تہذیبی خودکشی/علی عباس کاظمی

کبھی ہمارے گھروں کی پہچان صرف دیواروں اور چھتوں سے نہیں بلکہ اقدار، تہذیب اور باہمی احترام سے ہوتی تھی۔ ایک ایسا ماحول جہاں گفتگو میں نرمی، رویوں میں شائستگی اور تعلقات میں خلوص نمایاں ہوتا تھا۔ مگر آج جب ہم اپنے معاشرے کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تو ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، ایک ایسی تبدیلی جو صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ ہمارے روزمرہ کے رویوں، زبان، لباس اور سوچ تک سرایت کر چکی ہے۔یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ آہستہ آہستہ ہمارے اندر جگہ بناتی گئی۔ ہم نے ترقی کے نام پر دوسروں کی نقل کرنا شروع کی اور نقل بھی ایسی کہ جس میں اچھائی کم اور نمائشی پہلو زیادہ شامل تھے۔ مغربی کلچر کی اندھی تقلید نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہم اپنی اصل شناخت کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی تہذیب کو پرانا، اپنی روایات کو بوجھ اور اپنے ادب کو کمزوری سمجھنا شروع کر دیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب گھر کے ڈرائنگ روم میں رکھا ٹیلی ویژن صرف ایک مشین نہیں بلکہ خاندان کے ملاپ کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ اس کی اسکرین پر چلنے والے مناظر صرف تفریح نہیں بلکہ تہذیب، تربیت اور تعلق کا عکس ہوتے تھے۔ اس دور میں تفریح کا مطلب بے لگام آزادی نہیں بلکہ مہذب خوشی تھا۔ گھر کے بزرگ، نوجوان اور بچے ایک ہی جگہ بیٹھ کر پروگرام دیکھتے، ہنستے، سیکھتے اور بغیر کسی جھجک کے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے۔ یہ وہ دور تھا جب میڈیا معاشرتی اقدار کا محافظ بھی تھا اور رہنما بھی۔وقت بدلا، ذرائع بڑھے، چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا معیار بھی بڑھا؟ یا پھر اس دوڑ میں کہیں وہ اصل روح ہی کھو گئی جو اسکرین کو قابلِ اعتماد بناتی تھی؟ آج جب ہم موجودہ میڈیا کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ترقی کے نام پر پیش کیا جانے والا مواد بظاہر رنگین، تیز اور پرکشش تو ہے مگر اس کے اندر سے وہ شائستگی، وہ حیا اور وہ خاندانی وقار جیسے دھیرے دھیرے رخصت ہو چکے ہیں۔خاص طور پر مارننگ شوز، جو کبھی گھریلو ماحول کی عکاسی کرتے تھے، آج ایک ایسے رخ پر جا رہے ہیں جہاں سنجیدگی اور وقار کی جگہ سنسنی، نمائش اور وقتی شہرت نے لے لی ہے۔ یہ پروگرام جو کبھی گھریلو خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے ایک مثبت آغاز کا ذریعہ ہوتے تھے، اب اکثر ایسے مناظر پیش کرتے ہیں جو نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ بعض اوقات اخلاقی حدود سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تفریح کیوں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کس قیمت پر ہو رہی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈیا صرف آئینہ نہیں ہوتا بلکہ ذہن سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ جو کچھ اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، وہ آہستہ آہستہ معاشرے کی سوچ، ترجیحات اور رویوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ جب بار بار ایک ہی قسم کی بے مقصد اور غیر سنجیدہ چیزیں دکھائی جائیں، تو وہ معمول بن جاتی ہیں۔ پھر نہ دیکھنے والے کو حیرت ہوتی ہے اور نہ دکھانے والے کو شرمندگی۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اکثر لوگ اس قسم کے مواد پر تنقید تو کرتے ہیں، مگر دیکھنا نہیں چھوڑتے۔ یہی تضاد اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگر ناظرین واقعی ایسے مواد کو مسترد کر دیں تو یقیناً چینلز اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو بکتا ہے اور وہی بکتا ہے جو دیکھا جاتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ تنقید کا انداز مہذب اور تعمیری ہو۔ کسی کی ذاتی زندگی یا کردار کو نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دکھانا چاہتے ہیں، کیا سکھانا چاہتے ہیں اور کیسا ماحول دینا چاہتے ہیں۔اصل مسئلہ مغربی کلچر نہیں، بلکہ اس کی غیر متوازن اور بے سوچ نقل ہے۔ ہر معاشرے کی اپنی ایک بنیاد ہوتی ہے، اپنی اقدار اور اپنی حدود ہوتی ہیں۔ جب کوئی معاشرہ اپنی بنیادوں کو چھوڑ کر دوسروں کے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ نہ مکمل طور پر دوسرا بن پاتا ہے اور نہ خود رہتا ہے۔ نتیجہ ایک ایسی کھوکھلی شناخت کی صورت میں نکلتا ہے جس میں نہ گہرائی ہوتی ہے اور نہ استحکام۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ زبان بدل رہی ہے، لہجہ بدل رہا ہے، گفتگو کا انداز بدل رہا ہے۔ جہاں کبھی بڑوں سے بات کرتے ہوئے نظریں جھکائی جاتی تھیں، آج وہاں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تکرار کو بہادری سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں کبھی اختلاف بھی ادب کے دائرے میں ہوتا تھا، آج وہاں بدتمیزی کو اظہارِ رائے کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی صرف الفاظ کی نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی ہے اور یہی سب سے زیادہ خطرناک پہلو ہے۔خاص طور پر نوجوان نسل اس اثر کا سب سے بڑا شکار ہو رہی ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں۔ جب اسکرین پر، سوشل میڈیا پر اور روزمرہ زندگی میں انہیں یہی دکھایا جائے کہ بے باکی ہی کامیابی ہے اور حدوں کو توڑنا ہی آزادی ہے تو پھر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ادب، لحاظ اور حدود کا خیال رکھیں گے۔۔۔ ایک مشکل بات بن جاتی ہے۔

اسلام ہمیں اعتدال، حیا اور احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمارے دین میں آزادی ہے مگر وہ آزادی جو حدود کے اندر ہو۔ ہمارے ہاں اظہار کی گنجائش ہے مگر وہ اظہار جو دوسروں کی عزت کو مجروح نہ کرے۔ جب ہم ان اصولوں کو نظرانداز کرتے ہیں تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ ایک ایسے راستے پر چل پڑتا ہے جہاں ہر شخص اپنی مرضی کو قانون سمجھنے لگتا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو بظاہر پراعتماد ہے مگر اندر سے بے سمت ہے۔ ایک ایسی نسل جو بولنا جانتی ہے مگر سننا نہیں، جو سوال کرنا جانتی ہے مگر سمجھنا نہیں۔ یہ بغاوت اگر شعور کے ساتھ ہو تو انقلاب بن سکتی ہے، مگر جب یہ محض تقلید اور ردعمل پر مبنی ہو تو تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ کلچر صرف لباس یا زبان کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہوتا ہے۔ اس میں ہمارے تعلقات، ہماری ترجیحات، ہماری اقدار اور ہماری پہچان شامل ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اسے کھو دیا تو ہم سب کچھ کھو دیں گے، چاہے ہمارے پاس کتنی ہی جدید سہولیات کیوں نہ ہوں۔یہ وقت ہے کہ ہم رک کر سوچیں۔ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف ظاہری چمک دمک کے پیچھے اپنی اصل کھو رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو وہی دکھا رہے ہیں جس پر ہمیں فخر ہو سکتا ہے؟ یا پھر ہم ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جہاں واپسی مشکل ہو جائے گی؟اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنے دائرے میں بہتری کی کوشش کرے، اپنے انتخاب میں احتیاط برتے اور اپنی آواز کو مثبت انداز میں بلند کرےتو یقیناً تبدیلی ممکن ہے۔ میڈیا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے اور جب معاشرہ بدلے گا تو میڈیا بھی بدل جائے گا۔ اسکرین کا بدلتا چہرہ دراصل ہمارے اپنے چہرے کا عکس ہے۔ اگر ہم اس عکس کو خوبصورت دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی سوچ، اپنے رویے اور اپنی ترجیحات کو بھی خوبصورت بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہمیں ایک بہتر معاشرہ دے سکتا ہے بلکہ ہماری دینی اور اخلاقی پہچان کو بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔

اصلاح کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر نئی چیز بہتر نہیں ہوتی اور ہر پرانی چیز بیکار نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ترقی کا مطلب اپنی جڑوں سے کٹنا نہیں بلکہ ان جڑوں کو مضبوط رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔گھر، تعلیمی ادارے اور میڈیا، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی تربیت پر توجہ دیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف نصاب نہ پڑھائیں بلکہ کردار سازی پر بھی کام کریں۔ اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور ایسا مواد پیش کرے جو نہ صرف تفریح فراہم کرے بلکہ معاشرے کی بہتری کا باعث بھی بنے۔کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کی پہچان میں ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی پہچان کھو دی تو ہم بھیڑ کا حصہ تو بن سکتے ہیں، مگر ایک مضبوط اور باوقار قوم نہیں بن سکتے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دوسروں کی نقل بن کر جینا چاہتے ہیں یا اپنی اصل کے ساتھ ایک باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہی فیصلہ ہمارے مستقبل کا تعین کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں