بقا کی جنگ اور مفادات کی جنگ کے درمیان فرق اتنا ہی واضح ہے جتنا زندگی اور موت یا ہار اور جیت کے درمیان ہوتا ہے۔ موجودہ عالمی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے اسی فرق کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں ایک طرف طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں، تو دوسری طرف کچھ ریاستیں اپنی بقا کی جنگ لڑتی نظر آتی ہیں۔ اس پس منظر میں ایران کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے، جس نے شدید دباؤ، پابندیوں اور عسکری خطرات کے باوجود مزاحمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو عالمی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس کشمکش نے ایران کو معاشی اور سائنسی لحاظ سے نقصان پہنچایا ہے اور اسے کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایران نے جس استقامت اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ طاقت کے توازن میں جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی برتری قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں، وہیں ایران کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ایک نئے عالمی بیانیے کو جنم دے رہا ہے، جسے بعض حلقے “نئے ورلڈ آرڈر” کی ابتدائی جھلک قرار دے رہے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں روس کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ روس نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے معاشی اور تزویراتی فوائد حاصل کیے ہیں، جو اس کے عالمی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ ایک پیچیدہ صورتحال میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نظر نہیں آتا۔
اگر اس تنازع کو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے تو ہر شعبہ علم اسے اپنے انداز میں بیان کرتا ہے۔ معیشت کا طالب علم اسے وسائل کے ضیاع اور تباہی کے طور پر دیکھتا ہے، مذہب کا طالب علم اسے نظریات کی جنگ قرار دیتا ہے، جبکہ سماجیات کا طالب علم اسے طاقت کے توازن اور غلبے کی کشمکش سمجھتا ہے۔ مگر تاریخ، جو بالآخر واقعات کو ایک وسیع تناظر میں پرکھتی ہے، شاید اسے مزاحمت کے نام سے یاد رکھے گی—ایک ایسی مزاحمت جو صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور شناخت کی جنگ تھی۔
یہی وہ پہلو ہے جو اس پوری کشمکش کو محض ایک علاقائی تنازع سے بڑھا کر عالمی تاریخ کے ایک اہم باب میں تبدیل کر دیتا ہے۔


