چار انچ کی دوری/مقصود جعفری

پردہ اٹھا۔ نہیں، دراصل پردہ گرا ہوا تھا، گہرا سرخ اور بے معنی، بالکل ایک بھولی ہوئی شام کے ان کہے وعدے کی طرح۔دیوار پر ایک گھڑی بے تابی سے لٹکی ہوئی تھی، لیکن اس کی سوئیاں اُلٹی سمت دوڑ رہی تھیں، جیسے ماضی کے کسی خاموش لمحے کو دوبارہ گرفت میں لینے کی جنونی کوشش میں ہوں۔ میز پر رکھی چائے کی پیالی نے بخارات کا ایک دھواں دار بادل ہوا میں چھوڑا، اور اس بادل میں، ایک بھوری بلی نے میاؤں کیا جو اصل میں کمرے میں موجود ہی نہیں تھی۔
آغاز ایک سفید لہر سے ہوا۔ یہ لہر نہ پانی کی تھی نہ روشنی کی، صرف ایک لا متناہی، بے رنگ انتظار تھی۔ اس انتظار کے اندر، ایک گہرے نیلے مربع اور ایک مدھم پیلے دائرے کا وجود تھا۔وہ دونوں ایک دوسرے سے چار انچ کی دوری پر تھے—یہ دوری ایک معاہدہ تھی، ایک سمجھوتہ۔ نہ کم، نہ زیادہ۔دائرے نے ایک سُرخ رنگ کا جھٹکا خارج کیا۔ یہ جھٹکا نہ غصہ تھا، نہ خواہش، بلکہ ایک پرانا، غیر استعمال شدہ شکوہ تھا جو خلا میں گھوم رہا تھا۔مربع نے جواب میں اپنے اندر سے ایک سیاہ نوکدار مثلث باہر نکالی اور اسے چار انچ کی دوری پر فضا میں معلق کر دیا۔
کیا آج بھی گلیارے کی چوتھی اینٹ ٹیڑھی رہے گی؟۔ دائرہ کی آواز آئی۔ (یہ آواز کسی انسان کی نہیں تھی۔یہ رابطے کی لہر تھی)اینٹ ٹیڑھی نہیں ہے۔ تمہارے دیکھنے کا زاویہ غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ اسے ایڈجسٹ کرو۔ (یہ مربع کا جواب نہیں تھا، یہ فضا میں ٹھہرا ہوا ایک فیصلہ تھا)
یہ ان کا معمول تھا۔ سالہا سال سے، ان کی شادی کا اندرونی معاملہ ان رنگوں اور اشکال کے غیر متزلزل ٹکراؤ پر مبنی تھا۔ صبح کا آغاز دائرے کی طرف سے ایک سبز، پرامید لکیر کھینچنے سے ہوتا تھا، اور رات کا اختتام مربع کے اندر سے ایک بھاری، سرمئی دھند کے خارج ہونے پر۔
نیکسٹ سٹاپ: خاموشی کا سٹیشن۔ کمرے کے ایک کونے سے آواز آئی، جو نہ بلند تھی اور نہ سرگوشی ۔دوسرے کونے سے، فرش پر بچھے پرانے اونی قالین کے کنارے کو بے دلی سے چھوتی ہوئی، ایک اور آواز آئی۔ اور وہاں سے، بے زار چابی کا کھو جانا۔
دونوں آوازوں کے مالکان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں، گزشتہ دس سالوں کی دھول جمی ہوئی تھی، جو ایک ہی آرائشی برتن میں سجی ہوئی تھی، لیکن اب اس دھول کو چاٹنے والا کوئی نہیں تھا۔تم نے پھر کبوتر کو قید کر دیا؟۔پہلی آواز نے پوچھا، الفاظ ہوا میں سڑیل لیموں کی مہک کی طرح پھیل گئے۔کبوتر؟ نہیں، میرے گلاس میں پڑا ہوا پانی اب بھی ٹیڑھا ہے۔ اور تم نے؟۔ جواب میں، دائرہ ایک ہاتھ سے اپنے بالوں کو سنوارنے لگا جو دراصل ایک کتاب کا سرورق تھا۔ تمہارے نہ کا آخری حرف کب مرے گا؟
یہ مکالمہ نہیں تھا، یہ صرف دو غیر متعلقہ لہروں کا ٹکراؤ تھا، بالکل اسی طرح جیسے لانڈری کی ٹوکری میں سفید جرابیں رنگین قمیضوں کے ساتھ اپنا وجود کھو دیتی ہیں۔ ان کا اصل سمجھوتہ چائے کی پیالی میں نہیں تھا، بلکہ ٹھنڈے دودھ کے خالی ڈبے میں پوشیدہ تھا، جسے ہر صبح کو بغیر دیکھے اٹھا کر پھینک دیا جاتا تھا۔
ایک دن، دائرہ تھک گیا۔ اس نے اپنی زردی کو کم کر دیا اور خود کو ایک کمزور، شفاف شیشے میں بدل لیا۔ یہ خود کو ظاہر کرنے کا سمجھوتہ تھا۔مربع نے جب شیشے کو دیکھا، تو اس کے اندر سے کوئی رد عمل پیدا نہیں ہوا، بلکہ وہی چار انچ کی دوری ایک لمحے کے لیے چار میل میں تبدیل ہو گئی۔مجھے وہ خالی جگہ چاہیے۔ دائرہ جو اب شیشہ بن چکا تھا، نے لہر بھیجی۔خالی جگہ؟۔ مربع نے اندر سے لہر بھیجی۔ ہماری زندگی میں کوئی خالی جگہ موجود نہیں ہے۔ ہر انچ پر کسی نہ کسی وعدے کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔ تم جس خالی جگہ کو مانگ رہے ہو، وہ دراصل میرا چھپا ہوا رنگ ہے۔
یہ کہتے ہی مربع نے اچانک ایک غیر متوقع حرکت کی۔ اس نے اپنی تمام سیاہ مثلثوں کو غائب کر دیا اور خود کو ایک خوشبودار ونیلا رنگ میں رنگ لیا۔ یہ وہ رنگ تھا جو دائرے کو سب سے زیادہ پسند تھا، لیکن صرف خوابوں میں۔دائرہ جو اب شیشہ بن چکا تھا، نے اس تبدیلی کو دیکھا۔ وہ چونکا نہیں۔ اس نے فوراً خود کو دوبارہ پیلا کر لیا، لیکن اس بار، پیلا رنگ تیزاب کی طرح تیز تھا۔ یہ اس تبدیلی کا جواب نہیں تھا، بلکہ تبدیلی کو مسترد کرنے کا فنکارانہ عمل تھا۔
دائرے نے پوچھا۔۔۔۔تم نے رنگ کیوں بدلا؟۔مربع نے کہا۔کیونکہ تم نے شفافیت اختیار کی۔ میں نے سوچا، شاید تم میرے اندر دیکھنا چاہتے ہو۔جبکہ میں تمہارے اندر دیکھنا نہیں چاہتی۔ میں صرف یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ تم خود کو کیسے دیکھتے ہو۔ اور مجھے لگتا ہے، یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔محض ایک نیا سمجھوتہ ہے تاکہ ہم وہی پرانی چار انچ کی دوری برقرار رکھ سکیں۔دائرے نے اپنی جگہ سے تھوڑا سا سرکنے کی کوشش کی۔ یہ محض 0.001 ملی میٹر کا سرکنا تھا مگریہ ایک بڑی بغاوت تھی۔
مربع فوراً ہل گیا۔ نہیں، وہ ہلا نہیں، بلکہ اس کی شکل بگڑ گئی۔ وہ مربع سے ایک زگ زیگ لکیر میں تبدیل ہو گیا، جو خوف، الجھن اور بے بسی کا ایک اظہار تھا۔کیا تم اسے ‘آزادی’ کا نام دو گے؟۔ زگ زیگ (مربع) نے لہر بھیجی۔نہیں، یہ صرف تھوڑا سا سانس لینا ہے۔ اس چار انچ کے دباؤ سے باہر نکلنا۔مگرکیا تم ہمیشہ ایک مربع رہو گے؟ کیا تمہاری لکیریں کبھی ٹیڑھی نہیں ہوں گی؟۔دائرہ نے لہر بھیجی۔زگ زیگ نے جواب میں ایک گہری، خاموش تصویر فضا میں بنائی۔ یہ تصویر تھی۔ایک سرخ گلاب کی زنگ آلود پنکھڑی، جو کئی سال پہلے ایک خالی گلدان میں سوکھ چکی تھی۔
دائرے نے اس پنکھڑی کو دیکھا۔ یہ ان کی پہلی ملاقات کا احساس تھا۔ وہ احساس جسے انہوں نے سختی اور سمجھوتے کی تہہ میں دفن کر دیا تھا۔دائرہ کا سخت (پیلا) رنگ ایک دم نرم ہو گیا۔ اس نے اپنے مرکز سے ایک ننھی منی لکیر کھینچی، جو چار انچ کی دوری کو عبور کرتے ہوئے زگ زیگ کے ایک کونے کو ہلکے سے چھونے لگی۔یہ لکیر نہ محبت تھی، نہ معافی۔ یہ صرف تھکاوٹ تھی۔زگ زیگ ایک لمحے کے لیے لرزا۔ اور پھر، اس نے ایک چونکا دینے والی حرکت کی۔زگ زیگ نے اپنی تمام اشکال کو توڑ دیا۔ وہ ایک ہی پل میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے آئینوں کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو گیا۔ یہ ٹکڑے چار انچ کی دوری کو عبور کر کے دائرے کے گرد بکھر گئے۔
ہر چھوٹے آئینی ٹکڑے نے دائرے کو لا تعداد مختلف زاویوں سے دکھایا۔ ایک ٹکڑے میں دائرہ بہت خوش تھا، دوسرے میں تنہا، تیسرے میں ناراض، اور چوتھے میں کسی اور کا۔دائرہ (پیلا) نے جب خود کو ہزاروں ٹکڑوں میں بکھرا ہوا دیکھا، تو وہ سمجھا کہ سمجھوتہ دراصل یہ تھا کہ وہ کبھی ایک انسان نہیں تھا، بلکہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے امکانات کا مجموعہ تھا جنہیں ایک مربع کی شکل نے ایک ساتھ تھام رکھا تھا۔
دائرہ نے اپنی تمام توانائی کو مجتمع کیا۔ اس نے اس 0.001 ملی میٹر کی دوری کو واپس لینے کا فیصلہ کیا جو اس نے سرکائی تھی۔جب دائرہ واپس اپنی اصل جگہ پر آیا، تو آئینے کے تمام ٹکڑے ایک دم غائب ہو گئے۔کمرے میں صرف وہ سفید لہر، ایک پیلا دائرہ اور ایک نیلا مربع باقی رہا۔ اور ان کے درمیان وہی چار انچ کی ابدی دوری۔
دائرہ کرسی سے اٹھا، اور دیوار پر لگی گھڑی کے پاس جا کر، اس کے شیشے پر انگلی سے ایک لکیر کھینچی۔مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان کی کیمسٹری، اس پیٹنٹ شدہ ربر بینڈ کی طرح ہے جو ہمیشہ تنا رہتا ہے لیکن کبھی ٹوٹتا نہیں۔ یہ ایک ابدی کھینچا تانی ہے۔
مربع صرف مسکرایا۔ ایک ایسی مسکراہٹ جس میں آئس کیوبز کے جمنے کی آواز شامل تھی۔ہمارے درمیان کوئی کیمسٹری نہیں ہے۔ صرف فزکس ہے۔ عمل اور رد عمل ۔ جب تم کوئی بے معنی عمل کرتے ہو، تو میں ایک خاموش رد عمل ہوں۔ اسی لیے یہ شادی نہیں، ایک جغرافیائی اصول ہے، جہاں دو خشک دریا ساتھ بہتے ہیں مگر ایک دوسرے کو سیراب نہیں کرتے۔
دائرہ گھڑی سے پیچھے ہٹا۔آج رات، میں اپنا پرانا قلم واپس لے رہا ہوں۔ وہ جس سے ہم نے اپنی شادی کے دسویں منٹ میں ہاں لکھا تھا۔دائرہ جو اب دروازے کی چوکھٹ کے پاس کھڑا تھا، نے اپنا کوٹ پہنا۔ یہ کوٹ نہیں تھا، یہ دراصل موسم کا ایک غیر مصدقہ اعلان تھا۔
مربع کی آنکھوں میں ایک بے نام شورش تھی۔اس نے کہا۔۔۔۔ٹھیک ہے، لے لو۔ لیکن یاد رکھنا، وہ قلم اب بھی خالی سیاہی رکھتا ہے۔ اور اس سیاہی میں ہمارے بچوں کا پہلا بستر سونا چاہتا ہے ۔اورکمرے کے وسط میں موجود پرانے چائے کے کپ کو اٹھایا اور اسے ایک ہی جھٹکے میں فرش پر پھینک دیا۔ دھڑام !۔۔۔۔۔۔چائے کی پیالی ٹوٹ گئی۔ اس کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے۔ ان ٹکڑوں سے ایک سفید پرندہ اڑا اور خاموشی سے کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
اسی وقت، دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے دائرہ نے مڑ کر دیکھا اور اس نے جیب سے ایک لکھا ہوا خط نکالا اور اسے میز پر رکھ دیا۔ خط پر لکھا تھا: سگنیچر کی جگہ پر، ایک بڑا اور بے ہودہ صفر بنا دیں۔مربع نے ٹوٹے ہوئے کپ کی طرف دیکھا، پھر اس کاغذ کی طرف، اور پھر دیوار پر لٹکی اُلٹی چلتی گھڑی کی طرف۔اور پھر جھکا۔ اس نے کپ کے ٹکڑے جمع کیے۔
اس نے دیکھا کہ کپ کے ٹوٹے ہوئے کناروں پر سرخ لپ سٹک کا ایک دھبہ لگا ہوا تھا۔ یہ وہ لپ سٹک نہیں تھی جو وہ استعمال کرتی تھی، بلکہ وہ تھی جو وہ گزشتہ دس سالوں سے استعمال کرنے کا خواب دیکھتی تھی، اور اسی خواہش کی بنا پر خاموش رہی تھی۔تبھی، ٹوٹے ہوئے کپ کے نیچے سے، ایک چھوٹی چابی برآمد ہوئی، جو بالکل اسی چابی کی شکل کی تھی جس کا ذکر دائرہ نے بے زار چابی کا کھو جانا کے الفاظ میں کیا تھا۔دائرہ نے آگے بڑھ کر چابی اٹھائی۔ اس نے خط پر لگے صفر کو دیکھا اور چابی مربع کی سمت بڑھا دی
مربع نے وہ چابی اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے، اپنے سینے کی بائیں جیب سے ایک بند صندوقچہ نکالا۔ یہ صندوقچہ اس نے کبھی کسی کو نہیں دکھایا تھا۔اس نے چابی کو صندوقچے میں ڈالا، اور اسے کھولنے کی کوشش کی۔چابی صندوقچے کے تالے میں پوری طرح گھس گئی۔مگر صندوقچہ کھلا نہیں۔کیونکہ وہ صندوقچہ، دراصل، صندوقچہ تھا ہی نہیں۔وہ ایک گہرا نیلا انڈا تھا، جس کی سطح پر ان کی شادی کی انگوٹھیوں کے نقوش کھدے ہوئے تھے، اور اس کے کھلنے کا کوئی دروازہ یا تالا موجود نہیں تھا۔
اسے دیکھ کر، دروازے کے پاس کھڑے دائرہ نے کہا۔یہ صندوقچہ ایک ایسی کہانی ہے جو ان کہے لفظوں پر قائم ہے۔ یہ دراصل تمہاری زندگی کا وہ خالی صفحات والا ضمیمہ ہے جسے تم ہمیشہ سمجھوتہ سمجھ کر بھرنا چاہتے تھے مگر وہ ہمیشہ خالی رہا۔ میں نے وہ چابی تمہیں اس لیے دی تھی کہ تم اسے اس میں ڈال سکو، تاکہ تمہیں ہمیشہ یہ یقین رہے کہ دروازہ کھلنے والا ہے۔
اور اس طرح، وہ دونوں، ایک ٹوٹے ہوئے کپ اور ایک نہ کھلنے والے انڈے کے ساتھ، اس خالی کمرے میں باقی رہ گئے، جہاں فطرت نے اپنے سب سے بے معنی، پھر بھی سب سے گہرے، سمجھوتے کا مظاہرہ کیا تھا۔ان کا رشتہ اس انڈے کی طرح تھا۔کامل شکل، لیکن اندر سے ہمیشہ خالی۔

اپنا تبصرہ لکھیں