مِنیٰ میں/اقتدار جاوید

کرنل شاہد ہم پانچوں میں سے زیادہ کام کے آدمی تھے۔ جہاں ہم سے کچھ نہ بن پاتا میں چاروں کے مشورے سے میں پہلے ہی کہہ دیتا کرنل شاہد کو بتاٶ۔ کرنل سے مشورہ کرتے ہیں کرنل زیادہ سمجھدار ہے اسے بات کرنے اور معاملہ کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ یہی ہمارے ساتھ منیٰ میں قربانی کے موقع پر ہوا۔سب حجاج نے احرام اتار لیے تھے، بال کٹوا لیے تھے اور غسل کر لیا تھا۔ ایک ہم تھے کہ پورے منیٰ میں ایک نمونہ بنے ہوٸے تھے۔پانچ لوگوں کا گروہ اور بے بس۔قربانی نہیں ہو رہی تھی قربانی کیا ہوتی جانور ہی مل نہیں رہے تھے۔عجیب بات ہے ہم تو جیسے پھٹ پڑے کرنل یہ کیا مذاق ہے مگر چونکہ ان ایام میں غصہ بھی نہیں کرنا تھا سو کرنل کے ذمے لگایا چلیں چل کر اپنے منتظم سے بات کرتے ہیں۔یہ کیا منطق ہے کہ قربانی ہی نہیں ہو رہی اور قربانی کے لیے جانور ہی نہیں مل رہا۔اب صبح کا وقت تھا پہلے تو منیٰ کے چھوٹے سے کیوٹ بازار میں چلے گٸے وہاں ہمیں کیرالہ کے خالد بھاٸی مل گٸے کیرالہ اب بھی اور پچھلی صدی میں خوشحال ریاست چلی آ رہی ہے۔ یہی حال ریاست اب کرناٹکہ کا ہے تعلیم اور خوشحالی میں سب سے آگے۔مگر خالد بھاٸی چہرے مہرے سے اتنے خوشحال نہیں لگتے تھے۔خالد بھاٸی اور ان کے دوستوں کے اجسام بہت دبلے پتلے تھے گوشت نام کی چیز ہی ان کے جسموں پر نہ تھی اور قد بھی نارمل سے بھی کچھ کم تھا۔لباس ان کا کرتہ اور دھوتی تھا۔منیٰ کے بازار میں ہم ایک چھوٹی سی دیوار پر بیٹھے ان کے ساتھ اپنا فلسفہ بگھار رہے تھے۔اتنے میں ایک آدمی آیا اور خالد بھاٸی کو جوس کا ایک گلاس اور ہمیں چاٸے کا کپ دے کر آگے بڑھ گیا۔ خالد بھاٸی کیرالہ کے بندگاہ کالی کٹ سے تعلق رکھتے ہیں اب اسے Kozkode کہتے ہیں۔ یہیں ولندیزی سب سے پہلے ہندوستان میں آٸے تھے۔ ہماری پچھلی جانب اونچے پہاڑوں کے درمیان ریلوے ٹرین خراماں خراماں چل رہی تھی۔
یہ ٹرین منیٰ سے وہاں تک جاتی ہے جہاں شیطان کو کنکر مارے جاتے ہیں۔ہم نے تو اس پر سفر نہیں کیا کہ ہماری رہاٸش کے قریب وہ جگہ تھی جہاں کنکر مارے جاتے ہیں۔کنکریاں ہم نے مزدلفہ سے اٹھا بھی لی تھیں اور چوم بھی لی تھیں۔مزدلفہ کی رات دوبارہ کہاں ملنی تھی قسمت نے یاوری کی تو دوبارہ وہاں رات گزارنے کا موقع ملے گا(اس رات کا ذکر علیحدہ کالم میں کیا جاٸے گا )۔
اکیس کی بجاٸے ایک دو کنکریاں ہم نے زیادہ اٹھا لی تھیں۔جب الخالدیہ اپنی رہاٸش گاہ پر واپس آٸے تو معلوم ہوا یہ کنکریاں ہم اپنے ساتھ پاکستان نہیں لے جا سکتے۔اپنے معلم سے پوچھا وہ بولے کہ آپ حرم کی حدود میں ہی قیام پذیر ہیں یہیں رکھ دیں۔ مزدلفہ میں ایک رات ایک بابرکت رات گزارنا کوٸی انوکھی لذت تھی کھلے آسمان تلے فرش زمین پر سونا کوٸی نعمت تھا ساری رات جگمگا رہی تھی ایسے تھا جیسے حجاج اسی رات کا انتظار کر رہے تھے یہاں سونا بھی عبادت یہاں جاگنا بھی عبادت۔کوہ ِمشعر الحرام کے دامن میں پناہ ملی اب اس کے چوگرد رنگ روڈ بنی ہوٸی ہے۔ وہاں خوبصورت بسوں کا ایک ہجوم تھا چونکہ ہم رات کو پہنچے تھے لہذا ان بسوں سے اترتے حجاج کے قافلے نہ دیکھ سکے۔عرفات سے چلتے وقت ہمیں کہا گیا تھا کہ اپنے ساتھ کھانے پینے کی کچھ اشیا جیسے بسکٹ، نمکو اور پانی کی بوتلیں ساتھ رکھ لیں مزدلفہ میں ایسی اشیا نہیں ملتی ہیں۔مگر ہم جب اس وادی میں اترے تو سامنے بار بی کیو لگا ہوا تھا تازہ تازہ کبابوں کی خوشبو اڑ رہی تھی۔یہاں سے منیٰ کو چلیں تو باٸیں ہاتھ وادیِ محّسر پڑتی ہے یہاں رکنا نہیں چاہیے۔ اس جگہ سے تیزی کے ساتھ گزر جانا چاہیے یہی وہ جگہ ہے جہاں اصحابِ فیل آ کر رکے تھے۔ ابرہہ کے ہاتھی اور ابرہہ یہیں ایسے کر دیے گٸے تھے جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔
مزدلفہ سے واپس منیٰ پیدل چلنا پڑا اس دوران گرمی بھی تھی یہ چار کلومیٹر کا سفر پیدل ہمارے لیے مشکل تھا رستے میں خواتین کی بہت بری حالت تھی کٸی خواتین گرمی اور پیدل چلنے کی وجہ سے قے بھی کرنے لگیں اور ایک دو گرتے گرتے اوربیہوش ہوتے بچیں۔منیٰ سے مکہ کاچھ کلومیٹر فاصلہ ہے اگر ٹنل کے ذریعے جاٸیں تو چار کلومیٹر کے لگ بھگ بنتا ہے مگر ہم نے نہ سرنگ والا روٹ اختیار کیا نہ وہ سرنگ دیکھی۔البتہ مزدلفہ کا سفر بابرکت بہت تھا کہ سنت بھی یہی تھی۔منیٰ پہنچے تو اپنے اسی خیمے میں آ گٸے جس میں ہم عرفات جانے سے پہلے ٹھہرے تھے۔یہ خیمہ میں ہمارے علاوہ سوٸی گیس کے ملازمین کے مخصوص تھا۔اس میں ایک دبلے پتلے آدمی بھی تھے جو کھانا بہت کھاتےتھے اور کھانے سے ہاتھ کھینچتے ہی نہیں تھے۔ چونکہ کھانا بھی وافر تھا اور ان کی پیچھے کھنچا ہوا پیٹ بھی لکڑ ہضم پتھر ہضم سا تھا سو ان کے کھانے کے انداز پر بہت رشک آیا۔جب ہم ان سے نام پوچھا تو نہ صرف یہ پتہ چلا کہ وہ ڈیرہ جمالی کے رہنے والے ہیں اور خود بھی جمالی ہیں۔ان سے کسی نے بلوچستان کے حوالے سے بات کی تو وہ الو احرام کی حالت میں اور کھانے پر لگاتار ہاتھ صاف کرتے ہوٸے بولے آزادی تو ہم نے لینی ہے۔انہی دنوں میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی منیٰ میں مقیم تھے۔ ہم نے احرام کی حالت میں اتنا ہی کہا کہ آپ کا علاج کرنے کے لیے جنرل یہاں بھی موجود ہے۔فکر نہ کریں۔ آپ کا بندوبست کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں