امریکہ کا قیدی-ایک سوال، ایک سیاسی مقدمہ/نصیر اللہ خان ایڈووکیٹ

کیا آپ اس مؤقف سے متفق ہیں کہ عمران احمد خان نیازی دراصل ایک وسیع تر عالمی سیاسی کشمکش کے تناظر میں قید ہیں؟ یاد رہے کہ جب بھی کوئی ریاست یا قیادت عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کی پالیسیوں سے انحراف کرتی ہے تو اس پر دباؤ، پابندیاں یا سیاسی تبدیلی کے عمل شروع ہو جاتے ہیں۔ ذرا غور کریں تو سال 2001 کے بعد کے عالمی واقعات کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے، جہاں افغانستان پر حملہ، عراق میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ، لیبیا میں معمر قذافی کا انجام، وینزویلا کے صدر کی امریکہ اغوائیگی اور ان پر امریکہ میں مقدمات، یمن، لیبیا، شام، دیگر خلیجی ریاستیں اور حالیہ اسرائیل، امریکہ اور ایران جنگ کے طویل عدم استحکام میں کون سے عوامل کارفرما رہے ہیں؟ دراصل اس زاویے کے مطابق یہ تمام واقعات وسائل، جغرافیائی اثر و رسوخ اور عالمی طاقت کے توازن سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسی تناظر کو پاکستان کی سیاست سے جوڑتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی خارجہ پالیسی نسبتاً خودمختار تھی۔ افغانستان کے حوالے سے مذاکرات، طالبان سے بات چیت کی حمایت، ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش، اور روس سے تیل لینے کے لیے دورہ، دراصل خودمختاری کی علامت رہے۔ ان سب کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو پاکستان و امریکہ کی روایتی اسٹریٹیجک سمت سے مختلف تھا۔ درحقیقت عمران خان نے طاقتور حلقوں کو آئینی حدود میں رہنے کا مطالبہ کیا، مڈل کلاس کی سیاسی شرکت کو فروغ دیا، مک مکا کی سیاست کا قلع قمع کرنے کے لیے عوامی آگاہی اور ریاستی پالیسی سازی میں خودمختاری پر زور دیا۔

عمران خان کی قید کا مرکزی نکتہ “سائفر” کا معاملہ بنتا ہے۔ اس نسبت جب عمران خان نے عوام کے سامنے یہ بات رکھی کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے میری حکومت کی تبدیلی کی کوشش ہوئی۔ اس کے بعد سیاسی کشمکش، عدم اعتماد، حکومت کی تبدیلی، مینڈیٹ چوری، اور پھر سیاسی مقدمات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مقدمات کو بعض حلقے “کیس کلسٹرز” قرار دیتے ہیں، جن میں توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ، سائفر اور دیگر کیسز بھی ہیں۔ تاہم ان مقدمات کا سرشت 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن سے جا ملتا ہے، اور جن مقدمات کی مجموعی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔ اس کو “قانونی تھکاوٹ” یا procedural attrition کی حکمت عملی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جہاں ملزم کو مسلسل عدالتی کارروائیوں میں الجھایا جاتا ہے۔ مرزا غالب نے اس شعر میں خوب منظر کشی کی ہے:

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کہ ملے داد
یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

اسی بیانیے میں 9 مئی کے واقعات کے بعد کی صورتحال کو بھی شامل کیا جاتا ہے، جہاں شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل، آرمی ایکٹ کا اطلاق، اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کو سیاسی دباؤ کی نئی شکل قرار دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس، خصوصاً 2026 میں آنکھ کے مرض CRVO کی تشخیص اور اب بشری بی بی کو بھی بینائی کی شکایات نے مزید سیاسی چپقلش کو گہرا کیا ہے، اور جس کو انسانی حقوق کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ طبی سہولیات کی محدود دستیابی نے عالمی سطح پر بھی سوالات اٹھائے۔

بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے بعض نمائندوں نے تنہائی اور طبی غفلت کو انسانی حقوق کے تناظر میں تشویش کا باعث قرار دیا، جبکہ ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹینشن (WGAD) کی رائے کو اس مؤقف کی تقویت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ عمران خان کی قید صرف داخلی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے جیوپولیٹیکل تناظر سے جڑی ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمران خان کا “قصور” یہ تھا کہ وہ افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے، روس سے توانائی لینے کی بات کی، طالبان سے مذاکرات کا راستہ اپنایا، اور مقتدرہ سے آئینی حدود میں رہنے کا مطالبہ کیا۔ عالمی فورم پر اسلاموفوبیا کا مقدمہ لڑا اور اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس طلب کیا۔ اسی تناظر میں مخالف سیاسی قیادت، خاص کر شہباز شریف اور عاصم منیر کے امریکہ سے قریبی تعلقات جیسے ٹرمپ کو نوبل پیس پرائز کی نامزدگی کو بطور تضاد پیش کیا جا سکتا ہے، اور یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا پاکستان کی داخلی سیاست عالمی طاقتوں کے اثر سے آزاد ہے یا نہیں۔

لہٰذا میری دانست میں سیاسی حکمت عملی کے طور پر تحریک انصاف کے لیے ایک مرحلہ وار روڈ میپ بھی تجویز کیا جاتا ہے: پارلیمانی دھرنا، قانونی موبلائزیشن، تنظیمی فعالیت، اور پھر عوامی تحریک کا اعادہ کرنا ضروری اوامر ہیں۔ جب تک منتخب نمائندے فرنٹ لائن پر نہیں آئیں گے، عوامی دباؤ فیصلہ کن نہیں ہو سکے گا۔ یہ بیانیہ ایک حکمتِ عملی کو واضح کرتا ہے:

آئی ایل ایف کے وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور صوبائی ہائی کورٹس کے باہر پُرامن احتجاجی و قانونی آگاہی یا دھرنا کیمپ قائم کرنے کی حکمتِ عملی، عمران خان کی فوری رہائی، بروقت طبی امداد، اور اُن کے وکلاء و اہلِ خانہ سے ملاقات کے حق کو اجاگر کرنے کے لیے قانونی راہنمائی وضع کیا جانا ضروری ہے، تاکہ آئین اور انسانی حقوق کے تحفظ کو عملی طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
اس پورے بیانیے کا اختتام ایک سوال پر ہوتا ہے:
اگر خارجہ پالیسی میں خودمختاری، داخلی سطح پر آئینی بالادستی کا مطالبہ، اور عوامی سیاست کو فروغ دینا جرم قرار دیا جائے، تو پھر عمران خان دراصل کس کا قیدی ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں