل جیتنے کی تعلیم دی ہے، دل توڑنے کی نہیں۔ اگر مسلمان صرف طاقت کے ذریعے اسلام پھیلاتے تو شاید تاریخ کا نقشہ مختلف ہوتا، مگر اسلام کردار، امانت، دیانت اور حسن اخلاق کے ذریعے دلوں میں اترا۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان میں بہت سے مقامات پر بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت مثالیں بھی موجود ہیں۔ ایسے مسلمان بھی ہیں جو اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں، ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہی پاکستان کا اصل چہرہ ہے، مگر بدقسمتی سے چند نفرت انگیز واقعات پورے معاشرے کی نیک نامی پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ خاموش اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت کے خلاف آواز بلند کرے، کیونکہ خاموشی بھی بعض اوقات ظلم کی تائید بن جاتی ہے۔
اصلاح کا آغاز قانون سے ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کی تکمیل کردار سے ہوتی ہے۔ ہمیں نصاب تعلیم میں برداشت، مکالمہ اور انسانی مساوات کے مضامین کو مزید مؤثر انداز میں شامل کرنا ہوگا۔ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو نفرت کے بجائے احترام کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ علماء، دانشوروں، اساتذہ اور صحافیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں، وہ تصویر جس میں ایک غیر مسلم پڑوسی بھی محفوظ ہو، ایک غیر مسلم مزدور بھی باعزت ہو، اور ایک غیر مسلم شہری بھی اپنے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو۔ہمیں اپنے بچوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ انسان کی عزت اس کے مذہب سے پہلے اس کی انسانیت کی وجہ سے ہے۔ اختلاف عقیدے کا ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم نے بارہا انصاف کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف سے انحراف نہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جب اسلام دشمن کے ساتھ انصاف کا حکم دیتا ہے تو پھر اپنے ملک کے پرامن شہریوں کے ساتھ ناانصافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا آج پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ چند منٹوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے اب ہمارے اعمال صرف ہمارے شہروں اور دیہات تک محدود نہیں رہے۔ ہر غلط قدم اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام کا دفاع صرف تقریروں سے نہیں بلکہ کردار سے ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کو امن، محبت اور عدل کا دین سمجھے تو ہمیں پہلے خود ان تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔
پاکستان کو نفرت نہیں، اعتماد کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں ہوتی جہاں اقلیتیں خوف میں زندگی گزاریں، بلکہ وہ ہوتی ہے جہاں ہر شہری اپنے آپ کو برابر کا پاکستانی محسوس کرے۔ یہی احساس قومی وحدت کو مضبوط کرتا ہے، سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے، معاشرتی استحکام پیدا کرتا ہے اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بہتر بناتا ہے۔یہ ملک صرف اکثریت کا نہیں، ہر اس شہری کا ہے جس نے اس سرزمین کو اپنا وطن مانا ہے۔ وطن مذہب سے تقسیم نہیں ہوتا، وطن محبت، اعتماد، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کے ساتھ عدل، احترام اور حسن سلوک کو اپنی اجتماعی شناخت بنا لیا تو نہ صرف پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوگا بلکہ اسلام کا وہ روشن چہرہ بھی دنیا کے سامنے آئے گا جس نے صدیوں پہلے انسانیت کو مساوات، رحم اور انصاف کا سبق دیا تھا۔
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ان پر احسان نہیں، بلکہ ہمارا دینی، آئینی اور اخلاقی فرض ہے۔ جس دن ہم نے اس فرض کو دل سے قبول کر لیا، اسی دن پاکستان ایک مضبوط ریاست اور اسلام ایک زندہ کردار کی صورت میں دنیا کے سامنے پہلے سے زیادہ روشن دکھائی دے گا۔ شاید پھر دنیا ہمارے نعروں سے نہیں، ہمارے عمل سے اسلام کو پہچانے گی اور یہی وہ کامیابی ہوگی جس کی بنیاد نہ طاقت پر ہوگی، نہ خوف پر، بلکہ عدل، محبت اور انسانیت پر ہوگی۔


