آسام میں اسمبلی انتخابات قریب آ چکے ہیں اور حسبِ توقع ریاست کا سیاسی درجۂ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ تمام مسائل پر کھل کر بات ہو اور اختلافِ رائے کا احترام کیا جائے۔ جو لوگ جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے ناقدین کو دشمن نہیں سمجھتے بلکہ ان کی مثبت تنقید سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ انتخابات اسی جمہوری عمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مگر اقتدار کی خواہش میں بعض سیاست دان یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ جمہوریت میں صرف الیکشن جیتنا ہی اصل مقصد نہیں ہوتا، بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ انتخابات خوشگوار اور پُرامن ماحول میں منعقد ہوں، جہاں سب کو برابر کے مواقع میسر ہوں اور مباحثہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر ہو۔ اشتعال انگیز تقاریر اور نفرت آمیز بیانات وقتی طور پر بھیڑ جمع کر سکتے ہیں، عوامی جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں اور وقتی مقبولیت دلا سکتے ہیں، حتیٰ کہ انتخابی کامیابی بھی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن ان کے دور رس نتائج معاشرے اور ملک دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ آسام سے موصول ہونے والی خبریں تشویشناک ہیں، کیونکہ آئینی مناصب پر فائز بعض سرکردہ رہنما ایک مخصوص برادری کو ریاست کی خوشحالی اور ترقی میں رکاوٹ قرار دے کر فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دے رہے ہیں، جو جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔
ریاست کے وزیرِاعلیٰ ہیمنت بسوا شرما ایک کے بعد ایک اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ ریاست کی اقلیتی برادری میں خوف پیدا کیا جائے اور عام لوگوں کو بار بار یہ باور کرایا جائے کہ تمام مسائل کی جڑ ایک مخصوص کمیونٹی ہے، تاکہ اکثریتی ووٹروں کو اقلیت کا ڈر دکھا کر انتخابات جیتنے کی راہ ہموار کی جا سکے؛ میاں، مسلمان اور بنگلہ دیشی درانداز کے فرق کو مٹانے کی مذموم کوشش بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے تاکہ رائے دہندگان جب ووٹ دینے جائیں تو عقل کے بجائے جذبات سے کام لیں، اور حیرت اس بات پر ہے کہ انتخابات سے عین قبل اچانک قومی سیکیورٹی کے مسائل کیوں نمایاں کر دیے جاتے ہیں جبکہ روزی روٹی اور کپڑے جیسے بنیادی سوالات پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں اور سماج کے کمزور ترین طبقوں کو نشانہ بنایا جانے لگتا ہے؛ یہ منظر دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہماری جمہوریت کی جڑیں ابھی اتنی گہری نہیں ہوئیں جتنا دعویٰ کیا جاتا ہے، کیونکہ جس معیار کا مباحثہ ہونا چاہیے وہ دکھائی نہیں دیتا اور سیاست دان کچھ بھی کہہ کر گزر جاتے ہیں، حالانکہ نظم و نسق بہتر بنانے اور عوامی فلاح و بہبود کے وعدے کرنے والے یہی لوگ انتخابات سے پہلے پروپیگنڈا شروع کر کے پورے انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ زہر میں گھول دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی مبینہ ہیٹ اسپیچ اور “گولی مارنے” والی ویڈیو کے خلاف معاملہ سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق جمعیت علمائے ہند مسلمانوں کی تذلیل کے معاملے کو لے کر عدالت سے رجوع ہوئی ہے۔ عدالت کو چاہیے کہ انتخابات کے دوران فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے اور کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے سے متعلق واضح ضوابط مقرر کرے۔ دیکھیے، اس ملک میں اچھے قوانین کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر اصل کمی اس بات کی ہے کہ ان قوانین کو صحیح اور منصفانہ طور پر نافذ نہیں کیا جاتا۔ ملک کا دستور کہتا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا، مگر کمزور طبقات کا تلخ تجربہ یہ ہے کہ یہاں امیر کے لیے ایک قانون ہے اور غریب کے لیے دوسرا۔ اگر آپ اعلیٰ ذات یا بااثر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو طرح طرح کی مراعات ملتی ہیں، لیکن اگر آپ دلت، آدی واسی، پسماندہ ذات یا اقلیت سے ہیں تو ہر موڑ پر آپ کو پیچھے دھکیلا جاتا ہے اور امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت کو صرف نئے ضوابط بنانے کے بجائے اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے کہ ان کی خلاف ورزی کوئی نہ کر سکے۔ برسر اقتدار جماعت کو بھی یہ خوف ہونا چاہیے کہ اگر وہ قانون توڑے گی تو سزا سے نہیں بچ سکے گی، مگر اکثر دیکھا جا رہا ہے کہ اقتدار پر قابض سیاست دانوں کو ہر طرح کی چھوٹ حاصل رہتی ہے، جبکہ حزب اختلاف کے قائدین کے پیچھے پولیس اور جانچ ایجنسیاں لگا دی جاتی ہیں اور انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ بات نہ تو اقتدار کی مخالفت میں کہی جا رہی ہے اور نہ اپوزیشن کی حمایت میں، بلکہ اس لیے کہ اگر جمہوری نظام کو مضبوط نہ کیا گیا تو آج کی اپوزیشن کل اقتدار میں آ کر وہی طاقت کا استعمال کر سکتی ہے جو آج کی برسر اقتدار جماعت پر الزام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور ممکن ہے کہ مستقبل میں حالات مزید خراب ہو جائیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم فرقہ وارانہ پولرائزیشن، کسی مخصوص کمیونٹی کی تذلیل اور ہیٹ اسپیچ کی ہر صورت میں مخالفت کریں، اور اگر حزب اختلاف کی جانب سے بھی قانون توڑنے کی کوشش ہو تو انہیں بھی ہرگز معاف نہ کیا جائے۔
نہ صرف سیاست دانوں بلکہ میڈیا اور رائے دہندگان کو بھی یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ انتخابات ایک نہایت اہم جمہوری طریقہ کار ہیں، کیونکہ یہی طے کرتے ہیں کہ ملک چلانے کی ذمہ داری کن افراد اور کن جماعتوں کو سونپی جائے۔ اگر انتخابات پُرامن انداز میں نہ ہوں اور پورا عمل شفاف نہ ہو تو شکست خوردہ امیدواروں اور ان کے حامیوں میں غصہ اور اضطراب بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں اقتدار حاصل کرنے کے غیر جمہوری راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں اور بدعنوانی و تشدد کو فروغ مل سکتا ہے، حالانکہ انتخابات کا بنیادی مقصد ہی تشدد کو روکنا اور اقتدار کی پُرامن منتقلی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جب تمام امیدواروں کو برابر مواقع ملتے ہیں اور پورا نظام واقعی آزاد اور منصفانہ ہوتا ہے تو ہارنے والے کو بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ عوام نے اسے قبول نہیں کیا، اس لیے وہ کامیاب نہ ہو سکا، چنانچہ وہ آئندہ پانچ برس عوام کے درمیان کام کر کے ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ کامیاب امیدوار کو بھی یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ اگر اس نے عوام کی خدمت نہ کی اور ترقیاتی کام انجام نہ دیے تو اگلے انتخاب میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جمہوری نظام میں کثیر الجماعتی انتخابات اسی لیے ہوتے ہیں اور کسی کو انتخاب لڑنے سے نہیں روکا جاتا، کیونکہ جمہوریت یہ تسلیم کرتی ہے کہ لوگوں کے مفادات اکثر ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور ان کا حل مکالمے میں مضمر ہے؛ انتخابات دراصل ایک اجتماعی مکالمہ ہی کی صورت ہوتے ہیں جس میں پورا ملک شریک ہوتا ہے۔ تاہم جمہوریت کے لیے یہ نہایت خطرناک رجحان ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بعض سیاسی جماعتیں جذباتی مسائل کو ہوا دے کر پسِ پردہ طریقوں سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں، اور عوام برسر اقتدار جماعت سے اس کی کارکردگی کا حساب لیں اس سے پہلے ہی کمزور طبقات کو نشانہ بنا کر، اقلیتوں کو اکثریت کا خوف دکھا کر اور اپوزیشن کو بدنام کر کے کامیابی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ انتخابات کے دوران حکمران جماعت اگر پیسے اور سرکاری اداروں کا استعمال کر کے اپوزیشن کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرے تو انتخابی مساوات متاثر ہوتی ہے، اس لیے آسام میں فرقہ وارانہ سیاست میں آنے والی تیزی کو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مؤثر جواب صرف جمہوری جدوجہد کو مضبوط بنا کر ہی دیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ابھیے کمار حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب Muslim Personal Law: Definitions, Sources and Contestations (منوہر، 2026) کے مصنف ہیں۔ ای میل: debatingissues@gmail.com


