یہ بات ابھی ابھی ہمارے دوست جارج گیلووے نے کہی ہے۔ ورکرز پارٹی کا سربراہ جو اپنے آپ کو “جلاوطن” بتاتا ہے۔ برطانوی سیاست کا وہ آدمی جو تیس سال سے وہ بات کہتا ہے جو کوئی نہیں کہتا اور اس کی قیمت ادا کرتا رہتا ہے۔ ایک ایسا کیریکٹر جو پورے کالم اور ایک فلم کا متقاضی ہے.
گیلووے کہتا ہے : “مجھے امید ہے نتن یاہو مرا نہیں ہے۔ میری طرف سے یہ بات سن کر حیرت ہوگی۔ مگر موت اس کے لیے بہت آسان سزا ہے۔”
یہ جملہ ٹھہر کر پڑھیں۔ اس آدمی سے اتنی نفرت ہے کہ اس کی موت بھی ناکافی لگتی ہے۔ موت فرار ہے۔ موت سے بچ نکلنا ہے۔ جو آدمی مرا وہ عدالت میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اور گیلووے چاہتا ہے کہ نتن یاہو عدالت میں کھڑا ہو۔
گیلووے نے فرد جرم لکھی ہے: فلسطینیوں کے خلاف جرائم۔ امریکی عوام کے خلاف جرائم۔ لبنانیوں کے خلاف۔ خود اسرائیلی عوام کے خلاف۔ عراقیوں کے خلاف۔ لیبیا کے خلاف۔ یمنیوں کے خلاف۔ قطریوں کے خلاف۔ سعودیوں کے خلاف۔ سب سے بھیانک قتل عام کے جرائم۔ بدعنوانی کے جرائم۔ افریقہ میں خونی ہیروں کی چوری۔ شام کے خلاف جرائم۔ اور وہ جرائم جو اس نے اپنے دہشت گرد ایجنٹوں داعش اور القاعدہ کے ذریعے دنیا بھر میں کروائے۔ بیس سال سے زیادہ اقتدار میں بے شمار جرائم۔
گیلووے نے لکھا: “قیامت کے دن اس کے انجام پر مجھے یقین ہے۔ مگر پہلے دنیاوی عدالت کا سامنا ہونا چاہیے۔”
پھر گیلووے وہ بات کرتا ہے جو پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
“مجھے یقین ہے کہ نتن یاہو مر چکا ہے۔ بن گویر بھی۔”
گیلووے نے اپنے شکوک کی بنیاد بیان کی ہے۔ نتن یاہو کی زندگی کی سب سے بڑی جنگ چل رہی ہے جس کے لیے وہ خود کہتا تھا کہ چالیس سال سے تیاری کر رہا ہوں اور وار کونسل سے دن بہ دن غیر حاضر ہے جب بڑے حکمت عملی کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ یہ بات ماننے کے قابل نہیں۔ ایک آدمی جو جنگ کا جنونی ہے وہ جنگ کے عروج پر غائب ہے؟
پھر گیلووے نے ویڈیوز کا ذکر کیا۔ کافی پیتے ہوئے جو چھلکتی نہیں۔ دائیں ہاتھ سے کپ اٹھاتا ہے حالانکہ بائیں ہاتھ سے کام کرتا ہے۔ جیب میں ہاتھ ایسے غائب ہوتا ہے جیسے جیب نے نگل لیا ہو۔ انگوٹھی ایک فریم میں ہے اگلے میں غائب ہے۔ گیلووے نے لکھا کہ یہ ڈیپ فیک ہیں جو نفسیاتی جنگ کے تحت دکھائے جا رہے ہیں تاکہ ناگزیر حقیقت چھپائی جائے۔
اور پھر ایک تاریخی حوالہ دیا جو سوچنے پر مجبور کرتا ہے: ایریل شیرون آٹھ سال کوما میں رہا اور اسرائیل نے اس کی موت کا اعلان آٹھ سال بعد کیا۔ آٹھ سال۔
اب میری بات سنیں۔
میں نے پچھلے مضمون میں نتن یاہو کی موت کی افواہوں کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ سنوپس نے تردید کی تھی۔ یروشلم پوسٹ نے تردید کی تھی۔ وزیر اعظم دفتر نے تردید کی تھی۔ بارہ مارچ کو لائیو پریس کانفرنس دکھائی گئی۔ بیت شمش کا دورہ دکھایا گیا۔ چھ انگلیوں والی ویڈیو کیمرے کے زاویے کا دھوکا بتایا گیا۔ تسنیم نیوز جو سپاہ سے وابستہ ہے اس نے غلط معلومات پھیلائیں۔
تو سرکاری طور پر نتن یاہو زندہ ہے۔
مگر گیلووے کا سوال غلط نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نتن یاہو زندہ ہے یا مردہ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں ہے۔ اور کیوں غائب ہے۔ اور وار کونسل میں کیوں نہیں ہے۔ اور بڑے فیصلوں کا اعلان وزیر دفاع کاٹز کیوں کر رہا ہے نہ کہ وزیر اعظم۔ یہ سوالات جائز ہیں۔ ان کا جواب اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔
مگر گیلووے کی اصل بات موت یا زندگی نہیں ہے۔ گیلووے کی اصل بات انصاف ہے۔
اور یہ بات سب سے اہم ہے۔
نتن یاہو زندہ ہو یا مردہ، تین فوجداری مقدمات ہیں۔ رشوت۔ دھوکا دہی۔ اعتماد کی خلاف ورزی۔ آئی سی سی نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے غزہ میں جنگی جرائم پر۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ چل رہا ہے جس میں اٹھارہ ملک اسرائیل کے خلاف کھڑے ہیں۔ سات اکتوبر کی سب سے بڑی سیکیورٹی ناکامی اسی کے دور میں ہوئی۔ غزہ میں ساٹھ ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے اکثریت خواتین اور بچے۔ لبنان پر حملہ۔ اور اب ایران پر جنگ جس نے دنیا کو توانائی کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
موت آسان ہے۔ موت حساب سے بچ نکلنا ہے۔ موت کے بعد نہ عدالت ہے نہ گواہی نہ سزا۔ مردے بری ہو جاتے ہیں کیونکہ مردوں پر مقدمہ نہیں چلتا۔
گیلووے کہتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ نتن یاہو زندہ ہو تاکہ کٹہرے میں کھڑا ہو۔ تاکہ دنیا دیکھے کہ جو بندوق چلاتا ہے اسے جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ تاکہ تاریخ میں لکھا جائے کہ اکیسویں صدی میں ایک آدمی نے پورے خطے کو آگ لگائی اور اسے سزا ملی۔
مگر گیلووے خود کہتا ہے: “مجھے لگتا ہے مایوس ہونا پڑے گا۔”
کیونکہ تاریخ میں طاقتوروں کو سزا بہت کم ملتی ہے۔ شیرون آٹھ سال کوما میں رہا اور سزا نہیں ملی۔ بش نے عراق تباہ کیا اور آج تصویریں بنا رہا ہے۔ ہنری کسنجر لاکھوں لوگوں کی موت کا ذمہ دار تھا اور سو سال کا ہو کر آرام سے مرا۔ طاقتوروں کو دنیاوی عدالت نہیں ملتی۔ ان کی عدالت تاریخ ہوتی ہے۔ اور تاریخ کا فیصلہ دیر سے آتا ہے مگر آتا ضرور ہے۔
نتن یاہو زندہ ہو تو کٹہرے میں کھڑا ہو۔ مرا ہو تو تاریخ کا کٹہرا اس سے بھی سخت ہے۔
مگر دنیا کو ثبوت چاہیے۔ واضح۔ بے لاگ۔ لائیو۔ ریئل ٹائم۔
شیرون والا کھیل دوبارہ نہیں چلنا چاہیے۔ اور اگر نتن یاہو واقعی زندہ ہے تو سامنے آئے۔ وار کونسل میں بیٹھے۔ اپنی جنگ کا سامنا کرے۔ اور پھر عدالت کا سامنا کرے۔
کیونکہ گیلووے کی بات صحیح ہے: موت آسان سزا ہے۔ اصل سزا زندہ رہ کر حساب دینا ہے۔ اور حساب ہر ایک کو دینا ہے۔ اس دنیا میں یا اس کے بعد۔


