لیڈر بننے کا سفر دور اندیشی: مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت(16)-مصور خان

قیادت صرف حال کو سنبھالنے کا نام نہیں بلکہ مستقبل کو پہچاننے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کا ہنر بھی ہے۔ ایک حقیقی لیڈر وہی ہوتا ہے جو آنے والے وقت کی دھند میں بھی واضح راستہ دیکھ سکے، خطرات کو پہلے سے بھانپ لے اور اپنی قوم کو ایسے فیصلوں کی طرف لے جائے جو وقتی نہیں بلکہ دیرپا فائدہ دیں۔ یہی صلاحیت دور اندیشی کہلاتی ہے، اور یہی وہ صفت ہے جو ایک عام رہنما کو ایک عظیم لیڈر میں تبدیل کرتی ہے۔
دور اندیشی دراصل علم و شعور کا اگلا مرحلہ ہے۔ جب ایک لیڈر حالات کو گہرائی سے سمجھ لیتا ہے تو وہ صرف موجودہ مسائل تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سوچتا ہے کہ آج کے فیصلے کل کس شکل میں سامنے آئیں گے۔ ایک غیر دور اندیش لیڈر وقتی فائدہ حاصل کر لیتا ہے، مگر ایک دور اندیش لیڈر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بناتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت دور اندیشی کی سب سے اعلیٰ مثال ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال ہجرتِ مدینہ ہے۔ بظاہر یہ ایک مشکل اور کمزور فیصلہ محسوس ہو سکتا تھا کہ اپنے شہر اور گھر کو چھوڑ دیا جائے، مگر درحقیقت یہ ایک عظیم حکمت عملی تھی۔ آپ ﷺ نے حالات کا درست تجزیہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ مکہ میں رہ کر اسلام کی ترقی ممکن نہیں، اس لیے مدینہ کی طرف ہجرت کی جائے۔ مدینہ جا کر آپ ﷺ نے نہ صرف ایک مضبوط معاشرہ قائم کیا بلکہ ایک ریاست کی بنیاد رکھی جو بعد میں پورے عرب میں پھیل گئی۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک دور اندیش لیڈر وقتی مشکلات کے بجائے مستقبل کے امکانات کو دیکھتا ہے۔
برصغیر میں عبد الغفار خان Khan Abdul Ghaffar Khan (باچا خان)کی قیادت بھی دور اندیشی کی ایک منفرد مثال ہے۔ انہوں نے ایک ایسے معاشرے میں، جہاں تشدد عام تھا، عدم تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر مشکل اور غیر مقبول تھا، مگر وہ جانتے تھے کہ پائیدار امن صرف برداشت، شعور اور تعلیم کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ سوچ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ایک دور اندیش لیڈر صرف آج کے حالات کو نہیں بلکہ آنے والے وقت کے نتائج کو بھی دیکھتا ہے۔
اسی طرح باچا خان کے بیٹے ولی خان  Abdul Wali Khan کی دور اندیشی افغان جنگ کے دوران نمایاں طور پر سامنے آئی۔ جب سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے حصہ لیا تو زیادہ تر لوگ اسے ایک وقتی کامیابی سمجھ رہے تھے، مگر ولی خان نے اس پالیسی کی مخالفت کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ دراصل دو بڑی طاقتوں—امریکہ اور روس—کی جنگ ہے، اور ہم اس میں ایسے ہیں جیسے دو ہاتھیوں کی لڑائی میں ایک مینڈک، جو بے گناہ کچلا جاتا ہے۔ اس سادہ مگر گہری مثال کے ذریعے انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کے اثرات پاکستان کے اندر بھی آئیں گے۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی یہ سوچ درست تھی، اور ملک کو بدامنی، اسلحہ کلچر اور شدت پسندی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ایک دور اندیش لیڈر وقتی فائدے کے بجائے مستقبل کے خطرات کو دیکھتا ہے۔
عالمی سطح پر ڈینگ ژیاؤ پنگ(Deng Xiaoping) کی قیادت بھی دور اندیشی کی ایک شاندار مثال ہے۔ انہوں نے چین میں ایسے معاشی اصلاحات متعارف کروائے جو ابتدا میں غیر روایتی سمجھے جاتے تھے، مگر ان کا مقصد مستقبل کی ترقی تھا۔ انہوں نے وقتی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جنہوں نے چین کو دنیا کی بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک دور اندیش لیڈر فوری ردعمل کے بجائے طویل المدتی نتائج کو ترجیح دیتا ہے۔
اسی طرح   لی کوان یو (Lee Kuan Yew)کی قیادت بھی دور اندیشی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے سنگاپور جیسے چھوٹے ملک کو اپنی منصوبہ بندی، تعلیم پر توجہ اور مضبوط اداروں کے قیام کے ذریعے دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں میں شامل کر دیا۔ ان کی دور اندیشی نے ایک کمزور ملک کو ایک مضبوط اور مستحکم ریاست میں بدل دیا۔
ان تمام مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دور اندیشی کے بغیر قیادت ادھوری ہے۔ ایک لیڈر اگر صرف موجودہ حالات کو دیکھ کر فیصلے کرے تو وہ وقتی کامیابی تو حاصل کر سکتا ہے مگر پائیدار ترقی نہیں لا سکتا۔ اس کے برعکس ایک دور اندیش لیڈر اپنے فیصلوں کے طویل المدتی اثرات کو مدنظر رکھتا ہے اور اپنی قوم کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل فراہم کرتا ہے۔
آج کے دور میں دور اندیشی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں اور عالمی سیاست پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ایک لیڈر کا دور اندیش ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے بچا سکے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکے۔
میری ناقص رائے کے مطابق دور اندیشی وہ صفت ہے جو ایک لیڈر کو عام سطح سے اٹھا کر غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو اسے صرف آج کا نہیں بلکہ کل کا بھی رہنما بناتی ہے۔ ایک دور اندیش لیڈر اپنی قوم کو نہ صرف مشکلات سے نکالتا ہے بلکہ انہیں ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دور اندیشی قیادت کی آنکھ ہے۔ جس طرح آنکھ کے بغیر انسان راستہ نہیں دیکھ سکتا، اسی طرح دور اندیشی کے بغیر لیڈر اپنی قوم کو درست سمت نہیں دے سکتا۔ یہی وہ صفت ہے جو قیادت کو وقتی کامیابی سے نکال کر دائمی کامیابی تک پہنچاتی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں