کبھی کبھار مجھے اپنے وطن پاکستان پر بڑا ترس آتا ہے ۔ ہر کوئی اس کے خلاف بات کرتا نظر آتا ہے، دنیا کے کسی حصے میں کوئی بھی واقعہ رونما آتا ہے۔ اس کے زرمبیز نما باسی،احتجاج کے نام پر اس کی تھوڑ پھوڑ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انکے نام نہاد سپورٹر اس عمل کی حمایت بھی کرتے ہیں اور ہہ بیچارا چپ چاپ سہتا رہتا ہے۔
افغانستان میں مسئلہ ہو،تو پاکستان کے دیوبندیوں کو مڑور اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ لوگ احتجاج شروع ہر دیتے ہیں ۔ ایران میں کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو پاکستان کے اہل تشیع حضرت پرتشدد احتجاج کرنے پر اتر آتے ہیں ۔ بات عرب ممالک کی ہو تو اہل حدیث حضرات احتجاج کے نام پر ہر چیز بند کر دیتے ہیں ۔ اگر عراق میں کچھ ہو جائے،تو وطن عزیز کے اہلسنت و اہل جماعت والے بھائی صاحبان ایسا احتجاج کرتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔
ان مزہبی حلقوں کے احباب سے بندا پوچھے کہ کھبی ان ممالک نے پاکستان کی حمایت میں ایسا احتجاج کیا ہے؟ ایسے سوالات پوچھنے پر انکے سپورٹرز گالم گلوچ کرنے پر اتر آتے ہیں۔
ایک واقعہ لے لیجیے،مئی میں پاکستان بھارت کی جنگ ہوئی،ایران،افغانستان،عرب ممالک سمیت کسی ملک میں پاکستان کی حمایت میں احتجاج ہوا؟؟ بھارت کے سفارت خانوں کا گھیراؤ کیا گیا کہ کیوں تم نے بہاولپور کے نہتے لوگوں پر مزائل مار گرائے؟؟ جواب آئے گا نہیں ۔
بلوچستان میں ساری پراکسیز ایران سے آپریٹ کرتی ہیں، کے پی کے میں امن وامان کی صورتحال افغانستان سے آ کر خراب کی جاتی ہے۔ تب میرے اہل وطن و مزہبی طبقہ کیوں ان ملکوں کے خلاف احتجاج نہیں کرتا؟ جب یہ باتیں مجھ جیسے پاکستانی کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ فرقہ بازی میں پڑے ہوئے ہیں ۔
ہمارا ایک ہی فرقہ ہے وہ ہے پاکستان ۔ ہم ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں وہ ہے پاکستانیت۔ یہ کیسی بے حسی ہے کہ جنگ ایران میں لڑی جا رہی ہے اور گھیراؤ جلاؤ پاکستان میں ہو رہا ہے۔پاکستانی املاک کو جلایا جا رہا ہے۔ اس پر جو بھی بات کر رہا ہے اسے غدار قرار دیا جا رہا ہے ۔
اگر کسی بھی اسلامی ملک کو پاکستان کی پرواہ نہیں تو پاکستان کو بھی کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ۔ چار بہار بندرگاہ عملی طور پر انڈیا کے قبضے میں ہے،جہاں سے بلوچستان میں حالات خراب کیے جاتے ہیں ۔
طالبان سیدھی بھارت اور اسرائیل کی ایما اور فنڈنگ کی بنیاد پر پاکستان میں دہشگردی میں ملوث ہیں اور اب انکا مکمل علاج کیا جا رہا ہے۔ اگر عرب ممالک پاکستان کی مالی مدد کرتے ہیں تو بدلے میں اپنے دفاع کے لئے پاکستانی فوج کی قربانی مانگتے ہیں اور خود بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔
یہ ہے کل امت اسلام کی اوقات۔ ان سب کو بس مشکلات میں ہی پاکستان نظر آتا ہے،کیوں نظر آتا ہے؟ کیونکہ اس کے پاس اٹیمی بمب ہے۔ اگر نا ہوتا یہ ممالک پاکستان کی طرف دیکھتے ہی نا اور یہ حقیقت ہے۔
پاکستان میں طالبان و انڈین پروکیسز دہشگردی کر کے معصوم شہریوں کو شہد کر رہی ہیں۔کب ان ممالک نے بھارت کے سفارت خانوں کے سامنے احتجاج کیا؟ تب ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی تیل لینے چلی جاتی ہے۔ تب یہ پاکستانی زومبیز کیوں نہیں احتجاج کرتے؟ تب ایران کے سفارت خانے کے باہر یہ زومبیز کیوں نہیں آگ لگاتے اور کہتے کہ ایران بارڈر کراس کر کے بھارتی دہشت گرد بلوچستان میں قتل عام کرتے ہیں ۔
یہ لکھ لیں،اسرائیل نے حملے کے بعد گلف ممالک کو ایران نے اس لیے حملے کا شکار بنایا کیونکہ انکا دفاع کمزور تھا۔ اگر پاکستان ایک اٹیمی طاقت نا ہوتا تو اس حملے کے جواب میں ایران نے پاکستان پر بھی حملہ کرنا تھا۔
آپ کو اسرائیلی و امریکہ کے حملے کے بعد معصوم ایرانی بچوں و شہریوں کا خون تو نظر آتا ہے( یہ قابل مذمت ہت) لیکن ایران کی فنڈنگ سے مشرق وسطیٰ میں قتل عام میں ملوث ملیشیاز کیوں نظر نہیں آتیں۔ اسی ایرانی ملیشیاز نے صرف شام میں شامی ڈکٹیٹر بشار الاسد جیسے ایرانی اثاثے کو بچانے کے لیے لاکھوں شامی مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔ آپ کو شامی مسلمانوں کا خون کیوں نہیں نظر آتا۔ ایرانی فنڈنگ سے لبنان میں جاری قتل و غارت کیوں نہیں نظر آتی۔ کیونکہ آپ فرقہ پرستی کی آگ میں اندھے ہو چکے ہیں ۔
اسرائیل ایک ناجائز ملک ہے،لیکن مشرق وسطیٰ میں اپنی علاقائی چوہدراہٹ برقرار رکھنے کے لئے ایران نے اپنی ملیشیاز کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کروایا، یہ نام نہاد فسبکی مجاہد و فرقہ پرستی آگ میں اندھے پاکستانی زومبیز اس حقیقت کو نہیں مانیں گے۔
لیکن آفرین ہے ہم سب کے پاکستان پر،ان سبھی کو پال رہا ہے،کھلا رہا ہے۔ کل کو حکومت پاکستان ان زومبیز سے کہے کہ جاؤ ایران جا کر ان کی جنگ لڑو،تو ایک بھی زومبی نظر نہیں آئے گا لیکن پاکستان میں آگ لگانے میں یہ صف اول میں نظر آئے گا۔
پاکستان مجھ سمیت ہم سب کی ریڈ لائن ہے،کوئی اس پر گھیراؤ جلاؤ کر کے آگ لگائے گا تو ہم اس سے شدید نفرت کریں گے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں۔۔پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے ۔پاکستان ہے تو ہم ہیں اور سب سے پہلے پاکستان ۔
تحریر ۔۔ ڈاکٹر محمد شافع صابر


