قانون سب کے لیے/ علی عباس کاظمی

کسی ملک کی مہمان نوازی کا اصل امتحان شاید یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو اپنے ہاں جگہ دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ مہمان نوازی اور قانون کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔ پاکستان نے افغان شہریوں کی کئی دہائیوں تک میزبانی کی، ان کے لیے تعلیم، روزگار اور زندگی کے مختلف راستے کھولے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ سرحدی کشیدگی، سلامتی کے خدشات، غیر قانونی آمدورفت اور دستاویزات سے متعلق مسائل نے اس سوال کو محض انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ریاستی اختیار، قانون کی بالادستی اور قومی مفاد سے جوڑ دیا ہے۔ایسے حساس معاملے میں جذباتی فیصلے کے بجائے اصولی بصیرت سے کام لینا ضروری ہے۔

غیر ملکی طالب علم اگر قانونی ویزے، درست سفری دستاویزات اور باقاعدہ تعلیمی اجازت کے ساتھ کسی ملک میں زیر تعلیم ہے تو اس کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص وزٹ ویزے پر آ کر مستقل تعلیم یا ملازمت شروع کر دے، ویزا ختم ہونے کے باوجود قیام کرے، جعلی دستاویزات استعمال کرے یا قانونی حیثیت کے بغیر پیشہ ورانہ سرگرمی جاری رکھے تو معاملہ اس کی قومیت سے نکل کر قانون کی خلاف ورزی کا بن جاتا ہے۔ ریاست کے لیے یہ فرق واضح رکھنا ضروری ہے، قانون کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی فرد کے عمل کو پرکھا جائے، اس کی شناخت یا قومیت کو نہیں۔ کسی افغان شہری کا غیر قانونی قیام قابل گرفت ہو سکتا ہے، مگر ہر افغان کو محض افغان ہونے کی بنیاد پر مشتبہ سمجھنا نہ انصاف ہے نہ دانش مندی۔

یہاں پاکستان کے سامنے ایک پیچیدہ حقیقت بھی موجود ہے۔ ایک طرف ملک اپنی جامعات اور طبی اداروں میں محدود وسائل کے ساتھ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھا رہا ہے، دوسری طرف غیر قانونی طریقوں سے داخل ہونے یا قیام کرنے والے افراد کے لیے کوئی مستقل رعایت قانون کی ساکھ کو کمزور کر سکتی ہے۔ اگر ایک پاکستانی طالب علم کو داخلے اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے سخت شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں تو غیر ملکی شہریوں کے لیے بھی واضح اور یکساں ضابطہ ہونا چاہیے۔ مسئلہ افغان طلبہ کو تعلیم دینے یا نہ دینے سے زیادہ اس اصول کا ہے کہ تعلیمی ادارے میرٹ، قانونی حیثیت اور شفاف طریقۂ کار کے تحت چلیں۔ اسی طرح جو افغان طلبہ قانونی اسکالرشپ، درست ویزے یا باقاعدہ تعلیمی پروگرام کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں غیر ضروری خوف یا عمومی شبہ پیدا کرنا بھی درست طرز عمل نہیں۔

قانون کی بالادستی صرف اس وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ واضح ہو، سب پر یکساں لاگو ہو اور اس کے نفاذ میں انسانی وقار محفوظ رہے۔ کسی شخص کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی ہے تو اسے قانونی طریقۂ کار کے مطابق واپس بھیجا جا سکتا ہے، مگر گرفتاری، حراست، تفتیش یا ملک بدری کے دوران بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری ریاست کی ذمہ داری رہتی ہے۔ قومی سلامتی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست دونوں کو بیک وقت اہمیت دیتی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی امیگریشن پالیسیوں میں سختی اختیار کرتے ہیں۔ لیکن کسی دوسرے ملک کی سخت پالیسی کو مثال بناتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں قانون کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اپیل اور قانونی معاونت کے کیا راستے موجود ہیں اور مختلف اقسام کے ویزوں کے لیے کیا واضح ضابطے مقرر ہیں۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ فلاں ملک غیر قانونی قیام برداشت نہیں کرتا۔ ایک مضبوط ریاست اپنے امیگریشن نظام کو دستاویزی، شفاف اور قابل عمل بناتی ہے تاکہ غیر قانونی قیام پیدا ہی کم ہو اور قانونی حیثیت رکھنے والے افراد بلاوجہ مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جغرافیہ، تاریخ، تجارت، خاندانوں اور ثقافت کے ایسے رشتے ہیں جنہیں کسی ایک سیاسی تنازعے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف دہشت گردی اور سرحدی سلامتی کے مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں دہشت گردی میں ضائع ہوئی ہیں اور یہ حقیقت ریاست کو اپنی سلامتی کے لیے سنجیدہ اقدامات کا حق دیتی ہے۔ لیکن ایک دہشت گرد تنظیم کی کارروائی اور ایک عام افغان طالب علم یا مزدور کی شناخت کو ایک ہی ترازو میں رکھنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔ اجتماعی سزا ہمیشہ انصاف کے تصور کو کمزور کرتی ہے۔

یہاں ہمارے معاشرے کے لیے بھی ایک آئینہ موجود ہے۔ ہم اکثر انسانی حقوق کو اپنی سیاسی یا قومی پسند کے مطابق دیکھنے لگتے ہیں۔ جب ہمارے شہری بیرون ملک مشکلات میں ہوں تو ہم انصاف، قانون اور انسانی وقار کی بات کرتے ہیں، لیکن جب معاملہ کسی دوسرے ملک کے شہریوں کا ہو تو بعض اوقات وہی اصول ہمیں غیر ضروری محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اصول اگر واقعی اصول ہے تو اس کا اطلاق دوست اور مخالف، پاکستانی اور غیر پاکستانی، دونوں پر ہونا چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ غیر ملکی شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، ان سے بھی یہ توقع بجا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے بے گناہ شہریوں کے حق میں اسی شدت سے کھڑے ہوں۔ انسانی ہمدردی انتخابی نہیں ہونی چاہیے۔

افغان شہریوں کے بارے میں گفتگو میں ایک اور خطرناک رجحان اجتماعی کردار کشی کا ہے۔ کسی ملک کے چند افراد کے جرائم، سیاسی سرگرمیوں یا ریاست مخالف رویوں کو پورے معاشرے سے منسوب کرنا علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے کمزور دلیل ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں اچھے اور برے، قانون پسند اور قانون شکن، محنتی اور مجرم افراد موجود ہوتے ہیں۔ جرم کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے، شناخت کی بنیاد پر نہیں۔ اگر کسی شخص نے پاکستان کی سرزمین کو ریاست مخالف سرگرمی کے لیے استعمال کیا ہے تو ثبوت، قانون اور عدالت کے ذریعے اس سے نمٹا جانا چاہیے۔ یہی طریقہ ریاست کو مضبوط بھی کرتا ہے اور اس کے فیصلے کو اخلاقی جواز بھی فراہم کرتا ہے۔

اصل ضرورت ایک ایسی پالیسی کی ہے جس میں جذباتی ردعمل کے بجائے واضح اصول ہوں۔ سرحدی نظام مؤثر ہو، غیر ملکی شہریوں کا مکمل اور قابل اعتماد ریکارڈ موجود ہو، ویزا قوانین واضح ہوں، تعلیمی اداروں میں داخلے کا طریقۂ کار شفاف ہو، غیر قانونی قیام کے خلاف قانون حرکت میں آئے اور قانونی حیثیت رکھنے والے طلبہ کو بلاجواز پریشانی نہ ہو۔ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین، اپنے اداروں اور اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرے، لیکن طاقت کا بہترین اظہار صرف سختی نہیں بلکہ منصفانہ اور قابل اعتماد قانون کا نفاذ ہے۔

پاکستان نے افغان عوام کے لیے طویل عرصے تک قربانیاں بھی دی ہیں اور اس میزبانی کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ مگر ماضی کی مہمان نوازی مستقبل کے لیے لامحدود قانونی رعایت کا معاہدہ نہیں بن سکتی۔ اسی طرح موجودہ سلامتی کے مسائل ماضی کے تمام انسانی رشتوں کو یکسر ختم کرنے کا جواز بھی نہیں بن سکتے۔ پاکستان کو نہ اپنی خودمختاری سے دستبردار ہونے کی ضرورت ہے نہ اپنی انسانیت سے۔ اصل دانش مندی اسی درمیانی راستے میں ہے جہاں سرحد محفوظ ہو، قانون مضبوط ہو، مجرم کو سزا ملے، بے گناہ محفوظ رہے اور جائز طالب علم صرف اپنی شناخت کی وجہ سے مشکوک نہ سمجھا جائے۔

ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ اصولوں سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر پاکستان اپنے فیصلے قومی مفاد میں کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ فیصلے واضح قانون، شفاف طریقۂ کار اور انسانی وقار کے ساتھ کرنا ہوں گے اور معاشرے کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ ہر غیر ملکی کو دشمن سمجھنے کے بجائے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے فرد کو قانون کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتا ہے۔ شاید کسی قوم کی پختگی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خوف کے زمانے میں بھی انصاف کی زبان نہ بھولے۔

اپنا تبصرہ لکھیں