کیا اللہ جہنم میں بھی دعا قبول کریں گے؟-سلیم زمان خان

عالمِ آخرت میں نجات کے مختلف مراحل ہوں گے۔ مستند روایات کے مطابق کثیر تعداد میں ایسے گناہ گار ہوں گے جنہیں انبیاء کرام، صلحاء اور دیگر مومنین کی شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکالا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں ان کی کسی نہ کسی نسبت یا کسی صاحبِ تقویٰ سے کی گئی اچھائی نجات دلا دے گی۔ پھر شفاعت کا وہ عظیم مرحلہ آئے گا جو “مقامِ محمود” پر فائز نبی کریمﷺ کے ہاتھوں انجام پائے گا، جس کے ذریعے امت کے بڑے بڑے گناہ گاروں کی خلاصی ہوگی۔
تاہم، ان تمام مراحل کے بعد باری آئے گی ان بظاہر مایوس لوگوں کی جن کا مقدر جہنم بن چکا ہوگا اور جن کی شفاعت کے لیے کوئی دوسرا موجود نہ ہوگا۔ ان میں سے چند وہ نفوس ہوں گے جنہیں اللہ کی رحمت کا یقین جہنم کی آگ میں بھی ہوگا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم کی ہولناکیوں میں بھی ان کی فریاد رسی فرمائے گا۔ اس حوالے سے درج ذیل تین واقعات بطورِ مثال پیش خدمت ہیں:
•-حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک اللہ کو اس کے رقیق ناموں “یا حنان یا منان” (اے نہایت محبت کرنے والے، اے احسان کرنے والے) سے پکارتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ جبرائیلؑ کو حکم دے گا کہ “جاؤ، میرے اس بندے کو میرے پاس لے آؤ”۔ جب وہ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوگا، تو اللہ اس سے پوچھے گا: “اے میرے بندے! تو نے اپنی جگہ کو کیسا پایا؟” وہ عرض کرے گا: “اے باری تعالیٰ! وہ بدترین جگہ تھی، مگر میں نے آپ کی رحمت سے کبھی ناامیدی اختیار نہ کی”۔ اللہ اس کی پکار کی لاج رکھتے ہوئے اسے دائمی نجات عطا فرمائے گا۔ (حوالہ: مسند احمد: 13412، بیہقی فی شعب الایمان: 1/530)

•-صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، جب دو اشخاص کو ان کے اعمال کے سبب دوبارہ جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا، تو ان میں سے ایک شخص مڑ مڑ کر دیکھے گا۔ اللہ رب العزت اسے اپنے حضور طلب کرے گا اور دریافت فرمائے گا: “اے میرے بندے! تو پیچھے کیوں مڑ کر دیکھ رہا تھا؟” وہ بندہ سراپا عجز بن کر عرض کرے گا: “اے میرے رب! میرا آپ کے بارے میں یہ گمان (امید) نہیں تھا کہ آپ مجھے ایک بار نکال کر دوبارہ اس عذاب میں بھیجیں گے”۔ اللہ تعالیٰ اس کے اس حسنِ ظن (اچھی امید) کی ایسی داد رسی فرمائے گا کہ حکم ہوگا: “میرے بندے نے مجھ سے اچھی امید رکھی، لہٰذا اسے جنت کی طرف لے جاؤ”۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنہ منزلۃ: 187/188)

•-یہ قصہ اس شخص کا ہے جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا۔ وہ جہنم کے کنارے کھڑا ہو کر فریاد کرے گا کہ “اے اللہ! میرا چہرہ اس آگ سے پھیر دے”۔ اللہ اس سے وعدہ لے کر اس کا رخ پھیر دے گا۔ پھر وہ ایک درخت کی طلب کرے گا، پھر دوسرے کی، یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازے تک پہنچ جائے گا۔ وہاں کی نعمتیں دیکھ کر جب وہ داخلے کی التجا کرے گا، تو اللہ رب العزت اس کی مسلسل التجا پر تبسم فرمائے گا اور ارشاد فرمائے گا: “اے ابنِ آدم! تو کتنا وعدہ خلاف ہے، مگر جا! میں نے تجھے معاف کیا اور تجھے پوری دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ کے برابر جگہ عطا کی”۔ (حوالہ: صحیح بخاری: 7516، صحیح مسلم: 187)

یہ تمام خبریں ہمیں نبی کریمﷺ کی زبانِ مبارک سے بطورِ خوشخبری ملی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آقاﷺ نے ہمیں یہ امید دلائی ہے کہ اللہ کریم و غفور رحیم ہے جو جہنم میں بھی اپنے بندے کا اعتماد اور اعتقاد نہیں توڑے گا اور اسے مایوس نہیں کرے گا۔ جہنم نام ہے مایوس ہو جانے کا، لیکن جو لوگ اللہ کی رحمتِ کاملہ سے جہنم میں بھی مایوس نہیں ہوں گے تو اللہ جہنم میں بھی ان کی سن لے گا، حالانکہ اعمال کا دروازہ موت پر بند ہو جاتا ہے۔
اتنا کریم رب جو جہنم میں بھی داد رسی کرے گا، وہ دنیا میں اپنے بندوں کو یوں کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ بس ہم لوگ ہی اپنے رب کو بھلائے بیٹھے ہیں، ورنہ اس دنیا میں تو اس کا وعدہ ہے: “وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ” یعنی مجھ سے مانگو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ جو مجھ سے نہیں مانگے گا اسے میں متکبر سمجھوں گا۔
لہٰذا اب رمضان کا آخری عشرہ ہے، بس خدا کو رو رو کر کہیں کہ اے جہنم میں بھی فریاد سننے والے رب! ہماری دنیا میں فریاد سن لے۔ ہمیں، ہمارے ماں باپ اور اولاد کو دنیا اور آخرت کی نعمتیں اور نبی کریمﷺ کے نور نصیب فرما کر کامیاب کر دے۔ اور مسلمانوں کو ان مبارک راتوں کے واسطے ہر جہاد میں سرخروئی عطا فرما۔ آمین۔

اپنا تبصرہ لکھیں