قانون وراثت/اہم نکات(8,آخری حصہ)-عرفان شہزاد

* اصل ورثا کو ان کا حصہ بقیہ ترکے میں سے ملتا ہے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں۔ ایک ہوں یا ایک سے زائد۔

*ترکے کے اصل وارث اولاد یا بہن بھائی یا ان کی غیر موجودگی میں والدین ہیں۔ اصل وارثوں میں مرد عورت دونوں جنس ہوں تو ترکے کی تقسیم ایک نسبت دو سے ہوتی ہے۔ چنانچہ وارث صرف بیٹے اور بیٹیاں ہوں یا بھائی اور بہنیں ہوں تو مردوں کا حصہ عورتوں سے دو گنا ہے۔اسی طرح صرف والدین وارث ہوں تو باپ کا حصہ ماں سے دو گنا ہے،یعنی باپ کا دو تہائی اور ماں کا ایک تہائی۔

*فرد کی پیدایش و پرورش میں ماں کا حصہ باپ سے زیادہ ہے، اسی وجہ سے ماں کی خدمت باپ سے دو گنا زیادہ کرنے کا حکم ہے۔ تاہم، حمایت اور کفالت کے لحاظ سے باپ کی منفعت ماں سے زیادہ ہے، اسی وجہ سے جب تنہا والدین وارث ہوں تو باپ کا حصہ ماں سے دو گنا رکھا گیاہے۔ یعنی، بدنی منفعت کا بدلہ بدنی منفعت سے اور مالی منفعت کا فائدہ مالی منفعت سے دیا گیا ہے۔ البتہ، ماں کی خدمات کے صلے میں وراثت میں بھی اس کا ایک حصہ رکھا گیا ہے۔

*والدین کے ہوتے ہوئے دادی دادی نانا نانی کو حصہ نہیں ملتا اگرچہ ‘ابویه'(والدین)کے عموم میں وہ بھی شامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس لفظ کا مصداق حقیقی والدین کی موجودگی میں ان پر پورا ہوجاتا ہے۔ وہ اگر نہ ہوں تو اس کا اطلاق اجداد پر ہو جاتا ہے۔ مرحوم اولادکی اولاد کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اپنے ماں باپ کی موجودگی میں وہ اجداد کے ترکے سے حصہ نہیں پاتے، کیونکہ لفظ ‘ولد’ (اولاد) کا اطلاق حقیقی اولاد کی موجودگی میں ان پر پورا ہو جاتا ہے۔لیکن ا پنے والدین کی غیر موجودگی میں اس لفظ کا اطلاق اولاد کی اولاد پر ہوگا، اور انھیں اپنے مرحوم والدین کا حصہ ملے گا۔ چنانچہ اکلوتے مرحوم بیٹے یا بیٹی کی اولاد بالاتفاق اجداد کے ترکے کی وارث بنتی ہے۔ یہ اصول اس صورت میں بھی برقرار رہنا چاہیے جب مرحوم اولاد کے ساتھ حقیقی اولاد بھی موجود ہو۔ کیونکہ مرحوم اولاد کے حق میں لفظ ‘ولد’ کا اطلاق ان کی اولاد پر ہوگا ۔حقیقی اولاد اس سے مانع نہیں ہو سکتی۔چنانچہ مرحوم اولاد کی اولاد اپنے والدین کا حصہ پائے گی۔

*بہن بھائی اولاد کے قائم مقام بنائے گئے ہیں۔ اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ ورثا ایک دوسرے کے رشتے یا منفعت کے اشتراک کے لحاظ سے ایک دوسرے کے قائم مقام بنائے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے حقیقی والدین کی جگہ اجداد ان کے قائم مقام بن کر اپنی مرحوم اولاد کے ترکے سے والدین کا حصہ وصول کرتے ہیں۔ اسی اصول پر مرحوم اولاد کی اولاد اور اسی طرح مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد اپنے والدین کے قائم مقام بن کر اپنے والدین کا حصہ پانے کے مستحق ہیں۔

*اجداد اپنی مرحوم اولاد کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر اپنی مرحوم اولاد کی اولاد کے کفیل بن جاتے ہیں۔ ان کی یہی قام مقامی ان کی مرحوم اولاد کی اولاد کو ان کے ترکے کا مستحق بھی بناتی ہے۔
سورہ نساء کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ قانون وراثت یتیموں کے حقوق کے پس منظرمیں نازل ہوا تھا۔ اُنھیں ہی اگر وراثت سےمحروم کر دیا جائے تو یہ قانون وراثت کی روح کے خلاف ہے۔

*مرحوم کی وارث صرف بیٹیاں ہوں تو سارا ترکہ ان میں تقسیم نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کو اپنی کفالت کے لیے دوسروں کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ جس فرد سے انھیں کفالت کی منفعت حاصل ہو وہی بقیہ ترکے کا حق دار ہے۔ قدیم سے چلے آئے دستور کے مطابق یہ ذمہ داری قریب ترین مرد رشتہ دار ادا کرتے آئے ہیں۔ اسی لیے وہ بقیہ ترکے کے حق دار قرار پائے ہیں۔ تاہم، لڑکیوں کو یہ منفعت اگر کسی دوسرے فرد سے حاصل ہو، چاہے وہ مرد یا ہو عورت، تو بقیہ ترکے پر اس کا حق ہوگا۔ لڑکیاں خود کفیل ہوں تو بقیہ ترکے کی حق دار وہ خود ہوں گی، اور اگر ریاست ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے تو بقیہ ترکہ ریاست کو جانا چاہیے۔

*جہاں کہیں یہ نظام اقدار قائم ہے کہ مرد حمایت و کفالت کی دہری ذمہ داری ادا کرتے ہیں، اس وقت تک ترکے میں مرد اور عورت کے حصوں میں فرق قائم رہے گا۔ یہ نظام اقدار اگر بدل جائے اور عورتیں بھی ذمہ دارانہ طور پر یہ خدمات انجام دیں تو وراثت میں ان کا حصہ مردوں کے برابر قرار پائے گا،کیونکہ اس صورت میں ان کی منفعت مردوں کے برابر ہوگی۔ قانون وراثت کی بنیاد، قرابت نافعہ کا یہی مقتضی ہے۔
ایجاز
کلام عرب کےاسالیب کے مطابق، قرآن مجید ایجاز سے کام لیتا ہے، یعنی جو بات از خود مفہوم ہو رہی ہو اسے لفظاً بیان نہیں کرتا،تاکہ ذہین قاری پوری توجہ سےہوشیار رہ کر کلام الہی کا فہم حاصل کرے۔ قانون وراثت میں اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:

*آیت 11 میں لفظا ًمذکور ہوا کہ بیٹیاں دو سے زائد ہوں تو ترکے میں ان کا حصہ دو تہائی اور ایک ہو تو اس کا حصہ نصف ہے۔دو بیٹیوں کا حصہ مذکور نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ترتیب نزولی کے اعتبار سے حصے بیان ہوئے ہیں چنانچہ پہلے دو سے زائد بیٹیوں کا اور پھر ایک بیٹی کا حصہ بیان ہوا ہے۔ یہاں از خود مفہوم ہو جاتا ہے کہ دو کا حصہ بھی وہی ہے جو دو سے زائد کا ہے۔ دو بیٹیوں کا حصہ “لذکر مثل حظ الانثین” سے بھی معلوم تھا۔ وہ یوں کہ ایک بیٹے کے ساتھ دو بیٹیاں ہوں تو ایک نسبت دو کے لحاظ سے ہر ایک کو ترکے کا ایک تہائی ملتا ہے۔دونوں بیٹیاں ہوں تو دونوں کا حصہ مل کر دو تہائی بنتا ہے۔ البتہ یہ طے نہیں تھا کہ ورثا صرف دو بیٹیاں ہوں تو ان کو یہی حصہ ملے گا یا کل ترکہ انھیں ملے گا۔ چنانچہ جب تین بیٹیوں کا حصہ بھی یہی دو تہائی بیان ہوا تو دو بیٹیوں کا یہ حصہ از خود متحقق ہوگیا۔
اسلوبِ بیان کے لحاظ سے دیکھیے تو یہاں حسن ترتیب کا مقتضی تھا کہ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ ایسا ہوتا تو یوں مذکور ہوتا، “دو اور دو سے زائد اور ایک”۔ یہ ترتیب نزول کے خلاف ہوتا۔ صحت زبان کا تقاضا تھا کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے بات شروع کی جائے تو بعد میں اثْنَتَیْنِ‘ مذکور نہ ہو، یعنی دو سے زائد اور دو۔ اس طرح بولا نہیں جاتا۔ سورۂ نساء کی آخری آیت میں میں دیکھیے تو یہی حصے ترتیب صعودی کے مطابق بیان ہوئے ہیں تو ایک بہن کے حصہ بتانے کے بعد دو بہنوں(اِثْنَتَیْنِ) کا حصہ بتایا گیا ہے تو اس کے بعد ’فوق اثنتین‘ کا لفظ حذف کر دیا ہے:
إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ (النساء 4: 176)
“اگر کوئی شخص بے اولاد مرے اور اُس کی ایک بہن ہی ہوتو اُس کے لیے ترکے کا آدھا ہے اور اگر بہن بے اولاد مرے تو اُس کا وارث اُس کا بھائی ہے۔ اور بہنیں اگر دو ہوں تو اُس کے ترکے میں سے دو تہائی پائیں گی اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اللہ تمھارے لیے وضاحت کرتا ہے تا کہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔”
اس طرح یہ صراحت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آیت 11 میں دو بیٹیوں کا حصہ بھی وہی ہے جو دو بہنوں کا ہے، کیونکہ بہن بھائیوں اور اولاد کے حصوں یکساں ہیں۔

*پہلے بتایا گیا کہ میت کے اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کا حصہ چھٹا ہے۔ پھر بتایا گیا کہ والدین ہی تنہا وارث ہوں (ولابویه) میت کی ماں کا حصہ ایک تہائی ہے۔ اس سے ازخود مفہوم ہوگیا کہ بقیہ، یعنی دوتہائی باپ کو ملے گا۔

* پہلے بتایا گیا تھا کہ میت کی اولاد کی موجودگی میں اس کے ماں اور باپ دونوں کا حصہ چھٹا ہے۔ پھر بتایا گیا کہ اس کے اولاد نہ ہو اور بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کا حصہ چھٹا ہوگا، جس سے از خود مفہوم ہوا کہ باپ کا حصہ بھی چھٹا ہوگا۔ اس سے پھر از خود مفہوم ہوا کہ بہن بھائیوں کی وجہ سے ماں اور باپ کا وہ حصہ لوٹ آتا ہے جو اولاد کی موجودگی میں ہوتا ہے تو میت کے بہن بھائیوں کا حصہ بھی وہی ہوگا جو اولاد کا ہے۔ اس نکتے کو جب لوگ پوری طرح باور نہ کر سکے تواسی سورہ کی توضیحی آیت 176 میں کلالہ رشتہ دار میں سے بہن بھائیوں کے حصے بیان کیے گئے، جو وہی ہیں جو اولاد کے ہیں۔ اس میں سگے اور سوتیلے کا کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ واضح ہے کہ قرآن مجید میں تقسیم وراثت کا قانون اپنے نظام میں حسن تناسب اور علم و حکمت میں شاہ کار ہے۔ ایسا قانون دینا جس میں تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا ہو اور ایسی تقسیم کی گئی جو عقلی و فطری تقاضوں کو پور ا کر دیتی ہو، انسانی عقل کے لیے ایجاد کرنا ممکن نہ تھا۔
ختم شد

اپنا تبصرہ لکھیں