انسان اپنی زندگی میں بہت آگے نکل جائے، تب بھی اس کی کامیابیوں کی بنیاد میں چند ایسے ہاتھ ضرور ہوتے ہیں جنہوں نے ابتدا میں اسے تھاما تھا۔ استاد انہی محسنوں میں سے ہے۔ وہ ہمیں حروف کی پہچان سے معنی کی جستجو تک لے جاتا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ اور جواب تلاش کرنے کا سلیقہ دیتا ہے، اور رفتہ رفتہ اس قابل بناتا ہے کہ ہم زندگی کو سمجھ کر اس میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ یومِ اساتذہ میرے لیے انہی ہاتھوں کو عقیدت سے یاد کرنے کا دن ہے۔ آج اپنے سفر پر نگاہ ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ جن خوبیوں کو ہم اپنی قابلیت سمجھتے ہیں، ان میں ہمارے اساتذہ کی محنت، شفقت اور تربیت کا کتنا بڑا حصہ ہوتا ہے۔
فارسی کا ایک مختصر جملہ ہے: «جائے استاد خالی است»۔ استاد کی کمی کا احساس اس وقت زیادہ گہرا ہوتا ہے جب زندگی کسی مشکل سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ کوئی صاحبِ علم و بصیرت رہنمائی کے لیے موجود ہو۔ اچھا استاد اپنے شاگرد کو محض امتحان کے لیے تیار نہیں کرتا، وہ اس کے اندر سوچنے، پرکھنے اور سیکھتے رہنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس کا پڑھایا ہوا سبق کبھی ایک خیال، کبھی ایک فیصلے اور کبھی کسی مشکل گھڑی میں ہمارے کام آتا ہے۔ اسی لیے استاد سے تعلق، درس گاہ سے رخصت ہونے کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔
میرے حافظے میں اس تعلق کے اولین نقوش پرائمری اسکول کے ہیں۔ غنی الرحمن استاد، احمد خان استاد، یوسف استاد، عبدالجبار استاد، سید وقار استاد اور اورنگ زیب استاد صاحب کے سادہ مگر باوقار چہرے آج بھی نگاہوں کے سامنے ہیں۔ انہی کی محنت سے حروف پہچانے، لفظ جوڑے اور سیکھنے کا اعتماد پایا۔ بعد کے برسوں میں ہماری تنظیم نے اورنگ زیب استاد صاحب کو «گدیزی میرٹ ایوارڈ» کے تحت بہترین استاد کا اعزاز دیا تو یہ اپنے ایک محسن کی خدمت کا اعتراف بھی تھا۔ ایسے اساتذہ کا اصل اعزاز ان شاگردوں کی زندگیاں ہیں جنہیں وہ علم اور کردار کی دولت دے جاتے ہیں۔
اس ابتدائی تربیت میں میرے چچا، حاجی محمد حلیم استاد، کا حصہ میرے لیے خاص طور پر عزیز ہے۔ ان کی شفقت میں رشتے کی محبت بھی تھی اور معلم کی ذمہ داری بھی۔ انہوں نے مجھے پڑھنے کی طرف مائل کیا اور علم کی قدر کرنا سکھایا۔ آج لفظ و کتاب سے جو تعلق قائم ہے، اس کی بنیاد میں ان کی توجہ اور رہنمائی شامل ہے۔ بچپن میں بزرگوں کی بہت سی نصیحتیں معمول کی بات محسوس ہوتی ہیں، مگر عمر گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری شخصیت میں کتنی گہرائی تک اتر چکی ہیں۔
مڈل اسکول میں عثمان غنی صاحب کی شخصیت نے نظم و ضبط کی اہمیت سمجھائی۔ بحیثیت ہیڈ ماسٹر ان کی موجودگی پورے تعلیمی ماحول پر اثرانداز ہوتی تھی۔ ان سے یہ سبق ملا کہ ادارے کا معیار اس کی عمارت سے بڑھ کر ان لوگوں کی سنجیدگی پر منحصر ہوتا ہے جو اسے چلاتے ہیں۔ پھر گورنمنٹ ہائی اسکول گدیزی میں نذیر احمد صاحب کے اندازِ تدریس نے سیکھنے کا ایک نیا دروازہ کھولا۔ وہ سبق کو زندگی سے جوڑتے تو کتاب کی بات زیادہ واضح اور بامعنی ہوجاتی۔ محمد کریم استاد نے انگریزی پڑھاتے ہوئے ایک دوسری زبان کے ذریعے وسیع دنیا سے آشنائی پیدا کی۔ اس موضوع پر ان کا تحریر کردہ مختصر کتابچہ بھی ان کی علمی دلچسپی اور تدریس سے وابستگی کا مظہر تھا۔
اسی زمانے میں سوات سے آنے والے سائنس کے استاد، تاثیر جان صاحب، نے سائنسی مضامین میں دلچسپی بڑھائی۔ ان کی تدریس سوال اٹھانے اور چیزوں کو سمجھنے کی تحریک دیتی تھی۔ ماہ مینر ہیڈ ماسٹر صاحب اور محمد شعیب استاد سے باقاعدہ سبق پڑھنے کا موقع نہیں ملا، لیکن ان کی سنجیدگی اور باوقار شخصیت بھی ہماری تربیت کا حصہ بنیں۔ ظریف خان ہیڈ ماسٹر صاحب کی یاد ان کی نرمی اور شفقت کے ساتھ وابستہ ہے۔ میں نے انہیں کبھی غضب ناک نہیں دیکھا۔ وہ اردو پڑھاتے تو الفاظ کا مفہوم بھی کھلتا اور زبان کا لطف بھی محسوس ہوتا۔ ان کے طرزِ عمل سے معلوم ہوا کہ محبت اور وقار کے ساتھ بھی طلبہ کی مؤثر تربیت کی جاسکتی ہے۔
عبداللہ جان صاحب سے براہِ راست پڑھنے کا موقع نہ ملا، تاہم بونیر کے تعلیمی اداروں میں ان کی انتظامی بصیرت کے اثرات نمایاں تھے۔ بعد میں سکائی ہاک پبلک اسکول میں ان کے ساتھ کام کیا تو ان کی صلاحیتوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ میرے لیے تدریس اور تعلیمی انتظام، دونوں حوالوں سے سیکھنے کا ذریعہ بنا۔ ایک ادارے کو مقصد دینا، اساتذہ کی صلاحیتوں سے کام لینا اور تعلیم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا، اپنی جگہ بڑی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت عطا فرمائے۔
ڈگری کالج ڈگر میں علمی دلچسپیوں کو مزید وسعت ملی۔ پروفیسر محمد روم صاحب نے اردو ادب کے حسن اور فکر کی لطافت سے آشنا کیا۔ فزکس کے استاد ابراہیم صاحب مشکل تصورات کو سادہ انداز میں سمجھاتے تو مضمون سے رغبت بڑھتی اور غور و فکر کی تحریک ملتی۔ انگریزی کے استاد افسر خان صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ انہوں نے نصاب سے آگے بڑھ کر پڑھنے کی ترغیب دی۔ ان کی اسی تحریک سے غیر درسی کتابوں کے ساتھ تعلق مضبوط ہوا اور مطالعہ رفتہ رفتہ زندگی کی ضرورت بنتا چلا گیا۔ کسی استاد کی طرف سے کتاب سے دوستی کا تحفہ ایسا سرمایہ ہے جو عمر بھر کام آتا ہے۔
اس علمی سفر کے ساتھ دینی علوم سے استفادے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ مولانا منہاج الدین صاحب، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمان صاحب،شیخ القرآن مولانا سید عبدالسلام صاحب اور حافظ ابراہیم شاہ صاحب کے حلقہ ہائے درس میں بیٹھنے کی سعادت ملی۔ ان بزرگوں کی بے لوث محنت نے قرآن و حدیث اور فقہ کے مطالعے کا ذوق پیدا کیا اور دین کو سنجیدگی سے سمجھنے کی طرف متوجہ کیا۔ اپنی علمی و عملی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ ان کی صحبت نے سوچ میں توازن اور علم کے سامنے انکسار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پنجاب یونیورسٹی پہنچا تو اس سفر میں ایک اور اہم مرحلہ آیا۔ پروفیسر رضوان صاحب اور بالخصوص پروفیسر ڈاکٹر مشتاق الرحمان صدیقی صاحب سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب کسی موضوع کے مختلف پہلو اس طرح واضح کرتے کہ پہلے سے قائم رائے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ ایک بڑے ادارے کے ڈائریکٹر ہونے کے باوجود تدریس سے ان کی محبت نمایاں تھی۔ جدید نظریات پر گہری نظر، روایت سے آگاہی اور علمی دیانت ان کی شخصیت کے اہم اوصاف تھے۔ ان کی صحبت میں اندازہ ہوا کہ اپنی بات پر اعتماد کے ساتھ اپنے علم کی حدود پہچاننا بھی ضروری ہے۔ ہم جن خیالات کو پختہ سمجھ کر آئے تھے، ان پر نئے سوال اٹھے اور انہیں زیادہ غور سے پرکھنے کا سلیقہ ملا۔ ان کا فیض یہی تھا کہ انہوں نے ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ اس کی ذمہ داری محسوس کرنا بھی سکھایا۔
آج ان سب اساتذہ کو یاد کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ میری تربیت میں ہر ایک کا اپنا حصہ ہے۔ کسی نے بنیاد رکھی، کسی نے اعتماد دیا، کسی نے مطالعے کی راہ دکھائی اور کسی نے سوچ میں گہرائی پیدا کی۔ یومِ اساتذہ کی اصل معنویت اسی احسان شناسی میں ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو یاد رکھیں، ان کی خبرگیری کریں اور ان سے سیکھی ہوئی اچھی باتوں کو اپنے عمل میں جگہ دیں۔ معاشرے کی سطح پر بھی استاد کے احترام کا تقاضا ہے کہ اسے اعتماد، مناسب سہولتیں اور ایسا تعلیمی ماحول دیا جائے جس میں وہ اپنی ذمہ داری دل جمعی سے ادا کرسکے۔
میرے جو اساتذہ حیات ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سکون اور بابرکت زندگی عطا فرمائے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، ان کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں بلند مقام دے۔ ان کی محبتوں اور محنتوں کا حق ادا کرنا میرے بس میں نہیں، لیکن ان کا ذکر شکرگزاری کے ساتھ کرنا اور ان کی دی ہوئی روشنی آگے پہنچانے کی کوشش کرنا ضرور میرے اختیار میں ہے۔ جب بھی ہماری کسی بات، فیصلے یا عمل سے کسی دوسرے انسان کو فائدہ پہنچتا ہے، اس میں ان اساتذہ کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے جنہوں نے کبھی ہمیں زندگی پڑھنا سکھائی تھی۔


