ہمیں جب کوئی چیز، بات یا واقعہ اچھا لگے تو قدرتی طور پر ہمارا دل اس کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ ایک کشش سی ہوتی ہے جو پوری قوت سے اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہے اور ہم کھنچے چلے جاتے ہیں۔ جب کسی دل میں پسند کے شگوفے پھوٹ رہے ہوتے ہیں ، وہیں دل میں دلچسپی کے ایسے خوبصورت جذبات مچلتے ہیں جیسے خوبصورت لگنے والا کوئی اور تازہ کھلا پھول آنکھوں کے سامنے کھڑا آواز دے رہا ہو۔ اس منظر کو دیکھ کر ہماری دلچسپی کی کھڑکی از خود کھل جاتی ہے، تاکہ تا دیر خوشنما پھول کے جاذب نظر روپ کا نظارہ کیا جاسکے۔ دلچسپی کا تعلق دل سے ہوتا ہے، اور دل، آماج گاہ ہوتا ہے شوق و وارفتگی کا۔ اس لئے جہاں دل کو کچھ بھا جاۓ وہاں سے شوق، راحت اور محبت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ اسی کیفیت میں دل کے اندر دلچسپی کی کلی کھلتی ہے۔ جس شے میں استغراق اور انجذاب کا رجحان ہو وہاں دلچسپی از خود ڈھلان کی طرف بہتی ندی کی طرح رواں اور متحرک ہو جاتی ہے۔ کوئی خوش ذائقہ کھانوں کا شیدائی ہو تو فقط کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو ا س کے دل میں لذت کام و دہن کی دلچسپی کے چراغ روشن کر دیتی ہے۔
دل چسپیوں کے اپنے بے شمار رنگ، اپنے انداز ہوتے ہیں اور اس کی وجہ دل و دماغ میں ابھرتے جذبات ہیں۔ کبھی یہ جذبات، مزاج کو کبیدہ خاطر کرتے ہیں اور کبھی شوخی و خوشیوں کی دہلیز پر پہنچا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دلچسپیاں خوبصورت اور بد شکل دونوں ہیئت میں نظر آتی ہیں۔ دلچسپیوں کا کوئی ایک رخ نہیں ہوتا۔ یہ حالات کے تابع ہوتی ہیں یا میلان طبع کی تخلیق ہوتی ہیں۔ کسی کو شوخ و شنگ اور ہنگامہ خیز زندگی میں دلچسپی ہوتی ہے اور کسی کو سنجیدہ مگر پر سکون روش اختیار کرنے میں راحت محسوس ہوتی ہے۔ کوئی اپنے مخصوص شرانگیز افتاد طبع کی وجہ سے دنگا فساد، ہنگامہ آرائی، مار پیٹ اور توڑ پھوڑ کے جذبات لئے موقعے کی تلاش میں یا اکسانے، بہکانے پر انکے اظہار میں دلچسپی رکھتا ہے اور کوئی گھر کے تعلیمی ماحول، متمول حیثیت اور موافق سماجی مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے اچھی اور اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی رکھتے ہوئے محنت اور جستجو میں دن رات ایک کرتا ہے اور با لآخر اپنی منزل کو پا لیتا ہے۔
دلچسپیاں اپنی نوعیت میں مختلف ہوتی ہیں۔ کوئی ہوس زر میں دلچسپی رکھنے والا لوٹ کھسوٹ، بد دیانتی، ناجائز ذرائع اختیار کر کے کمائی کو مسئلے کا حل سمجھتا ہے اور کوئی اپنی دولت کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ فلاح کے جذبات رکھتے ہوئے غریبوں مسکینوں اور یتامیٰ کے سکھ چین کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں مصروف ہوتا اور اسے اپنی اس دلچسپی کے طفیل سکون قلب نصیب ہوتا ہے۔ عموماً دلچسپی حالات کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں۔ عام انتخابات ہوں یا دیگر اداروں اور تنظیموں میں چناؤ کے مواقع، امیدوار حضرات اپنی مرضی کے بر خلاف سب کے ساتھ جھک جھک کر ملتے اور راۓ دہندگان کے مسائل حل کرنے کی حتی المقدور کوشش کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی ساری دلچسپی انتخابات جیتنے میں ہوتی ہے۔ وہ بہت سے ایسے ناجائز ذرائع کو بھی بروۓ کار لاتے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دوسرے مخالف امیدوار کے مقابلے میں زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو جائیں۔ مگر جب وہ جیت جاتے ہیں ان کی دلچسپیاں بدل جاتی ہیں۔ تب انہیں لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان سے ملنے جلنے سے کترانے لگتے ہیں۔ وہ با اثر افراد کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور اپنے لئے ذیادہ سے ذیادہ فوائد حاصل کرنے میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے ابتداء میں کہا ہے کہ ہماری دلچسپیاں حالت کے تابع ہوتی ہیں۔ آج کل یہی ہو رہا ہے۔ ہماری زندگیاں پر آشوب حالات میں بسر ہو رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے درمیان جنگوں نے غیر متعلقین کو بھی متاثرین بنا کر انکے لئے ضروریات زندگی کے حصول کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ مہنگائی کے عفریت نے غریب کے مونہہ سے نوالہ چھین رکھا ہے۔ ہم اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھاۓ پھر رہے ہیں۔ ایسے میں ہمیں اپنی صحیح دلچسپیوں کا انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔
ہماری اس زندگی کا کچھ پتہ نہیں کب کس وقت کس لمحے ساتھ چھوڑ دے۔ اس لیئے اس مختصر سی زندگی کو غنیمت جانیں۔ جو کچھ آپ کے اختیار میں ہے، بہتر سے بہتر کرتے جائیں، لوگوں سے پیار کریں، لوگوں کے دکھ درد، غم، پریشانی، مصیبت میں کام آئیں، دل کو بغض، حسد، کینہ، کدورت اور نفرت سے پاک رکھیں۔ یاد رکھیں ہم تو مہمان مسافر ہیں، جانے کے لیئے آئے ہیں۔ یہ دولت، یہ عزت، یہ شہرت اور اقتدار سب چھوڑ کے جانے کے لیئے آئے ہیں۔ اللّٰه تعالٰی ہم کو ھدایت دے اور ہم سے راضی ہو جائے۔
آج ہم اپنی نسل نو کی دلچسپیوں کا جائزہ لیں تو وہ پرانی نسل کی دلچسپیوں سے سرا سر ما ورا دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں تہذیب اور تعلیم کا فرق نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ الزام نہیں بلکہ مشاہدہ ہے کہ نئی نسل کو کتابوں سے کم اور موبائل فونز میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوتی ہے۔ انہیں کتابیں بھاری اور موبائلز ہلکے پھلکے لگتے ہیں۔ کتابیں باتوں کو explain کرتی ہیں، نصیحتوں کے انبار لگاتی ہیں، اصلاح کرتی ہیں، جن سے جی اکتا جاتا ہے۔ جبکہ موبائل فونز اگر انثرنیٹ، وہاٹس ایپ، یو ٹیوب، انسٹا گرام، فیس بک اور اے آئی سے منسلک ہو تو پوری دنیا نظروں کے آگے ہوتی ہے۔ معلومات کا ایسا سیلاب ذہنوں کو سیراب کرتا ہے جنھیں محض ایک کلک کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان میں کسی کو کیسے دلچسپی نہ ہو ممکن نہیں۔۔ مگر معلومات کے اس طوفان نے نئی اور پرانی دونوں نسلوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیئے ہیں۔ دلچسپیاں بدل گئی ہیں، رشتوں کا تقدس معدوم ہو گیا ہے ۔ اس میں بڑھتی دلچسپیاں اب تہذیبی تباہی اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی کے در کھول رہی ہیں۔ یہاں تک کہ لڑکپن بھی اس سے متاثر ہو کر معاشرتی بگاڑ میں اصافہ کر رہے ہیں۔ ان سے کیسے بچا جا سکتا پے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسے دولت کی چمک نے آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے ہماری دلچسپیوں کے گرد اندھیرا چھا جاۓ۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔


