باجوں کا بے ہنگم الاپ/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

جا، بیثے جا۔ یہ جو باجا بج رہا ہے، اگر ہو سکے تو اسے روک دے۔ اس کا شور طبیعت پہ گراں گزر رہا ہے۔ پٹاخے بھی پھوڑے جا رہے ہیں۔ لوگوں کا سکون برباد کر رکھا ہے ان لوگوں نے۔ جاوید کے بوڑھے باپ نے پریشانی کے عالم میں اسے گھر سے باہر بھیجا۔ باجا مسلسل بج رہا تھا۔ اب تو بڑے ڈھول کے بجنے کی دھم دھم آواز بھی باجے کے ساتھ گونجنے لگی تھی۔ جاوید نے باہر جا کر متعلقین کو سمجھانے کے پوری کوشش کی
مگراسکے کہنے سننے کی آواز باجوں کے شور میں دب چکی تھی۔ ” ابو جی سڑک پر سے کوئی بارات گزر رہی ہے۔ ان لوگوں کو روکنا ٹوکنا بیکار ہے۔ انہیں احساس ہوتا تو ایسا کام کبھی نہ کرتے جس سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہو”. جاوید نے بیچارگی کے عالم میں اپنےابو سے۔ کہا۔
ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ بارات میں شامل سب گاڑیوں کے ہارن ایک ساتھ بجنے لگے۔ پیں پاں، پوں ں ں ں پا پی پی پی۔ یہ ایک پاپی شور تھا کہ شر کا تماشہ تھا جو کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا۔ پھر کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگیں۔ ہمیں یہ تماشہ جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے۔ نہ جانے یہ کیسا شوق، کیسا شغل ہے؟ کون جانے کیا اس کا حل ہے۔ شائد یہ مجمع کم عقل ہے کہ جو بیج ہم بوتے رہے ہیں یہ اسی کا پھل ہے۔ یہ شوق کی بات نہیں سرا سر خرافات ہے۔ دن ہو یا شام یا رات کے بارہ بج رہے ہوں۔ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ بج رہا ہوتا ہے۔ کبھی اڑوس پڑوس سے بلند آواز میں میوزک بجنے کی آواز آ رہی ہوتی ہے۔ کوئی مزے لینے والا شرارتی بچہ گھر کی بیل بجا کر بھاگ رہا ہوتا ہے۔

انسان تو انسان، بے جان چیزیں بھی بج بج کر اس غدر۔مین حصے دار بن رہی ہوتی ہیں۔ کچن میں جائیں تو برتن ایک دوسرے سے ٹکرا کر بج رہے ہوتے ہیں۔ ہم نے سنا تھا کہ کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں۔ لیکن اگرزور کی آندھی کے جھکڑ چل رہے ہوں تو گھر کے دروازے کھڑکیاں بجنے لگتی ہیں۔ بارش تیز ہونے لگے تو برستی بوندوں کا جلترنگ بجنے لگتا ہے۔ سردیاں بھی اپنا رنگ دکھانے میں پیچھے نہیں رہتیں۔ ٹھنڈ بڑھتی ہے تو بدن کانپتا ہے اور دانت بجتے ہیں۔ بزرگوں نے بجا فرمایا ہے کہ گانا بجانا حرام ہے۔ مگر موسیقی کو روح کی غذا سمجھنے والے گانا چھوڑتے ہیں نہ بجانا۔ بلکہ اب تو نعت ہو یا حمد باری تعالیٰ اس میں بھی میوزک بج رہا ہوتا ہے۔ ٹی وی شوز میں نعتیہ کلام ہو یا قرات، پروگرام کے اختتام تالیاں بجا کر کیا جاتا ہے۔ عارفانہ کلام میں تو پورا سازینہ بجتا ہے۔ “سارے گا ما پا ، پا دھا نی سا ” اور سارے کچے پکے راگوں کے ساتھ جدید آرکسٹرا پہلے بجایا جاتا ہے اور پھر عارفانہ کلام شروع ہوتا ہے۔ وہ بھی انڈین گانوں کی طرز پہ۔ آج کل باجوں گاجوں کا ڈنکا بج رہا ہے۔ یہی ہماری نسل نو کا شوق ہے کہ بزرگوں کی نصیحتیں سننے سے بہتر ہے کہ ائر فون لگا کر بجتا ہوا مغربی میوزک سن لیں۔ فون کی رنگ ٹون میں بھی میوزک بجتا ہے۔ البتہ فجر کی نماز کے لئے الارم تو لگا دیا جاتا ہے، الارم بجتا رہا ہے مگر خواب خرگوش کےزے لینے والے پڑے سوتے رہتے ہیں۔ اس کا کوئی علاج نہیں۔

ہماری اسمبلیوں کے اراکین موسیقیت کا بہت زیادہ ذوق رکھتے ہیں۔ وہ یا تو آپنے لیڈروں کے گن گاتے ہیں یا اسمبلیوں میں ڈیسک بجاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بھی گانے بجانے کو بہت پسند کرتا ہے۔ کسی کو دکاندار سے کچھ خریدنا ہو تو وہ ٹھوک بجا کر خریدتا ہے۔ کسی نے کمہار سے گھڑا خریدنا ہو تو وہ گھڑے پر سوٹی بجا بجا کر کہتا ہے کہ یہ کلے کو یہ صحیح پیس ہے، کریک نہیں ہے۔ دفاتر میں کام کرنے والے کچھ عجلت پسند نوجوان کسی کام کو سر انجام دیتے ہوئے بار بار گھڑی کو دیکھتے ہیں، یہ جاننے کے لئے کہ کیا بجا ہے۔ بالآخروہ کام چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ افسر کا حکم ‘بجا’ لانے میں تردد سے کام لیتے ہیں۔ اسکولوں میں استاد کلاس میں آتے ہی میز پر مولا بخش بجا کر کلاس کو خاموش ہونے کا کہتے ہیں اور کلاس کا مانیٹر پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بجا کر سب کی جان خلاصی کر دیتا ہے۔ ہم عموما روتے بچے کو چپ کرانے کے لئے چٹکی اور تالی بجا بجا کر اسے بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوم قرار داد پاکستان ہو یا چودہ اگست کی تقریبات، رات کوچراغاں ہو تو منچلے نوجوان اور بچے، باجے اور پیپیاں بجا کر آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں کپتان منہ میں انگلیاں ڈال کر سیٹی بجا کر فیلڈرز کو اپنے طرف متوجہ کرتا ہے۔ جبکہ ہاکی اور فٹبال کے میچ میں ریفری سیٹی بجا بجا کر ہلکان ہو جاتا ہے۔ رمضان میں روزہ داروں سے زیادہ روزہ خور افطار کے وقت سائرن بجنے کا انتظار کرتے ہیں۔

گرمیوں کی شاموں میں جب پیاس سے بے حال لوگ سوڈا واٹر پینے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو ٹھا سوڈا پہ جانا بچوں کی چوائس ہوتا ہے۔ بچوں کو اس وقت بہت مزا آتا ہے جب سوڈے کی بوتل کا ہر ڈھکن اڑتا ہوا ٹین کی چھت سے ٹھا کر کے لگتا ہے پھر سارے ڈھکن ایسا سرگم بجاتے ہیں جیسے کسی کنٹونمنٹ میں چاند ماری ہو رہی ہو۔ مشرقی آلات موسیقی میں لوگ سب سے زیادہ بانسری اور شہنائی کو طبلہ نوازی کے ساتھ پسند کرتے ہیں خصوصاً جب بانسری بجتی ہے تو سننے والے اس کی دھن پہ سر دھنتے ہیں۔ اسی طرح الغوزہ بجانے والے علن فقیر کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ ہارمونیم اور گٹار بجانے والوں کو بھی لوگوں کی بڑی تعداد پسند کرتی ہے۔

ہم لوگ رسوم و رواج کی پابندی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ شادی بیاہ سے منسلک تقریبات میں مہندی ہو، مایوں یا ڈھولکی، اس میں دلہن کی سکھی سہیلیاں ڈھولک اور دف بجا بجا کر عروسی نغمات گاتی ہیں۔ جس میں اکثر لڑکے گلے میں مخصوص رنگ کے ڈوپٹے ڈالے لڈی ڈال کر شرکت کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان سے اجتناب کرنا چاہئے۔ کوئی نغمہ گا رہا ہوتا ہے کہ ” کبھی پائل باجے چھن” ۔ کوئی گیت گا رہا ہوتا ہے کہ ” میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں کیوں صدا آ رہی ہے چھننا چھن چھننآ چھن۔ آخر ان گیتوں میں بھی کچھ نہ کچھ بج ہی رہا ہوتا ہے۔ بجنے بجانے کے ان فنکشنز میں بعض شیر خوار بچے بہت تنگ پڑتے ہیں، وہ رونے لگتے ہیں۔ مگر ان کے بہلانے کو کوئی بھی اپنے ساتھ جھنجھنا لیکر نہیں آتا جن کے بجانے سے بچے بہل جاتے ہوں۔ بعض اوقات ہمارے سماجی روئیے بھی دوسروں کے لئے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ کسی نے آپ سے تھوڑا سا بھی اختلاف کیا تو فریق ثانی آپ کی بینڈ بجا دیتا ہے۔ فقیروں کو دیکھو ہر چوک پر لگے سگنل کے بند ہوتے ہی گاڑیوں کے بند شیشے بجا بجا کر بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا غلط ہے کیا بجا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بعض دفعہ ہے عقل حکمران دوسرے ممالک سے خوامخواہ پنگا لیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہے پچھلے سال مودی جی نے پاکستان کے خلاف طبل جنگ بجا کر کتنی بڑی غلطی کی تھی، جس کے نتیجے میں پاکستان نے ہندوستان کے سات جنگی جہاز گرا کر انکی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ اور اب دنیا بھر میں ہماری فوج کی بہادری کا نقارہ بج رہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے دشمن ممے جنگ کا بگل بجانے میں ہمیشہ پہل کی اور پھر اسکا نتیجہ بھی بھگتا۔
پچھلے دور میں ہمارے کانوں میں قریبی علاقوں سے کلیساؤں اور گرجا گھروں سے گجر بجنے کی آوازیں آیا کرتی تھیں جن کا مقصد مسیحی برادری کو گرجا گھروں میں بلانے کی دعوت دینا ہوتا تھا۔ بعض کارخانوں اور فیکٹریوں بھی گھنٹیاں یا سائرن بجا کر چھٹی ہونے یا ڈیوٹی شروع ہونے کا اعلان ہوا کرتا تھا۔ پرانے زمانے میں جب سفر کی سہولتیں نہیں ہوا کرتی تھیں، لوگ قافلوں کی شکل میں گھوڑوں، اونٹوں اور گدھوں پہ سفر کیا کرتے تھے۔ ان چوپاؤں کے گلے میں ڈلی گھنٹیوں کے بجنے کے شور کو جرس کہا جاتا تھا جو گررگاہوں اور آبادیوں سی قافلوں کے گزرنے کی علامت ہوا کرتا تھا۔ یہ شور اتنا بلند ہوتا تھا کہ سننے والوں کے کان بجنے لگتے تھے۔ اب بھی بھیڑوں کے ریوڑ گلی محلے سے گزرتے ہیں تو جرس نما آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔ بجنے گجنے کے اس الاپ میں بزرگوں کا یہ کہنا بالکل’ بجا ‘ ہے کہ بجنے بجانے کا یہ دھندہ ہمارے یہاں ممنوع ہے، جس سے ہمیں اجتناب کرنا چاہئے۔ ہم پہ لازم ہے کہ اپنے اسلاف کی ان آراء کی بجا طور پر بجا آوری کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں