زمین دیکھ، فلک دیکھ،فضا دیکھ/محمد کوکب جمیل ہاشمی 

آج کل ہم اپنی ایک آنکھ کو سیاہ چشمے کے عقب میں چھپاۓ خود کو گھر میں نظر بند کئے بیٹھے ہیں۔۔

کبھی ہماری خطا معاف ہو اور ہم گھر سے باہر نکلیں، تو چاھے تیزدھوپ سے پورا بدن پسینے سے شرابور ہو رہا ہو، مگر لگتا ایسا ہے جیسے ہر سو مطلع ابرالود ہے، جو جلد برسنے کو تیار ہے۔ یقینآ یہ سارا کمال کالے چشمے کا ہے۔ ہم نے سیاہ چشمہ شوقیہ طور پر نہیں پہنا تھا، نہ ہی فیشن کی دنیا میں قدم رکھنے کے لئے ہمارے دل میں ذوق کے چشمے پھوٹے تھے۔ ہماری عمر بھی اب ایسی نہیں رہی کہ جدت کی طرف راغب ہوں۔ عمر رسیدگی نے ہمیں بزرگی دی یا نہیں، البتہ ہمارا شمار بزرگ شہریوں کی صف میں ضرور ہونے لگا ہے۔ بڑھاپا آتے ہی بہت سے عوارض کو، جنم لینے میں پوری آزادی مل جاتی ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑھتی عمر کا سارا نزلہ ذیادہ تر آنکھوں پہ ہی گرتا ہے۔۔ کبھی ضعف بصر لاحق ہوتا ہے اور کبھی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے۔

کہتے ہیں کہ بڑھاپا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ساری رات تارے گن گن کر گزرتی ہے، مگر آنکھ پھر بھی نہیں لگتی۔ خیر سے ضعیفی کی ایک اچھی خصوصیت بھی ہے، اور وہ یہ کہ بوڑھے لوگ چاہے کتنا ہی خوبصورت لباس زیب تن کئے ہوۓ ہوں، ان کے جھریوں زدہ چہرے کی وجہ سے انہیں نظر بد نہیں لگتی۔ چاہے کوئی انہیں چاھت سے دیکھے یا کن انکھیوں سے۔ کسی کو ما شاء اللہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

آنکھوں کا ذکر چلا ہے تو ہم بتاۓ دیتے ہیں کہ آج کل ہم سب کو ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری داہنی آنکھ کے گملے میں پرورش پاتے موتیئے کے پودے کو آنکھوں کے مالی نے سرجری کے کھر پے سے اکھاڑ باہر کر دیا ہے۔

ہم دائیں جانب دیکھیں تو ڈھکی ہوئی آنکھ سے کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔۔۔۔ بائیں طرف دیکھیں تو سارا زور بائیں آنکھ پر ہوتا ہے۔ اب کوئی حسین و جمیل مقابل ہو یا کوئی نکٹا چپٹا، سب کو ایک آنکھ سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں، ایک آنکھ سے صحیح دکھائی نہیں دیتا اور دوسری آنکھ سے تکتے تکتے اس پر ایسا تکیہ کرنا پڑتا ہے کہ کبھی کسی حسین و مہ جبیں پر نگاہ پڑ جاۓ تو یہ ظالم ہٹ کے نہیں دیتی۔ البتہ اس دائیں بائیں کے نتیجے میں ہمیں آئیں بائیں شائیں کرنے کا بھر پور موقع مل جاتا ہے۔

یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ایک صبح ہم نے گھر کی کیاری میں موتئے کی شاخ پر موتئے کے چند سفید پھول کھلے دیکھے، جن سے بھینی بھینی خوشبو پوری کیاری کو مہکا رہی تھی۔ شام ہوئی تو آنکھوں کی تکلیف شروع ہو گئی۔ ہم اس شکائت کو لے کر آنکھوں کے ایک ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔ ہم نظریں جھکا کر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ اکثر مریضان چشم ایک دوسرے کے ساتھ نظر کی کمزوری کا ذکر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہماری آنکھوں کے معائنےکا نمبر آیا۔ ہم عادتاً کبھی کسی کی شکائت نہیں کرتے، مگر خلاف طبع ہم نے ڈاکٹر سے اپنی بینائی میں کمی اور آنکھ میں تکلیف کی کی مجبوراً شکائت کر دی۔ ڈاکٹر نے آنکھوں کا چیک اپ کیا ہم نے از راہ تفنن کہا کہ کچھ دنوں سے ہماری بلی ہمیں میاؤں کی مصداق، ہماری آنکھ ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم نے زندگی میں پہلی بار کسی ڈاکٹر کو اپنی بات پہ یوں ہنستے دیکھا تھا سو، ہم اس تصور پہ نہال ہو گئے کہ ہم میں بھی معین اختر یا عمر شریف بننے کی پوری صلاحیت کے مالک ہو سکتے ہیں۔ بعد میں ہم نے نہائت سنجیدگی کے ساتھ بینائی میں کمزوری کی بات کی۔ آنکھوں کا دھندلا پن، سردیوں کے دنوں میں لاہور میں پھیلی اسموگ کی طرح بڑھتا جا رہا تھا۔ ہمیں یوں لگتا تھا جیسے لکھنے پڑھنےکی ہر چیز پر ہلکے ہلکے بادل ہلکورے لے رہے ہوں۔ دیدے پھاڑ کر کچھ پڑھنے کی کوشش ہوتی تو آنکھوں کا پانی آنسؤ بن کر بہنے لگتا تھا۔ ڈاکٹر نے معائنے کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے ہماری تھوڑی اور ماتھے کو معائنے کی مشین پر ٹکانے کو کہا اور ہدائت کی کہ ہم آنکھوں کو پلک جھپکے بغیر پوری طرح کھول کر رکھیں۔ ہم اس ہدائت پر عمل کرنے میں پوری طرح ناکام رہے۔ مگر جب ہم اس امتحان میں پورے اترے تو لگا کہ جیسے ہماری آنکھ کا تفصیلی معائنہ پلک جھپکنے میں پورا ہو گیا۔ دوران معائنہ ڈاکٹر بار بار تاکید کرتے رہے کہ ہم پوری طرح آنکھیں کھولے رکھیں۔ یہ ایک مشکل کام تھا۔ لیکن آنکھیں کھلی رکھنے میں ہمیں خاص دقت نہیں ہوئی کیونکہ کلینک میں آنے والے خواتین و حضرات کی خوش لباسی کو دیکھ کر پہلے سے ہی ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ البتہ پلکیں نہ جھپکنے کی ہدائت پر عملدرآمد مشکل لگا کیونکہ وہاں مبہوت ہو کر خیرہ دیدوں سے دیکھنے کا کوئی منظر نہ تھا۔ خیر سے معائنہ ختم ہوا مگر کھلی آنکھوں اور مبہوت نگاہی کا سحر اتنی دیر تک قائم رہا کہ ہم دیر تک آس پاس بیٹھے لوگوں کو گھور گھور کر بلکہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہے۔ ویسے ہمیں بعد میں اپنی اس دیدہ دلیری پر ندامت ضرور ہوئی۔۔

قصہ مختصر آنکھوں کا معائنہ مکمل ہوا۔ بتایا گیا کہ ہماری دونوں آنکھوں کے قرنیوں میں موتئے اتر آئے ہیں، جن کی وجہ سے والدین کے اس نور چشمی کو نیم کور چشمی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے دونوں آنکھوں کی علیحدہ علیحدہ سرجری کی تجویز دی۔ ڈاکٹر نے پہلے داہنی آنکھ کی سرجری کروانے کا کہا اور ہم سرجری کا خوف جو آنکھوں سے ہویدا تھا آنکھوں میں لئے گھر لوٹ آئے۔

مرتے کیا نہ کرتے آخر کار داہنی آنکھ کی سرجری ہو گئی، احتیاطوں کا ہدائت نامہ دواؤں کے نسخے کے ساتھ ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ جس کے مطابق نماز میں جھک کر رکوع و سجود کرنے پر ایک ہفتے کے لئے پابندی لگا دی گئی۔ آنکھوں کو پانی سے دھونے سے منع کر دیا گیا، اور دائیں جانب کروٹ سے سونے سے گریز کا مشورہ دیا گیا۔ آنکھ میں قطرے ڈالنے کا ٹائم ٹیبل کچھ ایسا تھا کہ بار بار قطروں کی تبدیلی سے ہماری آنکھ قطرہ قطرہ دریا ہوتی جا رہی تھی۔

ہماری آنکھ کی سرجری بلا شبہ ایک ماہر امراض چشم نے کی تھی۔ وہ نامور بھی تھے اور ماہر و تجربے کار بھی۔ مگر خلاف توقع آنکھ کو جلد آرام نہیں آیا۔ آنکھوں میں شائد خشکی تھی یا شائد شفا کی سست روی، آرام آنے کی راہ تکتے تکتے آنکھیں خشک ہو گئیں۔ ایک کے بعد ایک آنکھوں کے قطروں سے چشم بے آب کو اب بھی سیراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاری ہے مگر پریشانی اور فکر کا ایک سیلاب بلا ہے جو دل میں موجزن ہے۔ معلوم نہیں قطروں سے آرام نہ آیا تو کہیں مزید علاج کے لئے قطر نہ جانا پڑ جاۓ، جہاں موجود ہمارے بر خوردار ہمیں اپنے پاس بلانے کی بار بار دعوت دیتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شفا اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے چاہے جلد ملے یا بدیر۔ تدبیر ہو رہی ہے شفا بھی ملے گی۔ چاہے ‘الشفاء’ سے ملے یا ‘امانت آئی’ سے۔ انسان بڑا بے صبرا اور نا شکرا ہے۔ ہم نےسنا تھا کہ کچھ لوگوں کو موتئے کے اخراج اور سرجری کے بعد ایک ہفتے میں آرام آ جاتا ہے۔ کسی کو دو تین ہفتوں میں اور کسی کو آٹھ ہفتے یا اس سے زائد بھی لگ جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ منحصر ہے مریض کی کیفیت، مرض کی نوعیت اور ادویات کی تاثیر پر۔ اس کے لئے برداشت کا مادہ بہت ضروری ہے۔ ابھی تو ایک آنکھ کی سرجری ہوئی ہے، دوسری کی باقی ہے۔ گویا ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ ان شاء اللہ دونوں آنکھوں کی سرجری ہونے کے بعد لینز کام کرنے لگیں گے تو آنکھیں بھی روشن ہو جائیں گیں اور معالج آنکھ کی پٹی کھول کر کہہ اٹھیں گے کہ لو اب

ع

زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ۔۔۔۔ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ۔

اپنا تبصرہ لکھیں