لُک میکسنگ کا نیا طرزِ حیات اور ہم لوگ/قاسم یعقوب

سوشل اور سائیڈ میڈیا نے جہاں اور بہت کچھ کر رکھا ہے، وہیں ایک نیا طرزِحیات بھی سامنے آیا ہے۔ اسی نئی حیات سازی میں ایک رویہ لُک میکسنگ کا بھی ہے۔ لُک میکسنگ کیا ہے؟لُک کو Maximum بنانا۔ یعنی ایسا نظر آنا جو جینیاتی طور پر فطرت نے انسان کے اندر جاذبیت رکھی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ انسان ہی نہیں ہر جان دارفطری طور پر خوبصورت اور مکمل ہے۔ خواہ وہ کسی بھی طرح کا ہے۔ دوسرا یقین یہ کہ روزمرہ کی تھکن ، رکاوٹیں اور طرز زندگی انسان کو اُس کی فطری حالت سے دور لے جاتی ہے۔ اس لیے انسان کو اُس فطری جاذبیت کو عیاں کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ گویا یہ ایک ایسی تحریک ہے جو خوبصورت دکھائی دینے سے زیادہ اُس فطری پن کو عیاں کرنے میں خوشی محسوس کر رہی ہے جو کہیں غائب تھی یا جس پر توجہ نہیں دی جا رہی تھی۔
یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ یہ مردوں کی طرف سے سامنے آنے والا رجحان ہے اور دنیا بھر میں پایا جارہا ہے۔ وہ زمانہ چلا گیا جب ہم خود کو یورپ، امریکہ کے مقابلے میں قبل جدید زمانوں کا کہہ کے خاموش ہو جایا کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ ادھر کوئی موومنٹ شروع ہوئی اور ادھر پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔ہم تو کچھ زیادہ جلدی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ لُک میکسنگ نے جنوب ایشیائی مردوں کو بھی اپنی جال میں پھنسا رکھا ہے۔
ہم جنوب ایشیائی اس حوالے سے بہت ’’گندے ‘‘ثابت ہوئے ہیں۔ ہم اپنے ماحول کو تو گندا اور غیر صحت مند رکھنے پر یدِ طولیٰ رکھتے ہی تھے مگر اپنے جسم کو ، اپنے آپ کو گندا رکھنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ ذرا اپنے بازاروں، گزرگاہوں کو ایک نظر دیکھیے۔ لوگوں کے چہروں کو دیکھئے۔ ان کے لباس پر ایک نظر دوڑائیے۔ بھوک، غربت، افلاس اور گندگی کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دکھائی دے گا۔اس کا غربت سے تعلق نہیں بلکہ طرزِ حیات سے گہرا واسطہ ہے۔ حتیٰ کہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور سروسز پلیسز پر جمگھٹوں پر ایک ناقابلِ یقین گندگی کا احساس موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی بیشتر قومیں حیران کن حد تک صاف ستھری دکھائی دیتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹ ممالک اس قدر صاف قومیں ہیں کہ ہم ان کے مقابلے میں برداشت ہی نہیں کئے جا سکتے۔ میں نے افریقن اقوام کے بھی بیشتر افراد کو دیکھا ہے جو صاف ستھرائی میں ہم ساوتھ ایشئین سے ہزار گنا بہتر دکھائی دیتے ہیں۔
یاد رہے یہاں صاف ستھرائی کی بات ہو رہی ہے ، خوبصورتی یا جاذبِ کشش چہروں کی بات نہیں ہو رہی۔
اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ شاید ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نیک یااچھے انسان ہیں، تو بکھرے ہوئے بال، میلی کپڑے یا چکنا چہرا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ایک ایسا سماج جو نسلوں سے معاشی تگ و دو، مہنگائی اور بنیادی ضرورتوں کی جنگ لڑ رہا ہو، وہاں جمالیات آخری ترجیح بن جاتی ہے۔ مگر یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔
لُک میکسنگ ایک طرزِ حیات ہی نہیں، ہمارے نوجوانوں میں پایا جانے والا ایک نیا فلسفۂ حیات بھی ہے کہ اپنے جسم کو Own کرو۔ سچی بات ہے کہ ہم اپنے ماحول کو اون نہیں کرتے۔ ہم صرف اپنے آپ کو خود غرض نظریہ حیات سے دیکھتے آئے ہیں۔ ایسے میں ہم اپنے آپ کوماحول کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ لُک میکسنگ کا فلسفۂ حیات سماج میں مرد کو جاذب فطری روپ یا مسکولینٹی کے قریب دیکھنے کا فلسفہ یا تحریک ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا نوجوان جو دن رات اپنی مسکولینٹی کی فطرت کو عیاں کرنے میں مصروف ہے ۔ یا اُسے شعور آیا ہے کہ سافٹ یا ہارڈ میکسنگ سے خود کو فطری جمالیات کے قریب لانا ہے تو کیا اس طرح ہمارا ماحول جمال پسند بنے گا؟ ہمیں اپنے اردگرد کی غلاظت دکھائی دے گی؟
ہم کس قدر گندگی پسند ہیں، کیا ہم اس نئے شعور سے ایک نئے ماحول کو تعمیر کرنے کا خواہاں ہوں گے؟

اپنا تبصرہ لکھیں