ایاز مورس کی شائع شدہ کتاب “زندہ لوگ” نے قارئین کے حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ کتاب ایاز مورس کی پہلی تصنیف ہے، جو ایک نوجوان لکھاری، ٹرینر اور ماسٹر ٹی وی کے سی ای او کے طور پر پہچان رکھتے ہیں۔ تقریباً 200 صفحات پر مشتمل یہ کتاب (ہارڈ بائنڈنگ، رنگین تصاویر کے ساتھ) رواں پبلشرز کراچی سے شائع ہوئی اور اس میں 32 سچی اور متاثر کن کہانیاں شامل ہیں۔ جو انسانیت کی مثال، زندہ تاریخ، ادب کا محور اور کردار کی حقیقت ہیں۔
یہ کتاب افسانوی یا خیالی شخصیات کی بجائے حقیقی زندگی کے زندہ افراد پر مرکوز ہے۔جو موصوف کی قلم اور زندہ کرداروں کے مابین حقیقی رشتہ کی مضبوط کڑی ہے۔ مصنف نے معاشرے کے ان گمنام یا کم معروف ہیروز کو منتخب کیا ہے جو خدمتِ انسانیت، استقامت، محنت اور دوسروں کی بہتری کے لیے اپنی زندگی وقف کر چکے ہیں یہی ادب برائے زندگی کا ثبوت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روزمرہ کی جدوجہد میں بھی خاموشی سے دوسروں کی مدد کرتے رہتے ہیں، اور جن کی کہانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی ہیرو وہ نہیں جو فلموں میں دکھائے جاتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو ہمارے آس پاس زندہ ہیں ،جن کے کردار ہمیشہ تازہ، مہکتے گلاب اور تازہ ہوا کا جھونکا معلوم ہوتے ہیں۔
کتاب میں شامل شخصیات میں سے کچھ نمایاں مثالیں (ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو،احفاظ الرحمن، انیل دتا، موہنی حمید، ڈاکٹر جیمز شیرا، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، محمد نفیس ذکریا، فلپ ایس لال، جسٹس اے۔آر کارنیلیس، ڈاکٹر ڈینس آئزک، پروفیسر گلزار وفا چوھدری، چاچا ایف۔اے چوھدری، کیپٹن سیسل چوھدری، ڈاکٹر خالد سہیل، بابانجمی، ڈاکٹر جاوید اقبال، اعظم معراج، انتھنی نوید، سسٹر زیف، پروفیسر سلامت، اقبال مسیح، ڈاکٹر میرا فیلبوس، کامران ذیشان رضوی، پروفیسر ولسن ولیم، پروفیسر عمانوایل ممتاز، انجم ہیر لڈگل، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد، ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، کارڈینل جوزف کوٹس، پوپ فرانسس اور اعجاز ہدایت) ہیں۔ سماجی خدمت گزار افراد جو اپنے گاؤں، محلے یا شہر میں تعلیم، صحت یا معاشی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اس دھرتی سے تعلق رکھنے والی خواتین جو معاشرتی دباؤ کے باوجود خاندان اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہیں ان کو بھی قدر کی نگاہ سے ادب کا حصہ بنایا۔
عام لوگ جنھوں نے ذاتی مشکلات کے باوجود دوسروں کی فلاح کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، جیسے کہ بچپن کی یادوں میں موجود فرشتہ صفت شخصیات جو مدد کے لیے آگے آتے رہے۔
گاؤں کی شخصیات (جیسے چک نمبر 270 لیہ سے متعلق)، جن کی کہانیاں مصنف نے اپنے آبائی علاقوں سے جوڑ کر بیان کی ہیں۔
یہ کتاب محض سوانحی نہیں، بلکہ ایک متاثر کن اور حوصلہ افزا دستاویز ہے جو قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو زندہ لوگ کی زندہ مثال ہیں۔ ایاز مورس نے ان کہانیوں کو رنگین تصاویر اور سادہ مگر گہرے اسلوب میں پیش کیا ہے، جو قاری کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔
یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کی تلخیوں میں بھی امید باقی رہتی ہے، اور حقیقی تبدیلی انھی زندہ لوگوں کے ہاتھوں ممکن ہے جو خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ اگر آپ کوئی ایسی کتاب تلاش کر رہے ہیں جو آپ کو مایوسی کے بجائے حوصلہ دے، تو “زندہ لوگ” ضرور پڑھیں۔ یہ نہ صرف ایک کتاب ہے، بلکہ ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے حقیقی ہیروز کا ایک زندہ آئینہ ہے۔ جو مقصد حیات اور مقصد انسانیت بتا رہی ہیں کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے جو رنگ اور خطے کی تفریق کیے بغیر چراغ جلا کر دوسروں کو راہ زندگی دیکھا رہے ہیں۔ الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا:
یہ پہلا سبق تھا کتاب ہُدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خُدا ہے
وہی دوست ہے خالق دوسرا کا
خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا
یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
ایاز مورس نے اپنی پہلی کتاب سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نئی نسل کے لکھاری اب صرف مسائل بیان نہیں کر رہے، بلکہ حل اور امید کی کہانیاں بھی سنا رہے ہیں۔


