مفاد، نظریہ اور توازن: پاکستان کی عالمی بساط/فاروق نتکانی

پاکستان ایک عجب جغرافیائی تقدیر کا حامل ملک ہے نہ پوری طرح مشرق، نہ مکمل مغرب؛ نہ صرف نظریہ، نہ محض مفاد۔ اس کی خارجی پالیسی ایک ایسے نازک پل کی مانند ہے جو مختلف تہذیبوں، طاقتوں اور ترجیحات کے بیچ معلق ہے۔ اگر اس کیفیت کو کسی استعارے میں سمیٹا جائے تو یہ وہی “موزوں توازن” ہے جسے مغربی دانش میں “گولڈی لاکس پوزیشن” کہا جاتا ہے نہ بہت قریب، نہ بہت دور؛ نہ حد سے زیادہ وابستگی، نہ مکمل بیگانگی۔ جیسے پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک مسلسل مکالمہ ہے—تاریخ کے ساتھ، جغرافیہ کے ساتھ، اور اپنی داخلی کشمکش کے ساتھ بھی۔

چین کے ساتھ اس کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ ایک عہد کی مانند ہیں، جس میں وقت کی مہر ثبت ہے۔ یہ تعلقات شاہراہوں، بندرگاہوں اور معاہدوں سے آگے بڑھ کر ایک ایسی رفاقت میں ڈھل چکے ہیں جہاں مفاد اور اعتماد ایک دوسرے کے ہم معنی ہو گئے ہیں۔ گوادر کی مٹی میں صرف سمندر کی نمی نہیں، بلکہ اس اشتراک کی خوشبو بھی ہے جو آنے والے کل کی نوید سناتی ہے۔ چین کے ساتھ یہ رشتہ پاکستان کو معاشی استحکام کا خواب بھی دیتا ہے اور عسکری توازن کا یقین بھی۔

دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تعلق ایک ایسی داستان ہے جس میں قربت بھی ہے اور احتیاط بھی۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں، پاکستان ایک بار پھر واشنگٹن کے ایوانوں میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھرا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ماضی کی بدگمانیاں وقتی طور پر پس منظر میں چلی گئیں اور مفاد کی مشترکہ زبان نے دونوں کو قریب لا کھڑا کیا۔ مگر یہ قربت ایک مستقل سکون نہیں، بلکہ ایک عارضی ہم آہنگی ہے، جسے وقت کے بدلتے موسم کبھی بھی منتشر کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک اور جہت رکھتے ہیں یہ تعلق محض سفارت کاری نہیں بلکہ عقیدت، تاریخ اور معاشی تعاون کا امتزاج ہے۔ عسکری معاہدے ہوں یا اقتصادی امداد، دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے ایک ناگزیر سہارا بنے ہوئے ہیں۔ مگر اس تعلق میں بھی ایک خاموش ذمہ داری پوشیدہ ہے، ایک ایسی توقع جو ہر آزمائش کے وقت پاکستان کو ایک مخصوص سمت میں دیکھنا چاہتی ہے۔

اور پھر ایران ہے ایک ایسا ہمسایہ جس کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگی بھی ہے اور قربت بھی۔ ایران کا پاکستان پر اعتماد، خاص طور پر مذاکرات کے تناظر میں، اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نے اپنی سفارتی بساط کو اس مہارت سے بچھایا ہے کہ متضاد قوتیں بھی اس پر بیٹھنے میں تامل محسوس نہیں کرتیں۔ یہ اعتماد کسی ایک دن کی کمائی نہیں، بلکہ برسوں کی محتاط پالیسی، خاموش سفارت کاری اور غیر اعلانیہ توازن کا نتیجہ ہے۔

یہ تمام تعلقات مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں جہاں پاکستان ایک نازک مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کردار کسی فاتح کا نہیں، بلکہ ایک مصالحت کار کا ہے؛ کسی طاقت کے مظہر کا نہیں، بلکہ ایک توازن کے امین کا ہے۔

مگر اس توازن کی قیمت بھی ہے یہ مسلسل چوکسی، داخلی استحکام اور دانشمندانہ فیصلوں کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک معمولی لغزش اس پورے توازن کو بگاڑ سکتی ہے، جیسے کسی باریک دھاگے پر چلتا ہوا شخص ذرا سی بے احتیاطی سے نیچے گر سکتا ہے۔

پاکستان ایک ایسی کشتی ہے جو متلاطم لہروں کے بیچ سفر کر رہی ہے۔ اس کے ملاح کو نہ صرف سمت کا تعین کرنا ہے بلکہ ہر آنے والی لہر کی شدت کا بھی اندازہ لگانا ہے۔ منزل محض ساحل تک پہنچنا نہیں، بلکہ اس سفر کو اس وقار کے ساتھ طے کرنا ہے جو ایک باوقار قوم کی پہچان ہوتا ہے۔

یوں پاکستان کی سفارت کاری محض تعلقات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل توازن کی جستجو ہے ایک ایسی جستجو جو اسے دنیا کی بساط پر ایک منفرد اور ناگزیر مہر بنا دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں