حالیہ جنگ میں سعودی عرب کو کیا فائدہ پہنچا؟- علی ہلال

ایران اس جنگ میں خلیج میں بہت اہم دوست قطر کوکھو بیٹھا ہے۔ قطری ذمہ داروں نے متعدد بیانات میں کہا ہے کہ ایران نے ہمیں دھوکہ دیا۔ قطر وہ ملک تھا جس نے ہر مشکل گھڑی میں ایران کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں خلیجی ریاستوں پر ایران کے عزائم پوری طرح بے نقاب ہوگئے ہیں۔
ایران کے پاس آبنائے ہرمز کا جو کارڈ تھا وہ تقریباً سب سعودی عرب کے لیے بے سود ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے اس دوران آبنائے ہرمز کے بارے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

سعودی عرب عرصے سے تیل برآمدات کے لئے پائپ لائنیں بچھا چکا ہے جو بحر احمر کے ینبع پورٹ پر جہاز بھر کر آگے روانہ کئے جاتے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب سلمان کینال کے نام سے بحر احمر سے خلیج تک ایک بڑی نہر تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کررہاہے۔ یہ دس برس کا پروجیکٹ ہے۔ جس میں سعودی عرب کو باب المندب آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں رہے گی ۔

حالیہ جنگ میں خلیج میں کویت اور امارات کو جہاں نقصان پہنچا ہے وہیں سعودی عرب کو فایدہ ہوا ہے۔ دبئی سے نکلنے والے ارب پتیوں نے زیادہ تر سعودی عرب کو ہی ٹھکانہ بنالیا ہے۔ جنگ کے دوران جب ہوائی راستے بند تھے۔ محفوظ گاڑیوں کے قافلوں کے ذریعے بڑی تعداد میں سرمایہ کار ریاض اور جدہ پہنچے ہیں۔ یہ لوگ اب سرمایہ کے لیے ریاض اور جدہ میں کوشاں ہیں ۔ جنگ کے بعد اس کے اثرات صاف نظر آئیں گے ۔ اسی طرح سے سعودی عرب کے لئے یہ جنگ غیر متوقع طور پر فایدہ مند ثابت ہوگئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں