جرم، طاقت اور سوشل میڈیا کا نیا انڈرورلڈ/سید مہدی بخاری

جرم کی دنیا پر لکھتے ہوئے ایک عمر گزر سکتی ہے، مگر اس کے کردار ختم نہیں ہوتے۔ لاہور گینگ وار، اجرتی قاتلوں، پولیس مقابلوں اور ان کرداروں کو ٹھکانے لگانے والے اہلکاروں پر تفصیلی کالم لکھ چکا ہوں۔ ہر دور میں چہرے بدلتے ہیں، طریقۂ واردات بدلتا ہے، مگر طاقت، دولت، دشمنی اور خوف کی وہی پرانی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ جاری رہتی ہے۔
آج پنجاب کی سی سی ڈی پر تین ہزار کے قریب مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات ہیں جبکہ متاثرین اور ان کے ورثا کی جانب سے سو سے زائد درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا بتائی جاتی ہیں۔ تاریخ کا سبق البتہ واضح ہے کہ طاقت کے سائے میں ہونے والی ہر کارروائی ہمیشہ بے حساب نہیں رہتی۔ وقت بدلتا ہے تو فائلیں کھلتی ہیں، گواہ سامنے آتے ہیں اور وردی سمیت ہر منصب پر فائز شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ یہی ہماری تاریخ ہے۔
آج بھی چار بڑے گینگز آپریٹ کر رہے ہیں اور سی سی ڈی کی گرفت سے باہر ہیں۔ ان کے آپریٹ کرنے کا طریقہ کار شوٹرز یا اجرتی قاتلوں پر منحصر ہے۔ مریدکے میں ایک نام بودی قصائی کا ہے جس کا خوف مریدکے میں طاری ہے۔ بودی قصائی کا معاملہ ذاتی رنجش یا ذاتی دشمنی سے شروع ہوتا ہے۔ یہ قصائیوں کا خاندان ہے اور ان کے مد مقابل بااثر سیاسی لوگ ہیں۔ بودی قصائی کے تین سگے بھائیوں سمیت اس کے اہلخانہ اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اگلے جہاں پہنچ چکے ہیں اور بودی قصائی نے بھی اپنے مخالفین کو پار لگایا ہے۔ معاملہ ذاتی دشمنی سے بڑھ کر اب بھتہ خوری اور متنازعہ زمینوں کے معاملات کی سیٹنگز تک جا پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق بودی قصائی ملک سے باہر ہے اور کہاں ہے اس بابت وثوق سے کسی کو معلوم نہیں البتہ وہ سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور اپنے وائس نوٹ سے دھمکیوں والے پیغامات جاری کرتا رہتا ہے۔
نارووال میں زمان کُگی بٹ گینگ کا نام یوں تو پی ٹی آئی کے ممبر صوبائی اسمبلی عبداللہ طاہر کے کلینک کے باہر قتل کے بعد اُبھر کر سامنے آیا لیکن کُگی بٹ کا خاندانی ریکارڈ جرائم پیشہ ہے جس کی بیس پچیس سال پرانی تاریخ ہے۔ اس کے دو سگے بھائی چھینا اور ملنگی برسوں پہلے پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ وہ دونوں ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ کُگی بٹ نے اپنے تیسرے سگے بھائی کا بھی اسی کے باڈی گارڈ کو خرید کر قتل کرایا اور کاروبار پر قبضہ جمایا ہے۔ دھن دولت کی کمی نہیں ہے۔ اصل یا بنیادی کام نہری و دریائی ریت کے ٹھیکے لینا ہیں۔ عبداللہ طاہر سے دشمنی بھی اسی سبب پیدا ہوئی تھی۔ وہ بھی اسی کاروبار سے منسلک تھا۔ زمان کُگی گینگ اجرتی قاتلوں کے ذریعہ آپریٹ کرتا ہے۔ خود کُگی بٹ کینیڈا میں مقیم ہے اور ریاستی عملداری سے باہر ہے۔
تیسرا گینگ شہزاد بھٹی کا ہے جو 333 کے نام سے بدنام ہے۔ شہزاد بھٹی کا نام بھارتی پنجاب کے لارنس بشنوئی گینگ کے ساتھ جڑنے کے بعد سامنے آیا۔ شہزاد بھٹی نے اوائل میں لارنس بشنوئی کے نام پر پاکستان میں تاجروں سے بھتے مانگے اور نہ دینے کی صورت میں ان کے گھروں و گاڑیوں پر فائرنگ کرانے میں ملوث رہا۔ بعدازاں اس کے راستے لارنس بشنوئی گینگ سے الگ ہوئے اور اب یہ بشنوئی گینگ کا دشمن ہے۔ یوٹیوب پر انٹرویوز بھی موجود ہیں۔ امریکا میں مقیم ہے۔ خود کہتا ہے کہ بشنوئی سے دشمنی کی واحد وجہ یہ بنی کہ اس نے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف بیانات دیے جو مجھے قبول نہیں تھے۔ خود کو محب وطن پاکستانی مانتا ہے۔ گویا اب جرم کو بھی اپنی تشہیر کے لیے ایک اخلاقی جواز درکار ہے ۔بشنوئی گینگ کا ایک اہم کردار گولڈی برار جسے پچھلے ماہ ایف بی آئی نے ٹاپ ٹین موسٹ وانٹڈ کی لسٹ میں شامل کرتے ہوئے اس کے سر کی قیمت پچاس ملین ڈالرز مقرر کی ہے اس کو یہ للکارتا ہے۔ پاکستان میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ قتل میں ملوث ہے۔
چوتھا کردار سرگودھا کا انعام عرف انعامو وینس ہے۔ انعامو وینس اجرتی قاتل تھا۔ اس کا بھائی پولیس مقابلے میں پار لگا تھا۔ پولیس سے بدلہ لینے کو اس نے 15 پر جعلی کال کرائی کہ کوٹ مومن کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات جاری ہے۔ ایس ایچ او اپنی ٹیم کے ساتھ مبینہ موقعہ واردات پر پہنچا تو پولیس پارٹی پر چاروں طرف سے فائرنگ کی گئی اور پانچ اہلکار ڈھیر کر دیے جو فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے البتہ جان بچ گئی۔ بعدازاں ایک آڈیو پیغام میں انعامو وینس نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ کردار بھی سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور آئے روز پولیس کو دھمکیاں لگاتا آڈیو جاری کرتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ سرگودھا میں ہی روپوش ہے اور تاحال گرفت سے بچا ہوا ہے۔
ان گینگز کے پھلنے پھولنے میں سوشل میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے۔ نوجوان بدمعاشی کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ جدید اسلحہ اٹھانے کو بیتاب ہوتے ہیں اور پھر ان کرداروں کے آڈیو یا ویڈیو پیغامات میں سلطان راہی سٹائل بڑھک بازی سے متاثر ہوتے ہیں۔ دیہاتوں میں فراغت ہے، تعلیم سے دوری ہے۔ بدمعاشی کلچر عام ہے۔ دشمن داریاں چلتی ہیں۔ اور انہی عوامل کے سبب نوجوان اجرتی قاتل بنتے ہیں یا ان جرائم پیشہ گروہوں سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ ایک اہم عنصر بیروزگاری یا نچلے درجے کی غربت بھی ہے۔
پہلے زمانے اور تھے۔ اسی کی دہائی میں ممبئی انڈر ورلڈ کے کردار لالہ اور داؤد ابراہیم لو پروفائل رہتے تھے۔ یہ آپسی دشمنیاں نبھاہتے تھے لیکن سوشل میڈیا نہیں تھا پرچار نہیں کرتے تھے۔ لاہور ہو یا کراچی، ٹیپو ٹرکاں والا بمقابلہ طیفی بٹ ہو یا لیاری گینگ وار یا شعیب خان گینگ ہو ان کو اپنی ناموری یا بدمعاشی کے لیے سوشل میڈیا میسر تھا نہ وہ اشتہار لگاتے تھے۔ آج کا دور یکسر بدل گیا ہے۔ اب سوشل میڈیا سے ہی دھمکیاں ہیں۔ اسی پر فخریہ اعتراف جرم ہے اور اسی پر اپنی نمود و نمائش جاری ہے۔ سی سی ڈی کی بھی الگ باتاں ہیں۔ ان کے کچھ نامور انکاؤنٹر اسپیشلسٹ بھی ہیں جو یوٹیوب پر انٹرویوز بھی دیتے پھرتے ہیں۔ محمد علی بٹ اور شکیل بٹ کے نام زبان زد عام ہیں۔ جرم کی دنیا سے منسلک اور ان کو کاؤنٹر کرنے والے سبھی کردار اب سوشل میڈیا پر براجمان ہیں۔ اور اسی سوشل میڈیا پر ہمارا نوجوان بھی دن رات موجود ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو جرم کو اپنی بہادری سمجھتے ہیں، دوسری طرف وہ اہلکار ہیں جن کی شہرت جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں سے جڑتی ہے۔ دونوں کے گرد سوشل میڈیا پر اپنے اپنے مداح، اپنے اپنے بیانیے اور اپنی اپنی مقبولیت موجود ہے۔
صاحبان اختیار اتنے بھی بے بس نہیں ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ہمارے کچھ محکمہ جات کافی مہارت رکھتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم سوشل میڈیا پیجز یا ان چینلز پر تو پابندی لگائیں جہاں سے یہ آپریٹ کرتے،انٹرویوز دیتے یا اپنی کارروائیوں کا اعتراف کرتے یا دھمکیاں لگاتے ہیں۔ یہ کوئی ایسا ناممکن کام نہیں ہے۔ سرکاری محکمے بالخصوص پولیس اور ذیلی یونٹ سی سی ڈی کے اہلکاروں پر بھی سوشل میڈیا پر آنے یا انٹرویوز دینے پر پابندی عائد کریں۔ عین نوازش ہو گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں