میرا یار عامر بشیر عرف بانکے میاں ملتان میں جب جہاں دل چاہے مجھے گھمانے لے جاتا ہے۔ اس کی یہی عادت مجھے بہت پسند ہے۔ پرسوں ملتان سے واپسی میں کچھ ہی وقت باقی تھا تو کہنے لگا: چلیں آپ کو ایک اور منفرد جگہ دکھاتا ہوں۔ وقت ضائع نہیں ہونے دیتا یہ بندہ۔
یہ کہہ کر وہ مجھے ایک بڑے سے مرکزی محرابی دروازے کے سامنے لے آیا، جس کا خوبصورت کام اب بھی نمایاں تھا۔ یہ ولایت آباد چوک سے لکڑ منڈی کی طرف جاتے ہوئے چاہ امب والا کا مقام ہے، جہاں میں حیرت سے اس اکلوتے دروازے کو دیکھ رہا تھا جس پر 1970 کی علی بھائی ولی جی کالونی کی ایک چھوٹی سی سنگِ مرمر کی تختی لگی ہوئی تھی۔
عامر بھائی نے بتایا کہ میں نے کئی مرتبہ مقامی لوگوں سے پوچھا تو ہر کوئی اسے فیکٹری بتاتا۔ کوئی صابن کی اور کوئی برتنوں کی، جبکہ کچھ لوگوں نے تو اسلحہ فیکٹری کا بھی بتایا، لیکن اصل اور مکمل بات معلوم نہ ہو سکی۔
پوری حقیقت برطانوی دور کے سابق گورنر پنجاب ای ڈی میکلیگن کے لکھے ہوئے گزیٹر سے معلوم ہوئی۔

علی بھائی ولی جی اینڈ سنز کے نام سے یہ فرم 1875 میں قائم کی گئی، جس نے ہندوستان بھر میں دھاتی ٹرنک، ڈسپیچ باکس، سرجیکل آلات، ہسپتال کا سامان اور متعدد دیگر اشیاء بنانے میں بے پناہ نام کمایا۔
فیکٹری کا کل رقبہ ڈھائی ایکڑ تھا اور اس میں 150 افراد ملازم تھے۔ فیکٹری میں چمڑے پر وارنش کا کام اور چمڑے کی اشیاء بھی بنائی جاتی تھیں۔ فیکٹری کے تمام ملازم مسلمان تھے اور ملتان کے ہی رہائشی تھے۔ یہاں کام کرنے والے لوگ زبردست ہنرمند تھے اور ان کی مہارت نے فیکٹری کو اس وقت بھی چلائے رکھا جب ان اشیاء کی طلب کم ہو گئی تھی، اور یہاں بنی اشیاء ہندوستان اور قریبی ممالک میں فوراً فروخت ہو جاتی تھیں۔
علی بھائی ولی جی اینڈ سنز قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد بھی کام کرتی رہی۔ پھر 1965 تک یہ فیکٹری صابن فیکٹری کی شکل اختیار کر چکی تھی، یہ بات مجھے 80 سالہ ایک مقامی بزرگ نے بتائی۔ لیکن 1970 میں اسے علی بھائی ولی جی کالونی میں تبدیل کر دیا گیا اور یہاں سے سب کچھ ختم ہو گیا۔ فیکٹری کی جگہ گھر بن گئے اور صرف مرکزی دروازہ ہی باقی رہ گیا۔
جبکہ بوہری جماعت سے تعلق رکھنے والے علی بھائی ولی جی کے بارے میں کوئی کچھ نہ بتا سکا کہ وہ کون تھے اور کہاں گئے۔ اگر آپ میں سے کسی کو کچھ معلوم ہو تو ضرور بتائیے گا۔
اسی طرح “مرقع ملتان” نامی کتاب میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
یہ رفیع القدر کارخانہ ملتان چھاؤنی کے قریب سات بیگھ کے رقبہ میں واقع تھا۔ 1875 میں یہ کارخانہ قائم ہوا تھا اور طویل عرصے تک نہایت کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ اس میں فولادی ٹرنک، ڈسپیچ بکس، آلاتِ جراحی، شفاخانوں کا سامان اور دوسری ضروری چیزیں نہایت خوبی اور صفائی کے ساتھ تیار کی جاتی تھیں۔
اس کارخانہ میں تقریباً دو سو آدمی کام کرتے تھے اور بعض کاریگر اپنے فن میں کمال رکھنے کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھے۔ یہ کارخانہ پورے ہندوستان میں نمایاں شہرت رکھتا تھا اور یہاں کا بنا ہوا مال سرکاری شفاخانوں، دفتروں اور تاجروں تک ہر جگہ پہنچتا تھا۔
ڈھلائی، ٹین سازی، چوب تراشی، گلٹ سازی، رنگ سازی، چرم سازی اور پالش کے محکمے الگ الگ قائم تھے۔ آہنی مال چادروں کی صورت میں براہِ راست ولایت سے آتا تھا اور چمڑا وغیرہ بمبئی اور کانپور سے فراہم کیا جاتا تھا۔ رنگ ساز اپنے فن میں خاص مہارت رکھتے تھے اور اچھی تنخواہیں پاتے تھے۔
جنگِ عظیم کے دوران اس کارخانے نے لاکھوں روپے کا سامان تیار کر کے جنگی ضروریات کو بخوبی پورا کیا تھا۔
یہ تھا ماضی کے اس مشہور کارخانے کا حال، جسے بوہری جماعت کی ایک معروف فیملی چلاتی تھی۔ یقیناً یہاں بوہری جماعت کا اور بھی ورثہ موجود ہوگا۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ محرابی دروازے کا سارا کام اور اندرونی کھڑکیاں اب بھی بہترین حالت میں ہیں۔ خوش آئند امر ہے کہ مقامی لوگوں نے اسے نقصان نہیں پہنچایا۔ اب اس کارخانے کی یہی نشانی باقی رہ گئی ہے۔


