سندھ کی لٹی پٹی اُمِّ رباب/عارف خٹک

انصاف کا قتل تو برسوں سے ہوتا آیا ہے؛ یہ یہاں پہلی بار نہیں ہو رہا۔ بدقسمتی سے سندھ میں تو گویا ہر گھنٹے انصاف کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں کم از کم سیاسی طور پر کوئی جماعت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ عدلیہ پر اس حد تک اثرانداز ہو سکے، مگر سندھ کا تو نقشہ ہی بگڑا ہوا ہے۔ یہاں کی سیاسی جماعتیں عدلیہ، پولیس بلکہ پورے نظام کو ایک جونک کی طرح جکڑ چکی ہیں۔ ایک وزیر اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ اس کے ایک اشارے پر قانون کے رکھوالے بستیوں کی بستیاں اُجاڑ دیتے ہیں۔

گزشتہ سال مورو، سندھ میں نہتے پندرہ بیس مظاہرین پر پولیس نے گولیاں برسائیں، اور اسی دوران مورو کے مرکزی بائی پاس پر وزیرِ داخلہ کے گھر پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ کل دو مظاہرین مارے گئے، اور مظاہرین کے گاؤں کے گاؤں پر سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے دھاوا بول دیا۔ یہاں تک کہ ان دیہات میں رہنے والی ہزاروں خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی۔ سینکڑوں ایف آئی آر درج کی گئیں۔ لغاری برادری کو مہینوں محصور رکھا گیا، حتیٰ کہ ان کے جاں بحق نوجوانوں کے جنازے بھی پولیس نے زبردستی پڑھوا کر دفن کر دیے۔
لغاری برادری نے اس ظلم کے خلاف مورو کی عدالت میں درخواست دائر کی، مگر دو ماہ تک جج پیش ہی نہ ہوا۔ جس دن جج پیش ہوا اس دن پوری عدالت کو پولیس نے گھیرے میں لے کر بند رکھا، تاکہ کوئی سائل مقتدرہ کے خلاف شکایت درج نہ کرا سکے۔ آج بھی لغاری برادری کو مجبور کیا جاتا ہے کہ صلح کر کے الزام جتوئی خاندان پر ڈال دیں۔
اُمِّ رباب بھی مورو سے متصل ضلع دادو کی رہائشی ہیں۔ ان کے بھی تین عزیزوں کو سرِعام قتل کیا گیا۔ قاتلوں کا تعلق اسی طاقتور سیاسی جماعت سے تھا، سو جو ہونا تھا وہی ہوا۔ آج وہی لوگ فائرنگ کرتے ہوئے اپنی “فتح” کا اعلان کر گئے۔۔۔۔۔اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

سانگھڑ میں جونیجو برادری کا قتلِ عام بھی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں۔ بیچاری خواتین چار دن تک لاشیں چارپائیوں پر رکھ کر ریاست سے انصاف کی بھیک مانگتی رہیں، مگر وہاں کی ایک بااثر خاتون وزیر کے خوف سے کوئی میڈیا اس سانحے کو رپورٹ نہ کر سکا۔
قاضی احمد کی حدود میں زمین کے ایک ٹکڑے کے تنازعے پر آٹھ افراد قتل کر دیے گئے۔ اعلیٰ عدالت نے گناہنگاروں کو اشتہاری قرار دے کر ان کی گرفتاری کا اعلان کر دیا، مگر قاتل آج بھی پولیس کی گاڑیوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں جو میرے جیسے غیر سندھی کو معلوم ہیں۔ معلوم نہیں کہ اندرونِ سندھ میں کتنے بے گناہ انسانوں کا خون ان سیاستدانوں اور وڈیروں کے ہاتھوں بہہ چکا ہے۔ یہ حقیقتیں سامنے لانا وہاں کے صحافیوں کا کام ہے، مگر وہ بھی کیا کریں؟ جب گھوٹکی میں نصراللہ گڈانی جیسے نوجوان صحافی کو محض اس لیے گولیوں سے بھون دیا جائے کہ اس نے وڈیرے کے مظالم بے نقاب کیے تھے، آج بھی وہی وڈیرا مونچھوں کو تاو دیکر اپنی گاڑی پر سیاسی جھنڈا لگا کر ازاد گھوم رہا ہے، تو پھر کون آواز اٹھائے؟
جب کسی صحافی کو محض وزیرِ داخلہ کے خلاف خبر شائع کرنے پر پیکا کے کالے قوانین کے تحت گرفتار کر لیا جائے، تو ایسے ماحول میں کون بولنے کی جرأت کرے؟ یہاں تو بددعا دینا بھی جرم بنتا جا رہا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ظلم کرنیوالا، ظلم سہنے والا اور ظلم پر خاموش رہنے والا تینوں مجرم ہیں۔ سو ایک مجرم دوسرے مجرم کے خلاف کیا بول سکتا ہے سو ہم بھی چپ کرجاتے ہیں کیونکہ ہم سب کو تھوڑی ماریں گے اگلے الیکشن پر “زندہ باد و مردہ باد” کیلئے بھی تو ان سیاسی قائدین کو انسان چاہیئے ہوں گے پاکستان ہے وہ انسان ہم ہوں اور جو مر گئے وہ اس قابل ہی ہوں گے۔
آئیں اسب مل کر یک نعرہ لگاتے ہیں۔
” جئے پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔”

اپنا تبصرہ لکھیں