گیارہ ستمبر 2001 کا حملہ محض ایک دہشت گرد کارروائی نہیں تھی جس میں عمارتیں تباہ ہوئیں، بلکہ یہ ایسا واقعہ تھا جس کے اثرات عالمی سیاست تک پھیل گئے۔ اس نے دنیا کے سیاسی شعور، ریاستی ترجیحات اور انسانی آزادی کے تصور کو بھی ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تقریباً تین ہزار انسانوں کی جانیں گئیں، مگر اس سانحے کے بعد جو عالمی ردعمل سامنے آیا اس نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی، افغانستان میدان جنگ بنا، پھر عراق اس آگ کی لپیٹ میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سیاست کا مرکز و محور سلامتی بن گئی اور باقی ترجیحات پس منظر میں چلی گئیں۔ مگر دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد ایک بنیادی سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا دنیا نے دہشت گردی کو شکست دی، یا اس کے خلاف بنائی گئی جنگ نے خود کئی نئے بحران پیدا کر دیے؟
سب سے زیادہ نقصان شاید یہ ہوا کہ دہشت گردی کو ایک مذہب، ایک قوم یا ایک خطے کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا۔ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنا نہ صرف ایک فکری ناانصافی ہے بلکہ اس سے مسئلے کی اصل نوعیت بھی دھندلا جاتی ہے۔ کسی بھی مذہب کی تعلیمات کو چند انتہا پسند گروہوں کے اعمال سے پرکھنا اتنا ہی غیر منطقی ہے جتنا کسی پوری قوم کو چند افراد کے جرائم کا ذمہ دار قرار دینا۔ اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات انسانی جان، عدل، رحم اور ذمہ داری کے گرد گھومتی ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جدوجہد بھی اس وقت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے جب اسے مذہبی شناختوں کے بجائے انسانی جان اور شہری امن کے مسئلے کے طور پر سمجھا جائے۔ بدقسمتی سے سیاسی مفادات نے کئی مرتبہ اس سادہ حقیقت کو پیچیدہ بنا دیا۔
یہاں مغربی طاقتوں کی پالیسیوں پر تنقید کا حق اپنی جگہ موجود ہے، مگر تنقید اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب وہ جذباتی الزام کے بجائے اصولی معیار پر کھڑی ہو۔ اگر ایک ملک کے شہریوں کا قتل دہشت گردی ہے تو دوسرے ملک کے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت بھی اسی اخلاقی پیمانے سے دیکھی جانی چاہیے۔ طاقتور ریاست کے ہاتھ سے ہونے والا ظلم صرف اس لیے جائز نہیں ہو جاتا کہ اسے قومی سلامتی، جنگ یا عالمی امن کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح کسی کمزور ریاست یا گروہ کی طرف سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بھی کسی بلند مقصد کا نام لے کر درست نہیں ہو سکتا۔ انسانی جان کا احترام اگر واقعی عالمی اصول ہے تو اس اصول کی کوئی سرحد، مذہب یا پاسپورٹ نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان اس عالمی بحران کا محض تماشائی نہیں تھا بلکہ اس کی قیمت ادا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل رہا۔ 11 ستمبر کے بعد پاکستان کو ایک انتہائی پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کے مطالبات تھے، دوسری طرف اپنی داخلی سلامتی، سرحدی حالات اور معاشرتی پیچیدگیاں۔ پاکستان نے اپنی سرزمین، فضائی راستوں، انٹیلی جنس تعاون اور رسد کے نظام کے ذریعے جنگ میں کردار ادا کیا، لیکن اس تعاون کے نتیجے میں جو داخلی قیمت ادا ہوئی، اسے محض مالی اعداد میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا ضیاع، نقل مکانی، کاروباری سرگرمیوں کا متاثر ہونا، سرمایہ کاری میں کمی، خوف کا ماحول اور کئی علاقوں میں معمول کی زندگی کا خاتمہ ایسے نقصانات تھے جن کے اثرات نسلوں تک محسوس ہوئے۔
اس جنگ کا ایک سب سے گہرا اثر پاکستانی معاشرے کی نفسیات پر پڑا۔ ایک ایسی نسل جوان ہوئی جس کے لیے دھماکے، سیکیورٹی چیک پوسٹیں، سرچ آپریشن، خوف اور غیر یقینی محض خبروں کے الفاظ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ جب ایک بچہ بار بار یہ سنتا یا دیکھتا ہے کہ فلاں بازار میں دھماکا ہوا، فلاں مسجد نشانہ بنی، فلاں اسکول میں خون بہا تو اس کے ذہن میں دنیا کا تصور بھی بدل جاتا ہے۔ اس کے لیے ریاست کا مطلب صرف تعلیم، صحت اور روزگار نہیں رہتا بلکہ بندوق، ناکہ اور حفاظتی حصار بھی بن جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی ورثہ کسی بجٹ میں نظر نہیں آتا مگر معاشرے کے مستقبل پر اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔
دہشت گردی نے پاکستان کی معیشت کو بھی ایسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جس کا اندازہ صرف امداد اور اخراجات کے اعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔ جب کسی ملک کا نام مسلسل دہشت گردی، عدم استحکام اور سلامتی کے بحران کے ساتھ منسلک ہو جائے تو بیرونی سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، سیاحت متاثر ہوتی ہے، کاروباری فیصلے ملتوی ہوتے ہیں اور انسانی سرمایہ بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانے لگتا ہے۔ یوں ایک ایسا چکر پیدا ہوتا ہے جس میں عدم تحفظ معیشت کو کمزور کرتا ہے، کمزور معیشت ریاستی صلاحیت کو محدود کرتی ہے اور محدود صلاحیت مزید عدم تحفظ پیدا کر سکتی ہے۔
اس پورے عرصے میں ایک اور اہم مسئلہ قومی ترجیحات کا رہا۔ دفاع ایک خودمختار ریاست کی بنیادی ضرورت ہے، اگر سلامتی کا تصور صرف عسکری طاقت تک محدود ہو جائے تو تعلیم، صحت، تحقیق، روزگار، انصاف اور انسانی ترقی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایک محفوظ ملک وہ نہیں جہاں صرف بندوقیں زیادہ ہوں بلکہ وہ بھی ہے جہاں شہری کو انصاف ملے، نوجوان کو مستقبل دکھائی دے، بیمار کو علاج میسر ہو، بچے کو معیاری تعلیم حاصل ہو اور ریاست پر اعتماد قائم رہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں یہ سبق ضرور دیتی ہے کہ قومی سلامتی اور انسانی ترقی ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
11 ستمبر کے بعد پاکستان کی سیاست بھی اس عالمی جنگ سے الگ نہ رہ سکی۔ سلامتی کے غیر معمولی حالات نے ریاستی اداروں کے کردار کو متاثر کیا، سیاسی فیصلوں پر دباؤ بڑھا اور جمہوری عمل کو مختلف ادوار میں مشکل صورت حال کا سامنا رہا۔ یہاں کسی ایک ادارے یا ایک حکومت کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دینا آسان مگر غیر سنجیدہ طرز فکر ہوگا۔ایک معاشرہ جب طویل عرصے تک بحرانوں میں گھرا رہے تو طاقت ور ادارے فیصلہ سازی میں غالب آتے جاتے ہیں اور شہری ادارے پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طویل المدت قومی سلامتی کے لیے مضبوط پارلیمان، آزاد قانون، شفاف حکمرانی اور باخبر عوام بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنی سرحدوں کی حفاظت۔
آج جب اس واقعے کو پچیس برس کے قریب ہونے کو ہیں تو ہمیں ماضی کو صرف امریکہ، افغانستان یا کسی دوسری طاقت کی پالیسیوں کے آئینے میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے حصے کی ذمہ داری بھی تلاش کرنا ہوگی۔ بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے فیصلے کرتی ہیں، مگر کوئی قوم اپنی کمزوریوں، داخلی انتشار، معاشی انحصار، ناقص حکمرانی اور فکری تقسیم کو ہمیشہ دوسروں کے کھاتے میں نہیں ڈال سکتی۔ اگر ہم ہر بحران کا سبب صرف بیرونی سازش کو سمجھ لیں تو اپنے اندر اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہیں کریں گے۔ قومیں صرف دشمن کی طاقت سے نہیں، اپنی داخلی کمزوریوں سے بھی شکست کھاتی ہیں۔
شاید نائن الیون کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دہشت گردی کو شکست صرف جنگ سے نہیں دی جا سکتی۔ بندوق کسی حملہ آور کو روک سکتی ہے، مگر اس ذہن کو نہیں بدل سکتی جو نفرت کو اپنا راستہ سمجھ بیٹھا ہو۔ اس کے لیے تعلیم، انصاف، معاشی مواقع، ذمہ دار مذہبی قیادت، آزاد مگر ذمہ دار میڈیا اور ایسا سیاسی نظام درکار ہے جو شہری کو ریاست کا شریک سمجھے، محض تابع نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا کہ دہشت گرد کون ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ انسان کی جان کیوں محترم ہے، اختلاف کیوں ضروری ہے اور نفرت کو سیاسی یا مذہبی جواز دینا کس طرح پورے معاشرے کو مجروح کر دیتا ہے۔
نائن الیون امریکہ کے لیے ایک سانحہ تھا، مگر پاکستان کے لیے یہ ایک طویل عہد کا آغاز ثابت ہوا جس میں قربانی بھی تھی، خوف بھی، مزاحمت بھی اور بہت سے تلخ تجربات بھی۔ اب ہماری اصل آزمائش یہ ہے کہ ہم اس تاریخ سے کیا سیکھتے ہیں۔ کیا ہم آنے والی نسل کو بھی خوف کی میراث دیں گے یا اسے ایک ایسا پاکستان دیں گے جہاں سلامتی کا مطلب صرف محفوظ سڑکیں نہیں بلکہ محفوظ مستقبل بھی ہو؟ تاریخ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ کون طاقتور تھا اور کون کمزور۔ تاریخ یہ بھی دیکھتی ہے کہ تباہی کے بعد کون قوم اپنے زخموں سے سبق سیکھ کر خود کو بدل سکی۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جنگ کے ملبے سے صرف یادیں نہیں بلکہ ایک بہتر ریاست کا تصور بھی تعمیر کریں۔


