ایران میں گزرے ایامِ جنگ/اک رات کی کہانی، اک دن کا قصّہ(2)سراجی تھلوی

رات کٹتی رہی، پہلو بدلتا رہا۔ کہاں کی نیند، کہاں کا سکون۔ اسی پس و پیش میں سحری کی تیاری شروع ہوئی۔ اذان ہونے میں کچھ وقت تھا۔ اتنے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت کی تصدیق ہوئی۔ نمازِ صبح سے فراغت پاتے ہی چاروں اطراف سے آہ و فغاں کی صدائیں آنے لگیں۔ وہ صبح ایک المناک صبح، ایک دردناک سحر تھا۔ وہ شخص جو پچھلے 36 سالوں سے جمہوریہ اسلامی ایران کی رہبریت کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ جو صرف سیاسی قیادت نہیں بلکہ مذہبی رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ لاکھوں مقلدین و فالورز رکھتے تھے۔ جب ایرانی ٹی وی پر شہادت کی خبر پھیلی تو میرے آنکھوں کے سامنے آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کا ایک اجمالی خاکہ ابھر کے آیا۔

ان کے سوانحِ حیات پر مشتمل کتاب “خونِ دلی کہ لعل شد” کچھ سال قبل بالاستیعاب مطالعہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ واقعی ان کی زندگی ایک آئیڈیل زندگی تھی۔ ایک سپہ سالارِ وقت، ایک مجتہد، ایک فقیہ، ایک ادیب و شاعر، دنیا کے مختلف زبان و ادب، تہذیب و ثقافت پر وسیع مطالعہ رکھنے والے ایک متنوع الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ بالفاظِ دیگر وہ اپنی ذات میں ایک ملت تھے۔ یہ کتاب اردو زبان میں “زنداں سے پرے رنگِ چمن” کے نام سے ترجمہ ہوئی ہے۔

ایران کے شہر مشہدِ مقدس کے ایک متوسط سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والا آخوند کا بیٹا تلاشِ علم کے لیے مشہد سے قم کا سفر کرتا ہے۔ تلاشِ علم کے اس سفر میں اُس وقت کے حوزہ علمیہ قم کے مایہ ناز، معروف استاد امام خمینیؒ کے دروس میں بیٹھنے لگتے ہیں۔ ان کے اندازِ بیاں، تدین، بے باک انداز، جرات مندانہ اقدام اور ان کے ابتکاری نظریات، ولایتِ فقیہ سے متاثر ہو کر ہمیشہ کے لیے امام خمینی کے قافلے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور زندگی بھر انہی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں ایک سنجیدہ طالبِ علم کے لیے ضرور ان کے سوانحِ حیات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ واہ! کیا زندگی تھی۔ اس شباب کے اوج میں نہیں معلوم انہوں نے دنیا کے کتنے قلمکاروں کو، مصنفین کو پڑھ رکھا تھا۔ عربی ادب پر انہوں نے ابو الفرج اصفہانی کی کتاب “الاغانی” کے مطالعے کا جو روداد بیان کیا ہے، وہ پڑھ کر ہی ایک جوش و جذبہ، ایک انرجی الگ سے ملتی ہے۔ سید قطب کے افکار سے متاثر ہو کر ان کی کچھ کتابوں کا ترجمہ بھی کیا۔ شاہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں زندان میں جو ستم انہوں نے اٹھائے ہیں، پڑھ کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

میں کوئی تحقیقی مضمون نہیں لکھ رہا، بس آج لکھتے ہوئے کچھ سال قبل کے مطالعے سے جو کچھ حافظے میں محفوظ تھا، وہ ابھر کے سامنے آ رہا ہے تو کچھ نقوش مرقوم کر رہا ہوں۔ ورنہ ان کی زندگی کا احاطہ ایک مختصر سی تحریر میں کرنا خاکسار کے لیے ممکن نہیں۔

اس دن قُم، ایران کی فضاؤں میں اُداسی کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ میں ہاسٹل سے علی الصباح حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی طرف چلا۔ سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم ہر طرف سے، چیخ و پکار، آہ و فغاں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی ماں کا جواں بیٹا بھری جوانی میں مر گیا ہو۔ واقعی ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکی تھی۔ نہ پیر و جواں، نہ زن و مرد—ہر شخص اشکبار تھا۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے گلے لگ کر رو رہا تھا۔

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں