جس شخص کو کبھی تزکیہِ نفس کی ضرورت محسوس نہ ہو، وہ اپنی غرض سے بے نیاز نہیں ہو سکتا …. اور جب تک کوئی اپنی غرض سے بے نیاز نہ ہو جائے، اخلاص کی خوشبو تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب تک کوئی اخلاص کی دہلیز نہ پائے، محلِ توحید میں کیسے پہنچ پائے …. اسے توحیدِ افکار میسر ہو گی نہ توحیدِ کردار!
یوں تو اخلاص اور تزکیہ دونوں باطنی احوال ہیں، اور ظاہر میں اس کی کوئی سند مہیا نہیں کی جا سکتی، لیکن افکار و کردار میں چند ایسی علامات ضرور ہوتی ہیں جو انسان کے اندر اخلاص کی روشنی منعکس کرتی ہیں اور اس کے باطن میں تزکیے کے مراحل مرتب ہونے کی خوشبو سے عالمِ شہود کو مطلع کر دیا کرتی ہیں۔ عالمِ ظہور میں اشیاءکی ماہیئت اور انسانی وجود میں جذبات کی سمت اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اس عالمِ اسباب میں مثبت کسی منفی کی پہچان ہوتی ہے اور منفی کسی مثبت کی پہچان کے کام آتی ہے۔ خداوندِ متعال ایک ہی وقت میں ایک ہی شئے سے بہت سے کام لے لیتا ہے …. ذالک تقدیر العزیز العلیم۔
اخلاص اپنے مفاد اور مزاج کی نفی کا نام ہے۔ جہاں مفاد کا تعاقب کیا جا رہا ہو اور اپنے مزاج کی بالادستی کا اعلان کیا جا رہا ہو، وہاں اخلاص ڈھونڈنا ایسے ہی ہے جیسے اندھیری رات میں کالی چیونٹی کو ڈھونڈنا۔ اسی طرح تزکیہ نفس لذتِ وجود اور جاہ و منصب کی طلب سے بے نیاز ہوتا ہے۔ نشاطِ و رنگ و بُو سے بے نیازِ آرزو ہونا تزکیہ کے سبب ہوتا ہے، یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بے نیازِ آرزو ہونے کا صلہ تزکیہ ہوا کرتا ہے۔ اس میں سبب کیا ہے اور نتیجہ کیا، اس کا فیصلہ دشوار ہے۔ یہ دنیا عالمِ اسباب ہے۔ یہاں سبب اور نتیجہ نظر تو آتا ہے، لیکن یہ نظر نہیں آتا کہ کس صبح کس سبب کو کیا نتیجہ مہیا کر دیا جائے گا۔ اس عالمِ ایجاد کو ایجاد کرنے والا ہر روز ایک نیا زاویہ ایجاد کرتا ہے۔ ہم پہلے سے دریافت شدہ زاویوں میں مفاہیم قدرت سمجھنے میں مشغول ہوتے ہیں، اور یہ معلوم ہی نہیں پڑتا کہ وہی اسباب عالم جب ایک نئے زاویے میں اکٹھے ہوتے ہیں تو نتیجہ بھی نیا نکلتا ہے …. نتیجہ وہ نہیں نکلتا جو پہلے سے ہم نکالتے چلے آئے ہیں۔ اس کی منشا کو پہنچانے بغیر ہم اپنے زورِ فہم سے کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے۔ یوں اسباب و علل کی کائنات پیدا کرنے والا یہاں اسباب و علل کی دنیا میں خلل پیدا کیے بغیر ہی اپنی منشا کو ظہور میں لے آتا ہے۔
خدا عادل ہے، وہ عدل کا حکم دیتا ہے۔ بندہ اپنے نفس کی دنیا میں رہتا ہے، اپنے مفاد اور مزاج کی تسکین چاہتا ہے …. اور یہ ایک ظلم ہے۔ تزکیہِ نفس اس لیے بھی چاہیے کہ تزکیہ کے بغیر کوئی شخص عدل نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی پسند اور ناپسند ستاتی رہے گی، یاد آتے رہے گی، وہ مقامِ عدل پر فائز نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں ہے کہ اگر مقابل میں کوئی دشمن قوم بھی ہو تو اس کی دشمنی تمہیں عدل سے معزول نہ کرے۔ تزکیہِ نفس کے بغیر انسان کی دوستی اور دشمنی برائے نفس ہوتی ہے، برائے حق نہیں۔ اپنے نفس کی پہچان بھی تزکیہِ نفس کے بعد ہے۔ ایک غیر مزکی شخص خود کو پہچان سکتا ہے، نہ خدا کو۔ خدا کا رنگ پہچاننے کے لیے اپنے رنگ رنگ کے مفادات سے نجات لازم ہے۔ خدا کے رنگ سے بہتر بھلا اور کس کا رنگ ہو سکتا ہے۔
اپنے مفاد کی دنیا میں بسر کرنے والا ہر اس شخص کو دوست سمجھے گا جو اس کے مفاد کی تکمیل میں معاون ہو یا معاون ہو سکتا ہو؛ وہ ہر اس شخص کو دشمن تصور کرے گا جو اس کے تخمینے کے مطابق اس کے مفاد کی راہ میں رکاوٹ کھڑی سکتا ہے۔ یہی تو عجب بات کہ جھوٹا آدمی سچے کو دشمن سمجھتا ہے، لیکن سچا جھوٹے کو دشمن نہیں سمجھتا، بلکہ محض کم فہم جانتا ہے اور اسے ہر وقت معاف کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔
اسی طرح اپنے مزاج کے بندی خانے کا اسیر اپنے مزاج کے حکم پر چلنے میں راحت محسوس کرتا ہے اور خدا کے حکم پر چلنا اسے کارِ دشوار محسوس ہوتا ہے۔ اپنے مزاج کا اظہار دراصل انسانوں کی دنیا میں اپنی انا کا اظہار ہوتا ہے۔ ”مجھے یہ پسند نہیں ہے“، ”مجھے وہ پسند نہیں ہے“ جیسے جملے دراصل غرور اور تکبر کا اظہار ہیں۔ وگرنہ خدا کے بندے کو یہ کہاں جائز ہے کہ وہ خدا کے کسی دوسرے بندے کو ناپسند کرے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے: غلام دوسروں کی غلامی کا فیصلہ نہ کرے۔
جب تک تزکیہ نہ ہو جائے ہمارے اخلاص کی کوئی سند معتبر نہیں ہوتی۔ جیسے جیسے ہم تزکیہ میں آگے بڑھتے ہیں، ویسے ویسے ہم اخلاص کا در وا ہونے لگتا ہے۔ اگر ہمارے پاس اخلاص نہیں تو باطن کی دنیا میں کچھ بھی ہمارے پاس نہیں۔ اخلاص ہی وہ دروازہ ہے جو باطن کی دنیا کی طرف کھلتا ہے۔ باطن تقاضا ہے کہ ظاہر کی طرف پشت کر لی جائے۔ ظاہری مفاد کو تیاگ کر آنے والا ہی یہاں اپنے استقبال کا استحقاق رکھتا ہے۔
دین …. اخلاق اور اخلاص کا مرقع ہے۔ اخلاق …. مخلوق کے ساتھ اور اخلاص اپنے رب کے ساتھ۔ اخلاق اور اخلاص بظاہر دو مختلف الفاظ ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے بغیر مکمل معنی نہیں دیتے۔ اخلاق سے اخلاص نکال دیا جائے تو منافقت بچتی ہے۔ دوسری طرف اخلاص اخلاق کے بغیر قابلِ قبول نہیں ٹھہرتا …. کیونکہ اخلاص کی تصدیق اخلاق کرتا ہے۔ اخلاق اگر بربنائے مفاد ہو تو اسے سیاست کہتے ہیں یا تجارت ہے۔ یعنی آج میں اس سے اخلاق سے پیش آتا ہوں، کل مجھے بھی وہ اخلاق سے پیش آئے گا۔ آج میں اس کے لیے دروازہ کھولتا ہوں کل میرے لیے بھی اس کے ہاں دروازے کھلے ملیں گے۔ یہ مخلوق کے ساتھ ایک کاروباری سودا ہے اور اس میں اکثر مندی کا سامنا پیش آتا ہے۔ ہاں! اخلاق برائے خدا ایک واحد کھرا سودا ہے، یہ وہ تجارت ہے جس میں کوئی خسارہ نہیں، کیونکہ برائے خدا کیا گیا کام مخلوق سے صلہ پانے سے بے نیاز ہوتا ہے …. وہ مخلوق سے سند چاہتا ہے، نہ خلقِ خدا میں پذیرائی کی تمنا اس کے دل میں پلتی ہے۔ اس کا سودا براہِ راست اپنے خدا کے ساتھ ہے۔ وہ مہمان کا اکرام اس لیے کرتا ہے کہ یہ اللہ اور رسول کا حکم ہے، وہ اپنے گاہک کے ساتھ اس لیے دیانت دار نہیں کہ اس کی کاروباری ساکھ بہتر ہو جائے، بلکہ اس کی دیانت کا مدعا رب اور رسول کی خوشنودی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے رسول کے ہاں اچھے اُمّتیوں میں شمار کیا جائے۔ اب کسی کام میں نفع و نقصان اس کا محرک نہیں، بلکہ محرکِ اولیٰ رب اور رسول کی رضا کا حصول ہے۔ رضا کا مسافر ہر حال میں راضی ہے۔ وہ نفع پر شکر ادا کرتا ہے اور نقصان پر صبر سے کام لیتا ہے۔ اس کے لیے دونوں حالتیں قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں۔


