لیڈر بننے کا سفر عدل و انصاف: مضبوط معاشرے کی بنیاد(14)-مصور خان

قیادت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ عظیم رہنماؤں کی اصل پہچان ان کی طاقت یا مقبولیت نہیں بلکہ ان کا عدل و انصاف ہوتا ہے۔ طاقت کے ذریعے حکومت تو قائم کی جا سکتی ہے، مگر اعتماد اور استحکام صرف انصاف کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں انصاف مضبوط ہوتا ہے وہاں امن، ترقی اور اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں انصاف کمزور پڑ جائے وہاں طاقتور اور کمزور کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
عدل دراصل ایک ایسا اصول ہے جو معاشرے میں توازن قائم کرتا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق ملے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ ایک لیڈر کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو انصاف کے ساتھ استعمال کرے۔ کیونکہ جب کسی کے ہاتھ میں طاقت آتی ہے تو اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک ذاتی مفاد اور پسند و ناپسند کا راستہ، اور دوسرا انصاف اور اصول کا راستہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی رہنما کامیاب ہوئے جنہوں نے انصاف کو اپنی قیادت کا مرکز بنایا۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت عدل و انصاف کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں قیادت کی جہاں قبائلی تعصب، طاقت اور طبقاتی تقسیم عام تھی۔ مگر آپ ﷺ نے ایسا نظام قائم کیا جس میں قانون سب کے لیے برابر تھا۔ ایک معروف واقعہ ہیں کہ قریش کے ایک معزز خاندان کی عورت سے چوری کا جرم سرزد ہوا تو بعض لوگوں نے سفارش کرنے کی کوشش کی کہ اسے سزا سے بچا لیا جائے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا جرم کرتی تو اس پر بھی قانون لاگو ہوتا۔ اس اعلان نے یہ اصول قائم کر دیا کہ انصاف کے سامنے نہ رشتہ دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی طاقت۔
اسلامی تاریخ میں ایسے رہنماؤں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے عدل و انصاف کو اپنی قیادت کی بنیاد بنایا۔ ان میں عمر بن عبدالعزیز کا نام نمایاں ہے۔ ان کا دور حکومت مختصر تھا مگر انصاف اور دیانت داری کے حوالے سے بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ انہوں نے بیت المال کو عوام کی امانت سمجھا اور اپنے خاندان کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی۔ ان کے دور میں غربت اس قدر کم ہو گئی کہ بعض علاقوں میں زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق شخص نہیں ملتا تھا۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ قیادت نے انصاف اور دیانت کو اپنا اصول بنا لیا تھا۔
برصغیر کی تاریخ میں شیر شاہ سوری کو بھی انصاف پسند حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت میں ایسا نظام قائم کیا جس میں عوام کو تحفظ اور انصاف حاصل تھا۔ سڑکوں کی تعمیر، ڈاک کے نظام اور تجارت کے محفوظ راستوں کا قیام دراصل اسی انصاف پسند حکمرانی کا نتیجہ تھا۔ روایت ہے کہ ان کے دور میں ایک عورت سونے کے زیورات کے ساتھ بھی لمبا سفر کر سکتی تھی اور اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا تھا۔ یہ صرف انتظامی صلاحیت نہیں بلکہ انصاف پر مبنی نظام کی علامت تھا۔
اسی طرح تاریخ میں ایک مسلمان فاتح صلاح الدین ایوبی کی قیادت بھی عدل و انصاف کی ایک عظیم مثال ہے۔ جب انہوں نے بیت المقدس فتح کیا تو ان کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ دشمنوں سے انتقام لیتے، کیونکہ ماضی میں صلیبی افواج نے مسلمانوں کے ساتھ سخت ظلم کیا تھا۔ مگر انہوں نے انتقام کے بجائے انصاف اور رحم کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے شہریوں کو امان دی اور ان کے ساتھ انسانی سلوک کیا۔ اس فیصلے نے انہیں تاریخ میں ایک باوقار اور عادل رہنما کے طور پر ممتاز کر دیا۔
اگر ہم دیگر لیڈروں کی مثالیں دیکھیں تو تاریخ میں ایسے حکمران بھی ملتے ہیں جنہوں نے انصاف کو اپنی قیادت کا بنیادی اصول بنایا۔ رومی سلطنت کے حکمران مارکس اوریلیئس (Marcus Aurelius) کو اکثر “فلسفی بادشاہ” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت میں اخلاق، قانون اور انصاف کو اہمیت دی۔ ان کا خیال تھا کہ ایک حکمران کا اصل فرض اپنی طاقت کو عوام کی بھلائی اور انصاف کے قیام کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ان کی سوچ اس بات کی مثال ہے کہ قیادت کا اصل مقصد اقتدار نہیں بلکہ انصاف کا قیام ہونا چاہیے۔
اسی طرح قدیم ہندوستان کے بادشاہ اشوکا (Ashoka) کی مثال بھی قابل ذکر ہے۔ ابتدا میں وہ ایک طاقتور جنگجو حکمران تھے، مگر جنگ کے تباہ کن نتائج دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنی حکمرانی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے جنگ کے بجائے امن، انصاف اور انسانی فلاح کو اپنی حکومت کا مقصد بنا لیا۔ ان کے احکامات اور اصلاحات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک حکمران کی اصل کامیابی عوام کی بھلائی اور انصاف کے قیام میں ہوتی ہے۔
ان تمام مثالوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عظیم قیادت ہمیشہ انصاف کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ چاہے وہ حضرت محمد ﷺ کی فلاحی ریاست ہو، عمر بن عبدالعزیز کی دیانت دار حکمرانی ہو، شیر شاہ سوری کا مضبوط انتظامی نظام ہو، صلاح الدین ایوبی کی فراخ دلی ہو یا مارکس اوریلیئس اور اشوکا کی اخلاقی قیادت — ہر جگہ انصاف ہی وہ قوت ہے جس نے قیادت کو عظمت عطا کی۔
آج کے دور میں قیادت کے بحران کی ایک بڑی وجہ انصاف کی کمی بھی ہے۔ جب فیصلے ذاتی مفاد، سیاسی فائدے یا طاقت کے زور پر کیے جائیں تو معاشرے میں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ عوام اس وقت تک قیادت پر اعتماد نہیں کرتے جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ اسی لیے ایک حقیقی لیڈر کا فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں انصاف کو بنیادی اصول بنائے۔
میری ناقص رائے کے مطابق عدل و انصاف صرف ایک اخلاقی صفت نہیں بلکہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب قیادت انصاف پر قائم ہو تو قومیں اختلاف کے باوجود متحد رہتی ہیں، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف زندہ ہو وہاں ترقی کی راہیں خود بخود ہموار ہو جاتی ہیں۔
درحقیقت ایک سچے لیڈر کی پہچان اس کی تقریروں یا نعروں سے نہیں بلکہ اس انصاف سے ہوتی ہے جو وہ اپنے فیصلوں میں قائم رکھتا ہے۔ جب قیادت انصاف کو اپنا شعار بنا لے تو نہ صرف حال بہتر ہوتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو ایک معمولی قیادت کو عظیم قیادت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں