پاکستان کی سفارت کاری- خلیجی جنگ کے تناظر میں/عامر کاکازئی

پاکستان کی سفارتکاری 2026 کی خلیجی بحران یا جنگ میں کچھ اس طرح سے ہے کہ وہ کسی کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبدار ہے، مسلسل رابطوں (شٹل سفارتکاری) کے ذریعے معاملات سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو فریقین کے درمیان صلح کروا کر خود کو امن کا ثالث کہلوا سکے۔ اگر ہم پاکستان کی امن کے لیے کوششوں پر نظر ڈالیں تو مندرجہ زیل چار پوئینٹس پر پاکستان نے پیش قدمی کی ہے۔ ۱۔ حملوں کی مذمت : پاکستانی سرکار نے نا صرف امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کی مذمت کی بلکہ ، اسکے ساتھ ساتھ ایرانی جوابی حملوں (جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر سمیت خلیجی ریاستوں پر ہوئے) پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات (خاص طور پر پاکستان-سعودی باہمی دفاع کے حالیہ معاہدے) کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا کھلے الفاظ میں اظہار کیا گیا، لیکن کسی فوجی اتحاد میں شامل ہونے یا فوجیں بھیجنے سے بھی انکار کیا۔ ۲۔ ثالثی بزریعہ خفیہ سفارت کاری : پاکستان نے اپنی منفرد جغرافائی اور دوستانہ حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھایا، وہ ایسے کہ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر مشترکہ سرحد، خلیجی عرب ریاستوں سے قریبی تعلقات، اور امریکہ کے ساتھ بہتر روابط نے امن کی طرف پیش قدمی میں مدد دی۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان خفیہ پیغامات ٹرانسفر کیے ، بشمول امریکہ کے مبینہ 15 نکاتی سیز فائر فریم ورک کی ترسیل اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور امریکی حکام سے براہ راست ٹیلی فونک رابطے بھی کرواۓ۔ ۳۔ علاقائی سفارتکاری کانفرنس: مارچ 2026 کے آخر میں پاکستان نے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کروایا، تاکہ تنازعہ کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ وزیر خارجہ اسحاق دار نے بار بار اسلام آباد کو امریکہ-ایران براہ راست یا سہولت کار بات چیت کے لیے مقام پیش کیا ہے اور کہا کہ “ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے”۔ دوسری طرف چین نے پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کی۔ ۴۔ اقوام متحدہ اور پاکستان : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے سفیر نے خلیج تعاون کونسل کو “علاقائی استحکام کا ستون” قرار دیا،ُ ایک طرف خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی تو دوسری طرف خبردار بھی کیا کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے ایک انٹرنیشنل بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا کہ فوری جنگ بندی کی جاۓ اور جامع امن مذاکرات شروع کئے جائیں۔ پاکستان نے فوری آپسی مذاکرات پر زور دیا اور ساتھ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوے مزید تباہی سے گریز کیا جاۓ۔ اگر ہم پورے مضمون کو مختصرً بیان کریں تو وہ کچھ اس طرح سے ہو گا کہ “ پاکستان اس وقت ایک جرأت مندانہ، سفارتی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ خلیجی ممالک، چین، ایران اور امریکہ کے ساتھ بہت مشکل سے توازن برقرار رکھ رہا ہے۔ یوں سمجھیں کہ پلِ صراط سے گزرتے ہوۓ اور علاقے کی سلامتی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی سفارتی حیثیت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاکہ جو حیثیت وہ پچھلی حکومت میں کھو چکا تھا اب امن ساز کی حیثیت سے اپنا کردار کو دنیا کے آگے منوا سکے۔ شاید مستقبل میں پاکستان کو Ambassador of Peace کا خطاب مل سکے۔ انشاء اللہ

اپنا تبصرہ لکھیں