امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں نہایت توہین آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان نے سوچا نہیں تھا کہ وہ میرے پٹھوں کو چومنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے واقعی نہیں سوچا تھا، اور اب انہیں میرے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ہو گا۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی سطح پر انتہائی نامناسب تھا بلکہ امت مسلمہ کی توہین تھا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل سے قریبی اور دوستانہ تعلقات کے باوجود سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مسلمانوں کے ایک گروہ کے نزدیک خادم الحرمین الشریفین ہونے کے ساتھ امت مسلمہ کا ایک ہم فرد ہے۔
دیکھا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کے بادشاہ کے حوالے سے پہلا غیر شائستہ بیان نہیں۔ اپنے پہلے دورِ حکومت کے ابتدائی دنوں میں بھی ٹرمپ نے سعودی قیادت سے بالکل اسی طرح کی زبان استعمال کی تھی۔ انہوں نے محمد بن سلمان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے تمہاری حکومت بچائی ہے، اس کی تمہیں قیمت چکانی پڑے گی۔اور ویسا ہی ہوا۔ سعودی عرب نے امریکہ کے لیے خزانوں کے دروازے کھول دیے۔ دو ہزار اٹھارہ میں ٹرمپ کے دورِ صدارت میں سعودی عرب نے فوری طور پر ایک سو دس ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کیے، جن کے ساتھ دس سال میں مزید تین سو پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ دفاعی، توانائی، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی مزید ڈیلز ہوئیں۔
یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ عرب بادشاہوں کی بقاء امریکہ کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیں۔ ماضی میں یہی رویہ امریکہ نے ایران کے سابق شاہ رضا پہلوی کے ساتھ بھی اپنایا تھا۔ امریکہ اور برطانیہ نے 1953 میں ایران کی منتخب جمہوری حکومت محمد مصدق کی قیادت میں کو تختہ الٹ کر رضا شاہ پہلوی کو تخت پر بٹھایا۔ شاہ نے اپنی حکومت کی سلامتی کے لیے امریکہ اور مغرب پر انحصار کیا، لیکن ایرانی عوام نے امام خمینیؒ کی قیادت میں بغاوت کر کے ان کا تختہ الٹ دیا۔ نتیجے میں امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگا دیں اور ایران کے تمام اثاثے منجمد کر دیے۔ ان اثاثوں کی مالیت تقریباً سو سے ایک سو بیس ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اور آج ایران کا مطالبہ ہے کہ ان منجمد اثاثوں کو واپس کیا جائے۔اس کے باوجود ایران نے کبھی امریکہ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ چالیس سال سے زائد پابندیوں کے دور میں بھی ایران نے نہ صرف اپنی خودمختاری برقرار رکھی بلکہ میزائل ٹیکنالوجی، سائنس اور جنگی صلاحیتوں میں ایسی ترقی کی کہ آج دنیا اسے بیسویں صدی کی تاریخ کا اہم باب قرار دے رہی ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے سامنے بھی وہ جرأت دکھائی جو غزہ میں اسرائیل نے دکھائی تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر قیادت مضبوط ہو اور عوام کا بھرپور تعاون ہو تو کوئی بھی ملک وقار کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔
بدقسمتی سے خلیجی ممالک کے بادشاہوں کو امریکہ نے یہ ڈرایا ہوا ہے کہ اگر امریکہ نے حمایت نہ کی تو ایران ان سب کے تختے الٹ دے گا۔ اسی خوف کے سائے میں امریکہ نے خلیج میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجیوں، بیس کے قریب جنگی اڈوں اور بحری بیڑوں کے ذریعے اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور ان ممالک کو ایک طرح سے اپنا کالونی بنا لیا۔ انہی اڈوں سے امریکہ نے ایران کے خلاف جارحیت کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
پاکستان میں بعض مذہبی انتہا پسند جماعتوں نے اس ردعمل کو سعودی عرب پر براہ راست حملہ قرار دے کر پروپیگنڈا کیا۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے کی وجہ سے یہ تاثر مزید شدت سے پھیلا۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت کے بعد پاکستان میں شدید مظاہرے ہوئے۔ کراچی میں امریکی قونصل خانے پر عوام نے دھاوا بولا اور گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے کیمپ آفس سمیت سرکاری املاک کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں دو درجن کے قریب لوگ شہید ہو گئے۔ فوج کے سربراہ سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شیعہ علماء کے ساتھ خصوصی نشست کی، جس کے مندرجات پر شیعہ علما نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور معافی کا مطالبہ کیا۔ یقیناً حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت مسلمہ پر فرض ہے۔ ایران نے بھی واضح طور پر کہا کہ ہمارا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ ان میں موجود امریکی اڈے ہیں جو خود ان ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
اب ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے بارے میں جو نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ آل سعود نے حرمین شریفین کو اپنی اقتدار کی ڈھال بنا رکھا ہے، لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان انہیں خادم الحرمین الشریفین مانتے ہیں۔ امریکی صدر نے خادم الحرمین الشریفین کی شان میں بدترین گستاخی کی، مگر افسوس کہ مسلمانوں کی اکثریت اس بیان کو اہمیت نہیں دے رہی۔ ان کا اصل ہدف ایران لگتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکی صدر کے اس توہین آمیز بیان کے بعد مسلمان سراپا احتجاج ہوتے، ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کرتے، خلیج تعاون کونسل اپنا لائحہ عمل طے کرتی، امریکی صدر کے خلاف مشترکہ بیان جاری کرتی اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی سفارت خانوں سے جواب طلب کرتی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کے قریب طائف ایئرپورٹ کو امریکہ کے حوالے کرنے کی تیاری کر لی ہے تاکہ ایران پر حملے کے لیے اسے استعمال کیا جا سکے۔ اگر خدانخواستہ کوئی ایرانی میزائل مکہ کی حدود میں گر گیا تو دنیا میں واویلا مچا دیا جائے گا کہ دیکھو، ایران نے حرمین شریفین پر حملہ کر دیا۔ یہ منافقانہ طرزِ عمل خلیجی ممالک کے مستقبل کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔آل سعود سمیت تمام خلیجی بادشاہوں کا وہی انجام ہو سکتا ہے جو ایران کے شاہ رضا پہلوی کا ہوا۔ کیونکہ تمام توہین آمیز رویوں کے باوجود خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب نے امریکہ میں اب تک تقریباً ایک ٹریلین ڈالر (ہزار ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے۔ یہ رقم اگر غریب اسلامی ممالک میں لگ جاتی تو معاشی انقلاب آ سکتا تھا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ عرب بادشاہوں کے نزدیک اسلام اور حرمین شریفین سے پہلے خاندانی حکومت کی بقاء اور ضمانت اہم ہے جس سے امریکہ اور اسرائیل بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لہذا وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ سوچیں کہ حرمین الشریفین شریفین کی حقیقی خدمت کون کر رہا ہے اور کون ان مقدس مقامات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اللہ تمام امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کرکے اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ایک ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


